03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نسوار،پان ،چھالیا،سیگریٹ  اورگٹکاوغیرہ کاکاروبارکرنا
84270جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

سوال:کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ اگرایک شخص اپنےکاروبارکےلیےکیبن کھولناچاہے،جس میں وہ بیچنےکےلیےان اشیاءکورکھے(نسوار،پان،گٹکا،مختلف سیگریٹ،مختلف چھالیاں،بسکٹس اورٹافیاں وغیرہ)توکیاوہ ان تمام اشیاء کی تجارت کرسکتاہے؟

یااگران اشیاء میں سےکسی کارکھنا جائزنہیں تواس کی کیاوجہ ہے؟اوروہ اشیاء کون کون سی ہیں ؟

یااگرکوئی شخص اس طرح کےکسی کیبن والےکےساتھ کاروبارمیں انویسٹ کرےتوکیایہ درست ہے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"نسوار،پان،چھالیاں"نہ تونشہ آورہیں نہ فی نفسہ صحت کےلیےمضرہیں،لہذاان کااستعمال بھی جائزہےاور کاروبارکرنابھی جائزہے،اسی طرح ان چیزوں کےکاروبارکےلیےانویسٹ کرنابھی جائزہے۔

"سیگریٹ اورگٹکا"عام طورپرآوارہ اوراوباش لوگوں  کاشیوہ ہے،اوراس کاحدسےزیادہ استعمال کبھی صحت کےلیےمضربھی بن جاتا ہے،لہذا ان کےکاروبارسےاحتراز اولی ہے،تاہم  چونکہ سیگریٹ ،گٹکا اور اس جیسی چیزوں کی حرمت یاکراہت پر کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے، اور یہ چیزیں ہر استعمال کرنے والے کے لئے غیر معمولی ضرر کا باعث بھی نہیں  ہیں، اس لئے ان کا استعمال  فی نفسہ جائز ہے،  جب ان چیزوں کا استعمال فی نفسہ مباح ہے تو ان کی عمومی تجارت بھی جائز ہے،البتہ اگر کسی خاص شخص کے لئے غیرمعمولی ضرر کا باعث ہو ں مثلا ان کے استعمال سےاسے شدید کھانسی، دل کے وال کا بند ہونا یا ان جیسی کسی اور مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کاغالب اندیشہ ہوتوایسے شخص کےلئےان چیزوں کااستعمال  جائز نہیں ہوگاتوایسےشخص کو یہ چیزیں فروخت کرنابھی  جائز نہیں ہوگا۔

اہم وضاحت:اگر حکومت مفاد عامہ کی خاطر گٹکا، چھالیا،مادی  وغیرہ جیسی چیزوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائے تو عوام کے لئے پابندی پر عمل کرناضروری ہے، پابندی کی صورت میں ان چیزوں کی تجارت جائز نہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل کےباوجوداگرکوئی اس طرح کی اشیاء کی تجارت کرتاہےتواس کایہ عمل تو ناجائزہوگا،لیکن   اس کی وجہ سےآمدنی حرام نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

"الدر المختار للحصفكي "7 / 17:

وفي الاشباه في قاعدة: الاصل الاباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته ۔

قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديت إلحاقا له بالثوم والبصل بالاولى، فتدبر.

"تكملة حاشية رد المحتار" 1 / 15:

قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها الصلح بين الاخوان في إباحة شرب الدخان وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة، فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك، فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الاصل في الاشياء الاباحة، وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة، وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبا ت الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل، بل في القول بالاباحة التي هي الاصل۔

وقد توقف النبي صلى الله عليه وآله مع أنه هو المشرع في تحريم الخمر أم الخبائث حتى نزل عليه النص القطعي، فالذي ينبغي للانسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرها الطباع، فهو مكروه طبعا لا شرعا إلى آخر ما أطال به رحمه الله تعالى، وهذا الذي يعطيه كلام الشارح هنا حيث أعقب كلام شيخه النجم بكلام الاشباه وبكلام شيخه العمادي وإن كان في الدر المنتقى جزم بالحرمة، لكن لا لذاته بل لورود النهي السلطاني عن استعماله ويأتي الكلام فيه۔

"تنقيح الفتاوى الحامدية" 7 / 426:

الثانية: قوله تعالى { قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده } ، والزينة تدل على الانتفاع۔ الثالثة: قوله تعالى { أحل لكم الطيبات } ، والمراد بالطيبات المستطابات طبعا وذلك يقتضي حل المنافع بأسرها ، والثاني أن الأصل في المضار التحريم ، والمنع لقوله عليه الصلاة والسلام { لا ضرر ولا ضرار في الإسلام } وأيضا ضبط أهل الفقه حرمة التناول إما بالإسكار كالبنج وإما بالإضرار بالبدن كالتراب ، والترياق أو بالاستقذار كالمخاط ، والبزاق وهذا كله فيما كان طاهرا وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

07/محرم الحرام         1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب