| 84476 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میں نے کچھ رقم نیشنل بینک آف پاکستان کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھوانی ہے، اس سے جو ماہانہ پرافٹ آتا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نیشنل بینک کی اعتماد کے نام سے ایک اسلامک ونڈو (Islamic Window) ہے، جس کے این بی پی فنڈ (NBPF)کے سیونگ اکاؤنٹ میں آپ رقم رکھوا سکتی ہیں اور چونکہ اس اسلامک ونڈو کے مالی معاملات کی نگرانی ماہر مفتیان کرام کر رہے ہیں، اس لیے اس سے حاصل شدہ شدہ نفع جائز اور حلال ہے، اسی طرح کسی اوراسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں بھی رقم رکھوا کر نفع لینا جائز ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل بینک سمیت کسی بھی کنوینشنل یعنی سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوا کر اس پر نفع حاصل کرنا ہرگزجائز نہیں، کیونکہ اس میں سودی معاہدہ ہوتا ہے اور سودی معاہدہ کے تحت حاصل شدہ پرافٹ شرعاً حرام ہے۔
حوالہ جات
القرآن الكريم [البقرة: 277 - 279]:
{ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ279}
مسند أحمد ت شاكر (4/ 43) دار الحديث – القاهرة:
حدثنا حَجَّاج أنبأنا شريك عن سماك عن عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود عن أبيه عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قالَ: "لعن الله اكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه"، قال: وقال: "ما ظهر في قوم الربا والزنا إلا احلُّوا بأنفسهم عقابَ الله عز وجل".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


