03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں تمہیں چھوڑ دوں گا کہنے کا حکم
84617طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کچھ دن پہلے میری اپنی بیگم سے لڑائی ہوگئی ، تو میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہہ دیے کہ زیادہ تنگ مت کرو ، ورنہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، اور اس بات پر گواہ میرا بڑا بیٹا اسود ہے ، اور یہ میں حلفیہ بیان دے رہاہوں۔برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں لفظ ”تنگ مت کرو ،ورنہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا“ یہ دھمکی آمیز جملہ ہے ، اور مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی پرمشتمل ہے،  اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،  تاہم گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔

حوالہ جات

فقال الزوج أطلق (طلاق می کنم) فکررہ ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قولہ: سأطلق (طلاق می کنم) لأنہ استقبالٌ فلم یکن تحقیقا بالشک․ (الہندیة: 1/ 384(

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

25   ٖمحرم الحرام1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب