03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متولی کی جانب سے متعین افراد کو تبدیل کرنا
83687وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

4۔اگر بانی /متولی کے دستور کے مطابق متعین کردہ افراد میں سب یا چند اس منصب کے اہل نہ ہوں،یا اب نہ رہیں تو کیا وہ قابل عزل ہیں؟

9۔کیا بانی/متولی کے دستور کے مطابق متعین افراد کو تبدیل کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جن افراد کو واقف نے بطور متولی نامزد کیا ہے انہیں کو اس ادارے کی تولیت کا حق حاصل ہے،البتہ اگر وہ حقیقت میں اس ادارے کا انتظام و انصرام سنبھالنے کا اہل نہ ہوں،یا واضح طور پر ان کی جانب سے خیانت اور غفلت سامنے آئے اور تنبیہ کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر انہیں معزول کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (4/ 379):

"(جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان وإلا فللحاكم فتاوى ابن نجيم وقارئ الهداية وسيجيء (وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ:" مطلب يأثم بتولية الخائن (قوله: وينزع وجوبا) مقتضاه إثم القاضي بتركه والإثم بتولية الخائن ولا شك فيه بحر. لكن ذكر في البحر أيضا عن الخصاف أن له عزله أو إدخال غيره معه، وقد يجاب بأن المقصود رفع ضرره عن الوقف، فإذا ارتفع بضم آخر إليه حصل المقصود قال في البحر: قدمنا أنه لا يعزله القاضي بمجرد الطعن في أمانته بل بخيانة ظاهرة ببينة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/شوال1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب