| 84231 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
خلاصہ سوال :گزارش یہ ہےکہ میراگھراحسن آباد سیکٹر 2 پلاٹ نمبر 294 ہے،اوریہ گھرمیرےمرحوم شوہرمحمداقبال نےمیرےنام کیاہواہے)کاغذات میں میرےنام ہے(شوہرکےانتقال کےبعد ماحول میں بدمزگی دیکھتےہوئےمیں نےیہ فیصلہ کیاہےکہ میں میرےمرنےسےپہلےیہ گھراپنےبچوں میں برابرتقسیم کردوں ،میرےپانچ بچےہیں ،جوکہ سب شادی شدہ ہیں۔
بچوں کےنام :کاشف اقبال،آصف اقبال،عاطف اقبال،مسزفہد،اویس اقبال(یہ 22دن کاتھا،جب اپنےبھائی کوگوددےدیاتھا،وہ اب بھی بھائی کےگھرمیں رہتاہے(
میں نےباقاعدہ کورٹ سےرجسٹرڈکروایاہے،اس پراپرٹی پر بچوں کےدستخط بھی موجود ہیں ،یہ کام بھی میں نےاپنا گولڈ) سونا ( بیچ کرکیا،جب مجھ سےدستخط کرنےسےپہلےپوچھاگیاکہ کیاآپ یہ اپنی خوشی سےاپنی پراپرٹی اپنےبچوں کےنام کررہی ہیں ؟میں نےکہا:جی ہاں یہ پراپرٹی میں اپنےبچوں کواپنی خوشی سےتحفہ میں دےرہی ہوں اورسب بچوں کوبرابر،اس بات کو تقریبا ڈیڑھ سال ہوئےہیں،میراگھر 200گزپرمشتمل ہے۔
بات دراصل یہ ہےکہ نیچےپورشن بنا ہواہے،اوراوپر دوکمرےدوکچن باقی پوری چھت خالی ہے۔
تقسیم اس طرح کیاہےکہ
اوپرکی منزل میں دوبھائی عاطف اورکاشف رہتےہیں۔
نیچےابھی صرف آصف رہتاہے۔جبکہ اس کےساتھ دوسراکمرہ فی الحال خالی ہے۔
میں اپنی تکلیف بیان کررہی ہوں،کہ میں 35سال سے ہڈیوں کی تکلیف میں مبتلاءہوں،اب میرےپاوں بھی جواب دےگئےہیں،اس لیےواکراستعمال کرتی ہوں،جب سب گھروالےایک ساتھ کہیں چلےجاتےہیں ،بعض دفعہ بہوبھی 5،5دن کےلیےایک ساتھ چلی جاتی ہیں،اگرچہ مجھے ان سےکوئی گلہ شکوہ نہیں اورنہ ہی میں نےانہیں کبھی روکاہے،لیکن اکیلےمجھے مشکل ہوتی ہےاورتکلیف بڑھ جاتی ہے،اس لیےمیں نےاپنی بیٹی کودرخواست کی کہ آپ یہاں آجاو،نیچےکمرہ خالی ہے،درمیان میں دیوارڈال کر آپ اپناقبضہ سنبھال لیں،مجھے آسانی ہوجائےگی،آپ میراخیال بھی کرلوگی ،دیوارکی بات اس لیےکی کہ اگرچہ بھائی بہن تومحرم ہیں،لیکن داماد آئےگاتووہ بہو کانامحرم ہوگا۔دیوارڈل جائےگی تو دونوں پورشن الگ الگ ہوجائیں گے،بھائی کاحصہ بھائی کو،بہن کاحصہ بہن کو مل جائےگااوربےپردگی بھی نہیں ہوگی ۔
لیکن مسئلہ یہ ہےکہ تینوں بھائی دیوارڈالنےنہیں دےرہے،بلکہ منع کررہےہیں،یہ بات ان کوہضم نہیں ہورہی کہ ماں نےبیٹی کوبرابرحصہ کیوں دیا؟داماد یہاں آئےگاتوقبضہ کرلےگا،حالانکہ جگہ تو میں نےبیٹوں اوربیٹی کےنام کی ہے،دامادکےنام تونہیں کی کہ قبضہ کاخطرہ ہو،نہ ہی جگہ بہوں کےنام پر ہے۔
اسی طرح بیٹوں کایہ بھی کہناہےکہ یہ گھرفلیٹ نمانہیں بنواہوا،آپ دیوارڈال کر گھر کالک خراب نہ کریں۔
اس صور ت حال میں آپ سےدرخواست ہےکہ میری راہنمائی فرمائیں کہ:
کیامیں نےشریعت اور قانون کےمطابق یہ کام غلط کیاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئلہ یہ ہےکہ اگروالد/والدہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کوجائیدادوغیرہ دینا چاہتےہیں تویہ ان کی طرف سےاپنی اولادکےلیےعطیہ اورہبہ ہوتاہے(میراث نہیں ہوتی) شرعااس کاحکم یہ ہوتاہےکہ اپنی زندگی میں جس وارث کو بھی جائیداددی جائے توزندگی میں ہی اس کومکمل مالک بناکرقبضہ میں بھی دےدی جائے۔ جس وارث کوجوجائیداددی جائےوہ شرعااس کی ذاتی ملکیت شمارہوگی ،اوراس میں دیگرورثہ کاحصہ بھی نہیں ہوتا۔
زندگی میں تقسیم کرنے میں بہتراورمفتی بہ قول یہ ہےکہ بیٹےاوربیٹیوں کوبرابرحصہ دیاجائے،کیونکہ یہ عطیہ اورہبہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہےکہ"اپنی اولادکوعطیہ دینےمیں برابری کرو"اس لئےاگربرابردیاجائےتوزیادہ بہترہے،ہاں میراث کےمطابق(بیٹےکوبیٹی سےدوگنا)حصہ دینایاکسی معقول وجہ(مثلادین داری،خدمت گزاری،دینی خدمات اورحاجتمندی وغیرہ)سےکسی ایک بیٹےیابیٹی کومیراث کےحصےسےزیادہ دینابھی شرعاجائز ہے،لیکن اس کااختیارخودوالد/والدہ کوہی ہے،کسی بیٹےیابیٹی کو شرعااختیارنہیں کہ وہ والدین کوتقسیم کرنےسےروکےیااس میں رکاوٹ ڈالے۔
مذکورہ بالا تفصیل کےمطابق صورت مسئولہ میں والدہ کی طرف سےاپنی زندگی میں مکان برابر تقسیم کرکےدیناشریعت کےبالکل عین مطابق ہے اورقابل عمل بھی ہے،بیٹوں کوچاہیےکہ والدہ کی زندگی میں اسی کےمطابق مکان کی تقسیم کردیں تاکہ ہرایک کو اس کاحصہ مل سکے۔
اہم وضاحت:جوبیٹاآپ نےاپنے بھائی کو گود دیاہواہے،اصولی طورپرچونکہ وہ بھی آپ کااپناسگا بیٹاہے،لہذا جائیدادکی تقسیم میں اس کابھی حصہ رکھنا چاہیے،اگرمکان میں گنجائش نہ ہوتواس کو کچھ رقم دیدی جائےتاکہ تمام اولادمیں برابری ہوسکے۔
حوالہ جات
"شرح المجلۃ"1 /462:
وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔
"صحیح البخاری "418 :
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعدلوابین اولادکم فی العطیۃ ۔
"البحرالرائق" 7/490 :
وفی الخلاصۃ :المختارالتسویۃ بین الذکرواالانثی فی الھبۃ ۔
"الفتاوى الهندية "35 / 24:
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين ، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار ، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار ، كذا في الظهيرية ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/محرم الحرام 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


