03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ، چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم
84650میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کا ایک مکان ہے جس کی قیمت چالیس (40) لاکھ روپے ہے۔ اس شخص کی ایک بیوی سے چار بیٹے ہیں، اس بیوی کا انتقال شوہر سے پہلے ہوچکا ہے، دوسری بیوی سے ایک بیٹی ہے، یہ بیوی زندہ ہے۔ مذکورہ مکان ورثا میں کیسے تقسیم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہ ہو تو اس مکان کے کل بہتر (72) حصے کر کے بیوہ کو نو (9) حصے، چار بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو چودہ، چودہ (14، 14) حصے اور بیٹی کو سات (7) حصے دیدیں۔

لہٰذا اگر مذکورہ مکان چالیس لاکھ میں فروخت ہوتا ہے تو بیوہ کو اس میں سے پانچ (5) لاکھ، چار بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو سات لاکھ ستتر ہزار سات سو ستتر اعشاریہ سات سات (777,777.77) اور بیٹی کو تین لاکھ اٹھاسی ہزار آٹھ سو اٹھاسی اعشاریہ آٹھ آٹھ (388,888.88) روپے ملیں گے۔

حوالہ جات

۔

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       14/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب