03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مناسخہ  کی ایک صورت (نانا،نانی اورماموں کی میراث ) کاحکم
84190میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 سوال: میرے نانا محمد شریف کی وراثت شریعت کے مطابق کیسے تقسیم ہوگی؟ میری نانی کا بھی انتقال ہو چکا ہے ۔

   موجود ورثہ: ایک بیٹا تین بیٹیاں ۔

محمد شریف کے ورثہ:

      1۔بیوہ ۔ 2۔ کشور سلطانہ( بیٹی)۔         3۔ جنت (بیٹی)۔    4۔ محمد  رمضان  (بیٹا )  5۔عشرت (بیٹی)

ناناکےانتقال کےبعد نانی کاانتقال ہوا،ان کےورثہ :

      1۔ کشور سلطانہ( بیٹی)۔        2 جنت (بیٹی)۔      3۔ محمد  رمضان  (بیٹا )۔ 4۔عشرت (بیٹی)۔

نانی کےانتقال کےبعد ماموں (محمدرمضان )کاانتقال ہوا،ان کےورثہ :

ایک بیوہ ،چار بیٹے اور تین بیٹیاں :

1۔ منظوراں (  بیوہ)       .ثانیہ (بیٹی)       علیشہ (بیٹی)     4۔صبغۃ (بیٹی)    

5۔عمران عزیز (بیٹا)     6۔یحی علی (بیٹا)    حسنین (بیٹا)    عبدالرحمن (بیٹا)

محمد رمضان نے اپنے دو بچے اپنی بہن عشرت   کو گود دیے ہیں: ایک بیٹی( صبغہ)  دوسرا بیٹا( حسنین)                       

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نانا کی وفات کےبعدسےچونکہ اب تک میراث تقسیم نہیں کی گئی،اس لیےصورت مسئولہ میں سب سےپہلے نانامرحوم   کی میراث تقسیم کی جائےگی۔

نانامرحوم   کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر  اگرمرحوم   نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (بیوہ،ایک بیٹےاورتین بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کی  بیوہ(آپ کی نانی)کوکل میراث کاثمن(آٹھواں حصہ)دیاجائےگا،بیوہ کاحصہ نکالنےکےبعدباقی میراث ایک بیٹےاورتین بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ  بیٹےکوبیٹیوں کےحصےکادوگناملےگا۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث  میں سے12.5%فیصدمرحوم کی بیوہ کوملےگا،اس کےبعدباقی مال کا 35%فیصدحصہ بیٹےکاہوگااورتین بیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کوالگ الگ 17.5%فیصدحصہ دیاجائےگا۔

ناناکی میراث کی تقسیم کےبعد نانی کی میراث تقسیم کی جائےگی،جس میں نانی کو اپنےشوہر(آپ کےنانا)سےملنےوالا حصہ( 12.5%) ان کی وفات کےوقت موجود ورثہ میں تقسیم کیاجائےگا یعنی بیٹےرمضان کو دوحصے(5%)اورہربیٹی کوایک ایک حصہ (2.5%)دیاجائےگا۔

نانی کی میراث کےبعد ماموں مرحوم کی میراث تقسیم ہوگی ،جس میں ان کےباقی اموال کےساتھ ان  کواپنےوالداوروالدہ (آپ کےنانا اور نانی) سےملنےوالاحصہ (40%)،ان کی وفات کےوقت موجود ورثہ (بیوہ،چاربیٹےاورتین بیٹیوں )میں تقسیم ہوگا۔

ماموں کی وفات کےوقت چونکہ ان کی اپنی اولادزندہ ہے،لہذاماموں کی میراث میں ان کی بہنوں (آپ کی  والدہ اوردونوں خالہ )کاکوئی حصہ نہیں ہوگا۔ان کی میراث صرف ان کی بیوہ،اوراولادمیں تقسیم کی جائےگی۔

مثال کےطورپر اگرفرض کرلیں کہ نانا کی میراث میں کل رقم 5 لاکھ تھی  تووہ درج ذیل طریقےسےتقسیم کی جائےگی۔

ناناکی میراث:

رقم 500000))

فیصدی حصہ

عددی حصہ

ورثہ

نمبرشمار

62500

12.5%

55/440

بیوہ سائل کی نانی  (ثمن)

  1.  

175000

35%

154/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

87500

17.5%

77/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

87500

17.5%

77/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

87500

17.5%

77/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

500000

100%

440

مجموعہ

 

 

نانی کی میراث :12.5فیصد یعنی عددی حصہ 55جو شوہرسےملاتھا وہ  درج ذیل طریقےسےتقسیم ہوگا۔

رقم 62500))

فیصدی حصہ

عددی حصہ

ورثہ

نمبرشمار

25000

5%

22/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

12500

2.5%

11/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

12500

2.5%

11/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

12500

2.5%

11/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

62500

12.5%

55/440

مجموعہ

 

اس کےبعدماموں کی میراث)جوان کووالداوروالدہ سےملی ہے) درج ذیل طریقے سےان کی وفات کےوقت موجود ورثہ میں تقسیم کی جائےگی:

عددی اعتبار سےمجموعی طورپر154176=22+حصےاور فیصدی اعتبارسےمجموعی طورپر40%=5%+35%

رقم 175000+25000))

فیصدی حصہ40%

عددی حصہ 616+88=704

ورثہ

نمبرشمار

25000

5%

22/440

زوجہ یعنی بیوہ (ثمن)

  1.  

31818.18

6.36363%

28/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

31818.18

6.36363%

28/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

31818.18

6.36363%

28/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

31818.18

6.36363%

28/440

بیٹا(عصبہ)

  1.  

15909.0

3.18181%

14/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

15909.0

3.18181%

14/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

15909.0

3.18181%

14/440

بیٹی(عصبہ)

  1.  

200000

40%

176/440

مجموعہ

 

مفروضہ رقم 500000 میں سےدولاکھ توماموں کےورثہ میں تقسیم ہوگی ،جیسےاوپرٹیبل میں تفصیل ذکرکی گئی ہے۔باقی 300000آپ کی والدہ ،اورخالہ میں درج ذیل طریقےسےتقسیم کی جائےگی۔

رقم (300000)

فیصدی حصہ

نانی (والدہ)سےملنےوالاحصہ

نانا(والد)سےملنےوالاحصہ

ورثہ

نمبرشمار

87500+12500=100000

88/440=20%

11/440

77/440

کشور

  1.  

87500+12500=100000

88/440=20%

11/440

77/440

جنت

  1.  

87500+12500=100000

88/440=20%

11/440

77/440

عشرت

  1.  

300000

264/440=60%

33/440

231/440

مجموعہ

 

وضاحت:اوپرجورقم لکھی گئی ہےیہ صرف بطورمثال کےہے،باقی حقیقی طورپرناناکی جوبھی جائیدادمیراث کےطورپرہو،اس کو مذکورہ بالا تفصیل کےمطابق تقسیم کیاجائےگا۔

المبلغ:440

الأحیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجموعہ

عبدالرحمان          

حسنین

یحی علی

عمران عزیز

صبغہ

علیشہ

ثانیہ

منظوراں

عشرت

جنت

کشور

440

28

28

28

28

14

14

14

22

88

88

88

 

100%

6.363%

6.363%

6.363%

6.363%

3.181%

3.181%

3.181%

5%

20%

20%

20%

 

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث "5،6 :

 الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:

یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔

"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

30/ذی الحجۃ     1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب