| 84496 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ایک باکرہ لڑکی جس کی عمر30 سال سے زیادہ ہے،ایسی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کرسکتی ہے یانہیں؟جبکہ والدکے علاوہ تمام خاندان راضی ہو اوروالدہررشتہ میں کوئی نہ کوئی خامی دیکھ کررد کرتاہو اورخاتون کوعمرگزرجانے کاخدشہ بھی ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدین پراولادکے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ لڑکایالڑکی جب نکاح کے قابل ہوجائیں توان کامناسب جگہ پرنکاح کرائیں، بلاعذر نکاح میں تاخیرکی وجہ سے لڑکایالڑکی کسی گناہ میں مبتلاہوجاتے ہیں تواس کاوبال والدین پرآئے گا، صورت مسؤلہ میں والدکالڑکی کی30سال عمرہونے کے باوجود رشتہ میں رکاوٹ بنناکسی بھی طرح درست نہیں،اگروالدنکاح نہ کرائے اورلڑکی کوگناہ میں مبتلاہوجانے کااندیشہ ہے تووہ والدکی اجازت کے بغیر ہم پلہ(کفو) لڑکے سے نکاح کرسکتی ہے،اس میں کوئی گناہ نہیں۔
ہم پلہ(کفو) ہونے کامطلب یہ ہےکہ لڑکی اورلڑکا دین داری،مال،نسب اورپیشہ میں برابرہوں،غیرمعمولی فرق نہ ہو۔
حوالہ جات
فی شعب الإيمان لأبو بكر البيهقي (ج 6 / ص 401):
عن أبي سعيد و ابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ولد له ولد فليحسن اسمه و أدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ و لم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه۔
فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 5 / ص 373):
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض .
وفی رد المحتار (ج 18 / ص 135):
( قوله : لو تزوجت من غير كفء إلخ ) هذه مبنية على ظاهر الرواية ، وأما على رواية الحسن المفتى بها فلا ينعقد النكاح۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵/صفر ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


