| 84440 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری والدہ، کینسر کی مريضہ تھیں، 7 مئی 2024 کو ان کی سرجری ہوئی اور ٹیومر کامیابی کیساتھ نکال دیا گیا، بعدازاں اللہ کے کرم سے روبہٴ صحت ہوئیں اور انتقال سے ایک رات قبل تک بلکل صحیح طبیعت و کیفیت میں موجود تھیں۔11 جولائی 2024 بروز جمعرات صبح سوا سات بجے کے قریب میری والدہ کا انتقال ہوا، ڈاکٹرز نے دل کی دھڑکن رک جانے کی وجہ بتائی۔
میری والدہ کے وارثین میں میرے والد جو گزشتہ پندرہ سالوں سے فالج کے مریض ہیں، چار بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، چاروں بیٹے پاکستان اور دونوں بیٹیاں کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔
میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں میں سب سے چھوٹا ہوں، میں اور میرے اہلخانہ گزشتہ کئی برسوں سے والدین کیساتھ رہائش پذیر ہیں، جس کی بنیادی وجہ، میرے والدین کا طبی و روز مرہ کی دیکھ بھال کے معاملے میں ہم سے مطمئن اور بے فکر ہونا بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے۔والد اور والدہ میرے ساتھ اکثر اپنے دل کی بات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے والدہ کی جانب سے کچھ باتوں کا جو وراثت کی وصیت سے متعلق ہیں، میں امین بھی ہوں۔مندرجہ ذیل میں حالات و واقعات، بمع سوالات موجود ہیں، آپ سے دست بستہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کے جوابات مرحمت فرمائیں۔
معاملہ نمبر 1:
میری والدہ کے پاس چار لاکھ روپے نقد موجود تھے، جو وہ پیچھے چھوڑ کر گئی ہیں۔ اپنی زندگی میں غالبا دو ماہ پہلے، انہوں نے اپنی بیماری کے پیش نظر مجھ سے ذکر کیا کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے، تو یہ چار لاکھ روپے میرے تمام بیٹوں کے درمیان مساوی تقسیم کردینا، یعنی ایک ایک لاکھ چاروں کو دے دینا۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ ایسی باتیں نہ کریں، ان پیسوں کو سنبھال کر رکھیں، یہ آپ کے علاج معالجے میں کام آئیں گے، ابھی یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔ بہرحال یہ بات آئی گئی ہوگئی، اس کے بعد انتقال سے پہلے تک اس موضوع پر پھر کبھی بات نہ ہوئی۔
معاملہ نمبر 2:
میری والدہ کچھ زیورات کی مالک تھیں، جن میں دیگر زیورات کیساتھ چھ سونے کی چوڑیاں اہمیت رکھتی ہیں۔ اپنی زندگی میں ان کی خواہش تھی کہ یہ چوڑیاں وہ اپنی پوتیوں کو دیدیں۔ مندرجہ ذیل میں وہ واقعات بیان کرنا چاہوں گا جو ان کا احوال سمجھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ا۔ سب سے بڑے بھائی متین احمد کی دو بیٹیاں ہیں، والدہ نے انہیں جب دو چوڑیاں دیں تو انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے انہیں منع کردیا کہ ہمیں یہ چوڑیاں نہیں چاہئیں، یہ آپ کی بیٹیوں کے کام آئیں گی (بڑے بھائی اپنی بہنوں سے کچھ ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر ناراضگی رکھتے ہیں)۔ بعدازاں امی نے کئی بار کوشش کی مگر ہر بار انکار ملا۔
ب۔ دوسرے بڑے بھائی نعیم احمد کی ایک بیٹی ہے، جب والدہ نے دو چوڑیاں ان کے حوالے کیں تو انہوں نے انکار نہ کیا، بلکہ ان کی زندگی میں دونوں چوڑیاں لے لیں۔
ج۔ تیسرے بھائی ندیم احمد کی ایک بیٹی ہے، جب والدہ نے انہیں دو چوڑیاں دینے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف انکار کردیا کہ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ بعدازاں والدہ نے کئی بار ان سے بات کی مگر ہر بار انکار ملا۔ بعدازاں انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ مجھے والدین کے مال میں سے اب کچھ بھی نہیں چاہئے اور نہ ہی میری زوجہ اور بچے اس مال پر دعوی کرنے کے حق دار ہوں گے۔
ان چھ سونے کی چوڑیوں میں سے بقایا چار چوڑیوں کی بابت اور دیگر معاملات کے پیش نظر آج سے کچھ ڈیڑھ یا دو ماہ پہلے، میری اپنی والدہ سے گفتگو بھی ہوئی، اس وقت بھی میں نے انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ جس کسی کو بھی آپ نے کچھ دینا ہے، اپنی حیات میں ہی دے دیں، کہیں بعد میں مسائل پیدا نہ ہوجائیں۔ بیان کیے گئے دونوں حالات و واقعات کے تناظر میں سوالات مندرجہ ذیل ہیں:
سوال نمبر 1: مندرجہ بالا صورتحال آپ کے سامنے ہے، لہٰذا یہ بتائیے کہ کیا میری والدہ کی یہ دونوں خواہشات (یعنی رقم اور بقایا چوڑیوں کی تقسیم)، وصیت کے طور پر مانی اور پوری کی جائیں یا پھر شرعی وراثتی احکامات کےمطابق وارثین میں تقسیم کی جائیں؟
سوال نمبر 2: والدہ کی وراثت یا ترکے کی وارثین میں شرعی تقسیم کا طریقہ کار بھی بیان کردیں تاکہ کہیں کوئی کمی یا کوتاہی نہ رہ جائے۔
سوال نمبر 3: جس طرح تیسرے بھائی ندیم احمد نے وراثت یا ترکہ میں سے مال یا حصہ لینے سے انکار کیا ہے، اس بابت شرع میں کیا حکم ہے؟ کیا کوئی شخص اس طرح وراثت معاف یا چھوڑ سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق مرحومہ کے ترکہ میں موجود کسی بھی مال پر وصیت کے احکام جاری نہیں ہوں گے، کیونکہ انہوں نے چار لاکھ نقدی کے بارے میں کہا تھا کہ "اگر مجھے کچھ ہو جائے تو یہ میرے چاروں بیٹوں کو دے دینا" یہ وصیت کے الفاظ ہیں، مگر شرعی اعتبار سے وارث کے حق میں وصیت کرنا درست نہیں، اس لیے یہ وصیت نافذ العمل نہیں ہو گی۔ البتہ اگر تمام ورثاء اپنی رضامندی سے یہ رقم ان بیٹوں کو دے دیں تو یہ جائز ہے، کیونکہ وارث کے لیے کی گئی وصیت پر تمام ورثاء کی رضامندی سے عمل کرنا درست ہے۔اس کے علاوہ چوڑیوں کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ "زندگی میں ان کی خواہش تھی کہ یہ ان کی پوتیوں کو دی جائیں" یہ بھی وصیت کے الفاظ نہیں ہیں، کیونکہ زندگی میں محض خواہش کے اظہار سے وصیت ثابت نہیں ہوتی، اس لیے چار لاکھ روپیہ نقدی اور مذکورہ چوڑیاں مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوں گی۔ البتہ جو چوڑیاں انہوں نے زندگی میں اپنی پوتیوں کو مالک اور قابض بنا کر دے دی ہیں وہ پوتیاں مرحومہ کی زندگی میں ان چوڑیوں کی مالک بن گئی تھیں، لہذا ان چوڑیوں پر وراثت کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔
الفتاوى الهندية (6/ 90) دار الفكر، بيروت:
" الإيصاء في الشرع تمليك مضاف إلى ما بعد الموت يعني بطريق التبرع سواء كان عينا أو منفعة، كذا في التبيين أما ركنها فقوله أوصيت بكذا لفلان وأوصيت إلى فلان ............ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين. ولاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ولو أوصى بجميع ماله وليس له وارث نفذت الوصية ولا يحتاج إلى إجازة بيت المال، كذا في خزانة المفتين. ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة. ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان. "
2۔ مرحومہ نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھا حصہ مرحومہ کے شوہرکو دینے کے بعد باقی ترکہ کو بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگناہ حصہ ملے، لہذا مرحومہ سے متعلق پیچھے ذکر کیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو چالیس (40) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحومہ کے شوہرکو دس(10) حصے، ہر بیٹے کو چھ (6) حصے اورہربیٹی کوتين(3) حصے دیے جائيں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر |
10 |
25% |
|
2 |
بیٹا |
6 |
15% |
|
3 |
بیٹا |
6 |
15% |
|
4 |
بیٹا |
6 |
15% |
|
5 |
بیٹا |
6 |
15% |
|
6 |
بیٹی |
3 |
7.5% |
|
7 |
بیٹی |
3 |
7.5% |
3۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے والدہ کی زندگی میں یہ الفاظ کہے تھے کہ "مجھے والدین کے مال میں سے اب کچھ بھی نہیں چاہئے اور نہ ہی میری زوجہ اور بچے اس مال پر دعوی کرنے کے حق دار ہوں گے۔" اور زندگی میں چونکہ والدہ کے مال کے ساتھ کسی وارث کا حق متعلق نہیں تھا، اس لیے یہ الفاظ کہنے کا اعتبار نہیں ہو گا، نیز اگر اس نے والدہ کی وفات کے بعد کہا ہو تو بھی وراثت چونکہ حقِ جبری ہے، جو معاف کرنے سے شرعا معاف نہیں ہوتا، بلکہ معاف کرنے کے باوجودحقِ وراثت بدستور باقی رہتا ہے۔ اس لیے یہ الفاظ کہنے
سے مذکورہ بیٹے کا حقِ وراثت ختم نہیں ہوا۔البتہ اگر یہ بیٹا اپنے حصہٴ وراثت میں سے کچھ لے کر بقیہ معاف کر دے یا مکمل حصے لے کرقبضہ کرنے کے بعد کسی وارث کو ملکیتاً دیدے تو اس کا حقِ وراثت ختم ہو جائے گا۔
نوٹ: ترکہ معاف کرنے سے معاف نہ ہونے کی شرعی وجہ یہ ہے کہ ترکہ میں عام طور پر اعیان اور دیون ہوتے ہیں۔ اگر ترکہ میں اعیان یعنی سامان ہو تو اس سلسلے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ عین چیز معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح دوسرا شخص اس کا مالک بنتا ہے، بلکہ اس چیز سے اپنی ملکیت ختم کرنے اور اس کا کسی کو بلا عوض مالک بنانے کے لیے ہبہ کے طور پر دینا ضروری ہے اور اگر ترکہ دیون یعنی کسی کے ذمہ قرض کی شکل میں ہو تو وہ مقروض کو تو معاف کرنے سے معاف ہو جاتا ہے، لیکن مقروض کے علاوہ کسی وارث کو معاف کرنے یا مالک بنانے سے حق ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اس صورت میں تملیک الدین من غیر من علیہ الدین(مدیون کے علاوہ کسی شخص کو دین یعنی قرض کا مالک بنانا) کی خرابی لازم آتی ہے، جو کہ فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔البتہ ترکہ تقسیم ہونے کے کے بعد اگر کوئی وارث کسی دوسرے وارث کو اپنے حصے کا قرض وصول کرنے کا وکیل بنائے اور پھر وکیل کے قبضہ کرنے کے بعد اس کو مالک بنا دے تو اس صورت میں دوسرا وارث وصول شدہ قرض کی رقم کا مالک بن جائے گا۔
حوالہ جات
القرآن الكريم: [النساء: 12]
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ} فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ .
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 272) دار الكتب العلمية، بيروت:
ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود:
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 354) أحمد بن محمد الحموي الحنفي د ار الكتب العلمية، بيروت:
لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء.............. قال أحد الورثة برئت من تركة أبي؛ يبرأ الغرماء عن الدين بقدر حقه لأن هذا إبراء عن الغرماء بقدر حقه فيصح ولو كانت التركة عينا لم يصح. ولو قبض أحدهم شيئا من بقية الورثة وبرئ من التركة وفيها ديون على الناس لو أراد البراءة من حصة الدين صح لا لو أراد تمليك حصته من الورثة لتمليك الدين ممن ليس عليه، ثم ذكر ما ذكره المصنف هنا من
قوله: لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصح ومن دعوى الأعيان تصح.
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار (8/ 199) علاء الدين محمد بن محمد أمين المعروف بابن عابدين (المتوفى: 1306هـ) دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت:
قال أحد الورثة لا دعوى لي في التركة لا تبطل دعواه،آ لان ما ثبت شرعا من حق لازم لا يسقط بالاسقاط.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 261) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
أن الوكيل في القبض عامل للموكل فيصير قابضا بقبض الوكيل حكما .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


