| 84491 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
(1)۔۔۔ اگر ایک آدمی اپنی زمین میں فصل کاشت کرے اور پھر اس کو پکنے کے بعد یا پکنے سےپہلے بیچ دے تو اس کا عشر بائع پر ہوگا یا مشتری پر؟ ہمارےیہاں بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ فصل جب بائع نے لگائی ہے تو چاہے پکنے سے پہلے بیچے یا بعد میں، اس کا عشر بہر صورت بائع پر ہوگا؛ کیونکہ زراعت اس نے کی ہے اور عشر کا تعلق زراعت سے ہے۔ مشتری جب فصل خریدتا ہے تو یہ تجارت ہے اور تجارت میں عشر نہیں، زکوۃ ہوتی ہے، لہٰذا اس پر عشر کسی صورت میں نہیں آئے گا، بلکہ اس کو فصل کاٹنے اور بیچنے کے بعد جو رقم ملے گی، وہ سال گزرنے پر اپنے دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ اس کی زکوۃ دے گا۔ کیا ان حضرات کی یہ بات درست ہے؟
(2)۔۔۔ ہمارے علاقہ میں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، لوگ اس کو پکنے سے پہلے بیچتے ہیں اور پکنے کے بعد پھر کاٹتے ہیں، لیکن بایع مشتری سے قیمت بہت زیادہ لیتا ہے، آگے جا کر مشتری کو کچھ خاص نفع نہیں ہوتا۔ مثلا ہمارا ایک معاملہ ہوا، اس میں مشتری نے تمباکو کی فصل پکنے سے پہلے آٹھ لاکھ میں خریدی اور پکنے کے بعد جب کاٹ دی تو وہ کل بارہ لاکھ روپے میں فروخت ہوئی، اب اس میں سے آٹھ لاکھ مشتری نے بائع کو دئیے، جبکہ ڈھائی لاکھ تک تمباکو کو بیچنے سے پہلے بھٹی میں پکانے کے لیے لکڑیوں اور مزدور وغیرہ پر خرچ ہوئے، مشتری کو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ روپے ملے، اب اگر اس میں سے وہ عشر بھی دے تو اس کے پاس صرف تیس ہزار روپے بچ جائیں گے، گویا اس کا نفع نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ عشر بائع پر ہوگا یا مشتری پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ اگر آپ کے علاقے میں واقعتًا بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ فصل کی خرید و فروخت کی صورت میں عشر بہر صورت بائع پر واجب ہوگا؛ مشتری پر عشر کسی صورت میں واجب نہیں ہوگا تو ان کی یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ مسئلہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے، جس
کی تفصیل درجِ ذیل ہے:-
- فصل اگر پکنے کے بعد بیچی جائے تو اس کا عشر بائع پر لازم ہوگا۔
- فصل اگر پکنے سے پہلے بیچی جائے، لیکن مشتری اس کو اسی وقت کاٹ لے تو بھی عشر بائع پر ہوگا۔
- فصل اگر پکنے سے پہلے بیچی جائے اور مشتری اسی وقت نہ کاٹے، بلکہ انتظار کرے اور پکنے کے بعد کاٹے تو اس صورت میں اختلاف ہے، حضراتِ طرفین رحمہمااللہ تعالیٰ کے نزدیک عشر مشتری پر ہوگا، جبکہ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بیچتے وقت فصل کی جو قیمت ہو، اس کا عشر بائع پر ہوگا، اور اس کے بعد جتنا اضافہ ہو، اس کا عشر مشتری پر ہوگا۔ فتویٰ طرفین رحمہما اللہ تعالیٰ کے قول پر ہے۔
(أیضًا احسن الفتاوی:3/342-338)
(2)۔۔۔ یہ صورت مذکورہ بالا تین صورتوں میں سے تیسری صورت میں داخل ہے اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس میں سارا عشر مشتری پر لازم ہونا چاہیے۔ لیکن اگر آپ کے علاقے اور عرف میں واقعتًا فصل بیچتے وقت قیمت اتنی زیادہ لگائی جاتی ہو کہ سارا عشر مشتری پر لازم کرنے کی صورت میں اس کو نفع بالکل نہ بچتا ہو یا برائے نام بچتا ہو تو ایسی میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول پر عمل کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ نظیرها مسألة العشر في الأرض المؤجرة واختلاف الفتویٰ فیها بسبب کثرة الأجرة وقلتها، کما في العبارة الرابعة والخامسة.
حوالہ جات
(1) بدائع الصنائع (2/ 56):
(1) ولو باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها، أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري؛ لأنه باعه بعد وجوب العشر وتقرره بالإدراك. (2) ولو باعها والزرع بقل، فإن قصله المشتري للحال فعشره على البائع أيضا؛ لتقرر الوجوب في البقل بالقصل (3) وإن تركه حتى أدرك فعشره على المشتري في قول أبي حنيفة ومحمد لتحول الوجوب من الساق إلى الحب، وروي عن أبي يوسف أنه قال: عشر قدر البقل على البائع وعشر الزيادة على المشتري. وكذلك حكم الثمار على هذا التفصيل.
(2) الدر المختار (2/ 333):
ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري، ولو بعده فعلى البائع.
(3) رد المحتار (2/ 333):
قوله (ولو باع الزرع الخ) ….. ثم هذا إذا باع الزرع وحده، وشمل ما إذا باعه وتركه المشتري بإذن البائع حتى أدرك، فعندهما عشره على المشتري، وعند أبي يوسف عشر قيمة القصيل على البائع، والباقي على المشتري، كما في الفتح.
(4) رد المحتار (2/ 334):
والعشر على المؤجر كخراج موظف، وقالا: على المستأجر كمستعير مسلم، وفي الحاوي: وبقولهما نأخذ.
(5) رد المحتار (2/ 334):
قوله ( والعشر على المؤجر ) أي لو آجر الأرض العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التاترخانية وعندهما على المستأجر. قال في فتح القدير: لهما أن العشر منوط بالخارج وهو للمستأجر، وله أنها كما تستنمي بالزراعة تستنمي بالإجارة فكانت الأجرة مقصودة كالثمرة فكان النماء له معنى مع ملكه، فكان أولى بالإيجاب عليه اه.
قوله ( وبقولهما نأخذ ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين، كالخير الرملي في فتاواه، وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال: حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر، كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه: قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره؛ فإن قاضيخان من أهل الترجيح، فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر، وقد قدم قول الإمام، فكان هو المعتمد، وأفتى به غير واحد، منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام، وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاد والخصاف اه.
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة ولاأضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف، ولا شيء عليه من عشر وغيره، أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة، فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى، فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام، وإلا فبقولهما؛ لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد. والله تعالى أعلم.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
4/صفر المظفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


