03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اولاد کو جائیداد دینے کا حکم
84475ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے پہلے شوہر سے تین بچے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ان سے تھے، جو شوہر کے انتقال کے  وقت چھوٹے تھے، میں نے ہی ان کی پرورش کی،عدت کے پانچ سال بعد میں نے دوسرا نکاح کیا، دوسرے شوہر سے میرے دو بچے ہیں، جن میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے ، اب میں اپنے بیٹے کے حصہ مانگنے پر یہ گھر بیچنا چاہتی ہوں ، اس کی قیمت پچپن لاکھ روپیہ ہے، کیا یہ گھر میرے پانچوں بچوں میں تقسیم ہوگا؟ اگر ہو گا تو کیا میں اپنے حق مہر کی رقم اس میں سے نکال سکتی ہوں؟ نیز اس میں میرا کتنا حصہ ہو گا؟ اس کے علاوہ بروکری کی رقم اور یوٹیلٹی بلز وغیرہ بھی اسی میں سے نکالے جائیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اپنی جائیداداولاد کو دینا  دراصل ہبہ (گفٹ) ہے نہ کہ میراث۔  اورہبہ کے بارے میں اگرچہ شرعاً اور قانوناً والدہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ جتنی جائیداد چاہے اولاد کو دے اور جتنی چاہے اپنے پاس رکھے، کیونکہ زندگی میں ہر شخص اپنے مال و جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، تاہم اگروالدیاوالدہ زندگی میں اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس بارے میں شریعت کا اصول  یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر حصہ دے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت  آدھا حصہ دیا جائے، لیکن اگر کسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت، دینداری یا مالی حالت کی تنگی کی بنیاد پر اس کو کچھ حصہ زیادہ دےدیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔

 لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ اس مکان کی رقم میں سے جتنا حصہ چاہیں اپنے پاس رکھ سکتی ہیں اور بروکر کا کمیشن اور یوٹیلٹی بلز وغیرہ بھی اس مکان کی رقم میں سے نکال سکتی ہیں۔ بقیہ رقم  اپنے پانچوں بچوں  كوبرابر یا کم از کم ہر بیٹی کو ہر بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دیں، البتہ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی تنگدست ہو یا دینی خدمت میں مشغول ہو تو اس کو کچھ زیادہ بھی دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب