03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اللہ توکافروں کو دیتا ہے، فرعون کو دیتا ہے،میں کافر ہوں، مجھے کیوں نہیں دیتا؟” کہنا
84403ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

میرے شوہر مالی طور پر پریشانی کی وجہ سے بہت غصے میں تھے   اور قرضہ لینے والے کی کال سننے کے بعد اس نے یہ الفاظ کہے، جبکہ میں نے  اسی  کمرہ سے باہر جس میں وہ بات کر رہا تھا گیلری میں کھڑے ہو کر اس کی یہ بات سنی کہ اس نے یہ کہا ہے کہ "اللہ تو کافروں کو دیتا ہے، فرعون کو دیتا ہے، ہامان کو دیتا ہے، میں بھی کافر ہوں، مجھے کیوں نہیں دیتا؟"

اب اس کے بعد وہ بیرون ملک چلا گیا اور  رابطہ صرف ٹیکسٹ میسج کی حد تک رہا، وہ بھی مہینے میں ایک دو دفعہ میرے ذہن میں یہ بات چلتی رہتی تھی کہ اس نے یہ کہا ہے،  لیکن میں نے کسی کو بتایا نہیں، چار سال گزرنے کے بعد جب مجھے  یہ پتا چلا کہ اس نے یہ کفریہ کلمات کہے ہیں تو میں نے مفتیان کرام سے فتویٰ لیا تو انھوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اس کا اسلام و نکاح ختم ہو گیا ہے ۔اب پانچ سال بعد واپس آکر وہ قسمیں اٹھارہا ہے  کہ( میں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تو کافروں کو دیتا ہے،  مجھے کیوں نہیں دیتا؟  اور قسم اٹھائے کہ میں نے اس سے آگے یہ  نہیں کہا کہ "میں کافر ہوں"،تمھارے سننے میں غلطی ہے۔

شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کا نکاح ختم ہو گیا ہے ؟میں اب دوبارہ اس کے ساتھ تجدید نکاح کرسکتی ہوں، مجھے شریعت کا حکم بتائیں کہ کیا نکاح ختم ہو گیا ہے؟

وضاحت: سائلہ نے بتایاکہ  میں حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ اس نے "میں بھی کافر ہوں" کے الفاظ بھی کہے ہیں اور اس سے پہلے لاہور کے مفتیانِ کرام سے فتوی لیا تھا، انہوں نے کفر کے صدور کا فتوی دینے کے ساتھ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کا بھی حکم دیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکورآپ کے بیان کے مطابق اگر واقعتاً شخصِ مذکور نے یہ الفاظ کہ"اللہ تو کافروں کو دیتا ہے، فرعون کو دیتا ہے، ہامان کو دیتا ہے، میں بھی کافر ہوں، مجھے کیوں نہیں دیتا؟" کہے ہیں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور فریقین کے درمیان نکاح  اسی وقت ختم ہو چکا تھا اور عورت کی عدت شروع ہو چکی تھی، لہذا شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ وہ تجدیدِ ایمان کرے اور اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے ایسے کفریہ الفاظ کہنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے، نیز اگر فریقین دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو تجدیدِ ایمان کے بعد باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ اور اگر عورت اس شخص سے دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تو عدت مکمل ہونے کی صورت میں وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے۔

نیز اگر بالفرض اس معاملے پر آپ کے پاس گواہ نہ ہوں تو بھی عورت "المرٲة کالقاضی" کے اصول کے تحت دیانتاًظاہری صورتِ حال کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ دیانات میں تنہا عورت کا قول بھی معتبر ہے،  اس لیے اگر واقعتاً  آپ نے یہ الفاظِ کفر اپنے شوہر سے سنے ہیں تو آپ کا شخصِ مذکور کے ساتھ تجدیدِ ایمان  اورتجدیدِ نکاح کےبغیراکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 222) دار الفكر-بيروت:

"وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد. (قوله: من هزل بلفظ كفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، وهذا لاينافي ما مر من أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار لأن التصديق، وإن كان موجوداً حقيقةً لكنه زائل حكماً؛ لأن الشارع جعل بعض المعاصي أمارة على عدم وجوده كالهزل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقاً لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله: للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفافاً واستهانةً بالدين فهو أمارة عدم التصديق، ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة.

وكذا مخالفة أو إنكار ما أجمع عليه بعد العلم به لأن ذلك دليل على أن التصديق مفقود، ثم حقق أن عدم الإخلال بهذه الأمور أحد أجزاء مفهوم الإيمان فهو حينئذ التصديق والإقرار وعدم الإخلال بما ذكر بدليل أن بعض هذه الأمور، تكون مع تحقق التصديق والإقرار، ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ.

قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه

 لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف  للتصديق (قوله: فهو ككفر العناد) أي ككفر من صدق بقلبه وامتنع عن الإقرار بالشهادتين عنادا ومخالفة فإنه أمارة عدم التصديق."

المسامرة في شرح المسايرة في علم الكلام  (ص: 287) أبو المعالي كمال الدين بن أبي شريف المقدسي (906 ھ):

(وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب) على القول بأنه مسمى الإيمان (أو) إلى التصديق (بها) أي بالقلب وللسان (في تحقق الإيمان وإثباته أمور) رفع بقوله ضم نائبا عن الفاعل (الإخلال بها) أي بتلك الأمور (إخلال بالإيمان اتفاقا كترك السجود للصنم وكقتل نبي) كذا في نسخ المتن وهو سهو واللائق حذف الكاف بأن يقال وقتل نبي عطفا على السجود أي وكترك قتل نبي (أو الاستخفاف به أو) الاستخفاف (بالمصحف والكعبة) ولو عطف الجميع بالواو وأعاد الباء في الكعبة ليكون المعنى وترك الاستخفاف به وترك الاستخفاف بالمصحف وترك الاستخفاف بالكعبة فيشعر باستقلال ترك الاستخفاف بكل منها بالحكم لكان أولى (وكذا) أي وكما مر من أن ارتكاب أحد الأمور مخل بالإيمان ومرتكبه كافر (مخالفة ما أجمع عليه) من أمور الدين بعد العلم بأنه مجمع عليه (وإنكاره) أي إنكار ما أجمع عليه (بعد العلم به) أي بأنه مجمع عليه.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (10/ 11) دار الفكر،بيروت:(قوله ويقبل فيها قول العبد والحر والأمة إذا كانوا عدولا) أقول: لا يخفى على ذي فطرة سليمة أن ذكر الحر هاهنا خال عن الفائدة، إذ لا يشتبه على أحد قبول قول الحر في كل أمر خطير إذا كان عدلا، بخلاف العبد والأمة، ولعل صاحب الكافي ذاق بشاعة ذكر الحر هاهنا فقال: ويقبل فيها قول العبد والأمة إذا كانا عدلين بدون ذكر الحر. قال صاحب العناية في شرح هذا المقام: وقوله ويقبل فيها: أي في الديانات قول الحر والعبد والأمة لأن خبر هؤلاء في أمور الدين كخبر الحر إذا كانوا عدولا كما في رواية الأخبار انتهى.

حمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب