| 84271 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:پھربعض اوقات اس طرح کےکاروبارمیں ،KMC,DCاسی طرح پولیس محکمہ والوں کےبھی چکر لگتےہیں ،جن سےنمنٹنےکےلیےمعمول یہ ہےکہ ان کوکچھ خرچہ پانی دیاجاتاہے،یاان کےساتھ ماہانہ یاہفتہ کی ترتیب پر کچھ رقم طےہوجاتی ہے،ان تمام صورتوں کی وضاحت مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جیسےپہلےمسئلہ میں تفصیل گزرچکی ہےکہ اگرحکومت کی طرف سےاس طرح کی اشیاء کی خریدوفروخت قانونا منع ہو،توعوام پربھی ان چیزوں کی خریدوفروخت پرپابندی ہوگی،پابندی پرعمل بھی ضروری ہوگا،اوران چیزوں کی تجارت بھی جائزنہیں ہوگی،ایسی صورت میں غیرقانونی کام کےلیےخرچہ پانی دینارشوت کےزمرےمیں آئےگااوروعیدمیں داخل ہوکر ناجائز ہوگا ،اس سےبچنا لازم ہوگا۔
ایسےغیرقانونی کاروبارکےبجائےکوئی دوسراکاروبارکرناچاہیے،جوشریعت کےبھی عین مطابق ہواورقانون کےبھی ،کوشش کرکےایساکاروبارتلاش کرناچاہیےجس میں نہ شریعت کی خلاف ورزی ہو،نہ حکومتی قوانین کی ۔
حوالہ جات
"الجامع الصحيح سنن الترمذي"3 / 258:عن أبيه عن أبي هريرة قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعائشة وابن حديدة وأم سلمة قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح ۔
" رد المحتار " 21 / 295 :
وفی المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/محرم الحرام 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


