| 84168 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
نکاح کے وقت اس نے نکاح نامہ میں دس تولہ سونا لکھوایاتھا،لیکن اس نے کہاتھا میں صرف اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ بطورثبوت پہلے شوہرکودکھاسکوں اورمیراگھربس جائے،لیکن نکاح کے بعد انہوں نے کہاتھاکہ مجھے حق مہرنہیں چاہیے، معاف ہے،اب وہ اس کامطالبہ کررہی ہے توآیااس کامطالبہ کرنادرست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی انسان اپنی دلی خوشی سے اپنا حق معاف کردے تو وہ دیانۃً معاف ہوجاتا ہے اور اس کو اس سے مکرنا اور دوبارہ مطالبہ کرنا جائز نہیں، صورت مسؤلہ میں اگرواقعی عورت نے مہرمعاف کردیاتھا توعورت کادوبارہ مہرکامطالبہ کرناجائزنہیں،لیکن اگر وہ مکر جائے تو جب تک شوہر گواہوں کے ذریعے اس کا معاف کرنا ثابت نہ کردے یا عورت اقرار نہ کرلے، اس وقت تک قضاءً مہر اس کے ذمے قرض رہےگا۔
حوالہ جات
فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (ج 6 / ص 389):
(وصح حطها) أي حط المرأة من مهرها،لان المهر في حالة البقاء حقها والحط يلاقيه حالة البقاء. والحط في اللغة الاسقاط كما في المغرب، أطلقه فشمل حط الكل أو البعض۔
وفی الفتاوى الهندية (ج 34 / ص 461):
وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة ، وإن انقطع النكاح بينهما۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کر
۲/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


