| 84760 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد صاحب خلیل احمد قریشی کا 15 دسمبر 2023 کو انتقال ہوگیا تھا ،والدہ کا بھی تقریباً 9 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا ،مرحوم والد صاحب کے ورثہ میں 8 بیٹیاں اور 7 بیٹے شامل ہیں، جن میں سے ایک بیٹے جمیل احمد ولد خلیل احمد قریشی کا والد صاحب سے تقریباً 6 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا، مرحوم جمیل احمد کے ایک سال بعد جمیل احمد کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوگیا ،مرحوم جمیل احمد کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔
جمیل احمد مرحوم کے انتقال کے بعد والد صاحب کو کسی نے شرعی مسئلہ بتایا کہ والد صاحب کے ہوتے ہوئے بیٹے کا انتقال ہو جائے تو والد کی جائیداد میں بیٹے کا حصہ نہیں ہوتا، اس پر والد صاحب نے کہا جمیل کا انتقال ہوا ہے، ہم تو زندہ ہیں،ہم کیا جمیل کے بچوں کو سڑک پر چھوڑ دینگے؟ لہٰذا والد صاحب نے مشتاق احمد ولد خلیل احمد قریشی کے نام پرجومکان تھا(37سال سے یہ مکان آ ر280 ان کے نام پرتھا) کو پراپرٹی نام کروانے والے سعود صاحب کے پاس سے کاغذات تیار کرواکر سوک سینٹر میں داخل کئے، کچھ دنوں میں مشتاق احمد ولد خلیل احمد قریشی ، شکیل احمد ولد خلیل احمد قریشی اور عزیر احمد ولد جمیل احمد ، عثمان ولد جمیل احمد ، زنیرہ ولد جمیل احمد،عدینہ ولد جمیل احمد ،ہادیہ ولد جمیل احمد کے نام مکمل اختیارات وقبضہ کے ساتھ منتقل ہوگئے،اس قانونی کاروائی میں اشتیاق احمد ولد خلیل احمد قریشی گواہ ہیں ۔
مرحوم جمیل احمد ولد خلیل احمد قریشی کے انتقال کے بعد جمیل احمد کے بچوں کو(جو نا بالغ تھے) والد صاحب نے اکیلے رہنے کے بجائے مکان آ ر 281 کے فرسٹ فلور پر جس میں والد صاحب کی ایک بیٹے کی فیملی کے ساتھ رہائش تھی جمیل کے بچوں کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور جمیل کے بچوں کے حصے کوکرائے پر اٹھا دیا اور بڑے بیٹے اشتیاق احمد کو بتایا کہ ہمیں جو کرایہ مل رہا ہے اسے ہم جمیل کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیگر اخراجات میں لگاتے ہیں ۔ سعود بھائی (پراپرٹی نام کروانے والے)جوکہ اس بات کے گواہ ہیں کہ مکان آر280 مکمل اختیارات اور قبضے کے ساتھ مشتاق احمد ، شکیل احمد ، عزیر جمیل ، عثمان جمیل ،زنیرہ جمیل ، عدینہ جمیل ،ھادیہ جمیل کو دیدیا تھا ۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے اشتیاق احمد ولد خلیل احمد قریشی زور دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ مکان 280 میں تینوں حصوں (پورشنز)کو جو تین بیٹوں کو والد نے زندگی میں دئیے تھے، والد صاحب کے ترکہ میں شامل کئے جائیں،معلوم یہ کرناہے کہ یہ ان کامطالبہ درست ہے؟یعنی مشتاق احمد،شکیل احمد اورمرحوم جمیل احمد کے اولادکوجوپورشنزدئیےگئے تھے ان کوبھی تقسیم کیاجائے گا یانہیں؟
دوسری بات یہ کہ بڑی بہن شاہدہ آپا (والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد سے والدصاحب بچوں کی شادی بیاہ ، گھر کے دیگر معاملات میں انہیں آگے رکھتے تھے،یہاں تک کے انتقال سے پہلے بھی یہی کہتے کہ ہم نے شاہدہ کو بتادیا ہے) نے والد صاحب سےکہا کہ آپ نے دوگھروں کے چھ حصہ چھ بیٹوں کے نام کردئیےتو اشتیاق کے لئے کچھ نہیں کیا، اس پر والد صاحب نے کہا کہ جس میں وہ رہ رہےہیں وہ ان کا ہے، شاہدہ آپا نے والد صاحب سے کہا کہ پھر باقی مکان کس کا ہے؟اس پر والد صاحب نے کہا کہ باقی مکان سب کا ہے کیونکہ یہ روزگار کی جگہ ہے۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے اشتیاق احمد کو کچھ نہیں دیا اور یہ گھر والد صاحب کے نام پر ہے، ہم اس کا کرایہ نہیں دے رہے ہیں تو ہمارا یہاں رہنا بھی حرام ہے، والد صاحب کے انتقال سے پہلے بھی کئی بار اشتیاق احمد یہ کہتے رہے ہیں کہ والد صاحب کی جائیداد سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں چاہیے یہاں تک کہ اپنے بچوں کو بھی منع کر کے جاؤنگا کہ دادا کی جائیداد سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں لینا۔
شاہدہ آپا نے اشتیاق احمد کوبتایا کہ والد صاحب نے وہ حصہ جس میں تم رہ رہے ہو تمہیں دیا ہے جس پر وہ لینے سےانکار کر رہے ہیں اور مزید یہ کہ ایک حلف نامہ اپنے اور گواہوں کے دستخط کئے ہوئے بڑی بہن کو دے گئے ہیں،جس کاحاصل یہ ہے کہ والدصاحب کے ترکہ میں میراکوئی دعوی نہیں ہے اورنہ ہی مستقبل میں کوئی دعوی کروں گا،اپنے بچوں کوبھی یہ نصیحت کرتاہوں کہ داداکے ترکہ میں سے کوئی حصہ نہ لیں،سب بہن بھائی برابراس کوتقسیم کرلیں۔
اب کچھ بہن بھائی چاہتے ہیں اشتیاق احمدکوراضی کرلیں اوران کوان کاحصہ دیتےہیں،جبکہ کچھ بھائی کہتے ہیں نہیں دیتے،کیونکہ ان کے مطالبات عجیب قسم کے ہیں،اس کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
سن 1995میں جس مکان میں اشتیاق احمد رہتے ہیں اس مکان کی قیمت زیادہ تھی اور دیگربھائیوں کے مکانوں کی ویلیو کم تھی والد صاحب کے انتقال کے بعد اب سن 2024 میں اشتیاق احمد کے حصہ کی ویلیو کم ہوگئی اور دوسرے بھائیوں کے حصّے کی ویلیو زیادہ ہوگئی ہے ۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے اشتیاق احمد کا دوسرے بھائیوں سے کہنا ہے اگر والد صاحب کی جائداد سے حصہ دینا ہے تو آج کے حساب سے تمہارے حصہ کی جو قیمت ہے میرے حصے کی قیمت بھی اس کے برابر کرواورجو حصے تمہیں ملے ہیں وہ بھی وراثت میں شامل کرو اور پوری جائیداد میں سے دو یا جس مکان کے اوپر کے حصے میں رہ رہا ہوں وہ پورا مکان میرے نام کردو یا پھر جو بینک میں رقم ہےاور 2 مکان ہیں وہ مجھے اور8 بہنوں کے لئے چھوڑ دو،واضح رہےکہ ایک مکان مرحوم والد صاحب کاخلیل احمد کے نام پر ہے جو گراؤنڈ فلور،فرسٹ فلور ،سکنڈ فلور پر مشتمل ہے، والد صاحب کی زندگی میں اشتیاق احمد سیکنڈ فلور پررہتے تھے ، اشتیاق احمد نے والد صاحب سے سیکنڈ فلور کی چھت پر کمرے بنانے کے لیے کہا ،والد صاحب نے چھت پرکمرے بنانے کو منع کیا کہ چھت پر وزن ہوجائے گا،لیکن اشتیاق احمد نہ مانے، والد صاحب کو بغیر بتائے کمرے بنانے شروع کر دیئے، جس پر والد صاحب نے اشتیاق احمد سےکہاکہ تم کمرے بنا تو رہے ہو پھر بعد میں نہیں کہنا کہ ہم نے اس گھر میں رقم لگائی ،پھر اس گھر میں یہ رقم نہیں لگے گی، اس کے باوجود اشتیاق احمد نے کمرے بنائے،اب والد صاحب کے انتقال کے بعد اشتیاق احمد نے فتویٰ معلوم کرنے کے لئے لکھا ہے کہ اشتیاق احمد نے کمرے بنانےمیں آج سے تقریباً ( 6 یا7 ) سال پہلے 8 سے9 لاکھ روپے لگائے تھے ،کیاوہ اس کے حق دار ہیں؟
تنقیح:سوال کاحاصل جوسائل نے بتایاہے:مرحوم خلیل احمد نے اپنے تمام بچوں اورمرحوم جمیل کی اولادکوزندگی میں تین منزلہ مکان میں الگ الگ پورشنز بناکرمالکانہ حقوق اوررہائش کےساتھ دیدئیے تھے،اشتیاق احمدکوبھی وہ پورشن جس میں وہ رہائش پذیرہے مالکانہ حقوق کے ساتھ دیدیاتھا،اب اس پورشن کی مارکیٹ ویلیوکم ہوگئی ہے،اشتیاق احمدکاکہنایہ ہے کہ والد نے جوپورشنز دئیے تھے وہ سب پورشنز والدکے ترکہ میں شامل ہیں اوران کودوبارہ تقسیم کرتے ہیں،اگرتقسیم نہیں کرتے تومیں والد کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں لوں گا اوراپنی اولادکوبھی یہ وصیت ہے،اسی طرح انہوں نے چھت پرجوسب کے مشترکہ استعمال میں تھی اس پروالدکی اجازت کے بغیرایک دوکمرے بنائے ہیں اس رقم کامطالبہ کرنادرست ہے یانہیں؟
تنقیح2.سائل نے بتایاہے مکان تین منزلہ ہے،مرحوم جمیل کے پانچ بچوں کوجوپورشن دیاگیاتھا،اس میں دوکمرہ نیچے اورایک کمرہ سکنڈفلورپربناہواہے اورٹوٹل رقبہ 60گزہے،چھت کے اوپربنے ہوئے کمرہ اورجگہ کوملاکر120 گزبن جائے گا،اس جگہ کی تقسیم کی جائے توقابل استعمال نہیں رہے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم خلیل احمد نے جن بیٹوں،پوتوں اورپوتیوں (مرحوم جمیل کی اولاد) کو اپنی زندگی میں جوپورشنزمالکانہ حقوق اورتصرف کے ساتھ دیدئیے تھے اورانہوں نے اس پررہائش بھی اختیارکرلی تھی توشرعی طورپروہ ان بیٹوں،پوتوں اورپوتیوں کی ملکیت ہیں،مرحوم جمیل کے ہبہ کرنے کے بعد یہ پورشنز مرحوم خلیل احمد کی ملکیت سے نکل گئے تھے،اس لئے اب یہ پورشنز مرحوم خلیل احمدکے ترکہ میں شامل نہیں اور اشتیاق احمد کاان پورشنز کی تقسیم کرنے کامطالبہ غلط ہے۔
اسی طرح چھت پروالد کےمنع کرنے کے باوجود جوکمرے بنائے گئے تھے،اس پرآنے والی لاگت کامطالبہ کرنابھی غلط ہے،اشتیاق احمدکواختیارہے وہ اس تعمیرکونقصان پہنچائے بغیرختم کردے یا ملبہ کی قیمت لےلے۔
ملبے کی قیمت کامطلب یہ ہے کہ یہ دیکھاجائے ان کمروں کی تعمیرات میں جومٹیریل لگاہےاس کو اسکریب کیاجائے تواس سے نکلنے والالوہا،کھڑکیاں وغیرہ کی قیمت فروخت کیاہوگی؟ وہ ماہرین سے لگاکرکل میراث میں سےوصول کرلیں۔
حوالہ جات
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (ج 9 / ص 170):
الاحتمال الثاني : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة ( 1131 ) .
الاحتمال الثالث :إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه .انظر المادة ( 831 ) وشرح المادة ( 906 )
الاحتمال الرابع : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة .
فی تنقيح الفتاوى الحامدية (ج 6 / ص 60):
والأصل أن من بنى في دار غيره بناء وأنفق في ذلك بأمر صاحبه كان البناء لصاحب الدار وللباني أن يرجع على صاحب الدار بما أنفق ا هـ .
وقد أفتى العلامة الخير الرملي كما في فتاويه من الغصب برفع البناء حيث أمكن بلا ضرر فيمن بنى في ساحة غيره بغير أمره فراجعه .
وفی رد المحتار (ج 29 / ص 311):
( قوله عمر دار زوجته إلخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين ، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له ، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء ، فيمنع ولو بنى لرب الأرض ، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر ا هـ وفيه بنى المتولي في عرصة الوقف إن من مال الوقف فللوقف ، وكذا لو من مال نفسه ، لكن للوقف ولو لنفسه من ماله ، فإن أشهد فله وإلا فللوقف بخلاف أجنبي بنى في ملك غيره ( قوله والنفقة دين عليها ) لأنه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها ، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين ( قوله فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي ( قوله بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط ( قوله فيؤمر بالتفريغ ) ظاهره ولو كانت قيمة البناء أكثر من قيمة الأرض ، وبه أفتى المولى أبو السعود مفتي الروم وهو خلاف ما مشى عليه الشارح في كتاب الغصب من أنه يضمن صاحب الأكثر قيمة الأقل ، وقدمنا الكلام عليه هناك فراجعه ( قوله بطلبها ) الأوضح قول الزيلعي إن طلبت ( قوله ولها ) معطوف على نفسه أي ولو عمر لها إلخ ( قوله كما أفاده شيخنا ) أي الرملي في حاشية المنح وقال بعده : لكن ذكر في الفوائد الزينية من كتاب الغصب إذا تصرف في ملك غيره ، ثم ادعى أنه كان بإذنه فالقول للمالك إلا إذا تصرف في مال امرأته ، فماتت وادعى أنه كان بإذنها ، وأنكر الوارث فالقول للزوج كذا في القنية ا هـ فمقتضاه أنه إذا عمر دار زوجته لها فماتت وادعى أنه كان بإذنها ليرجع في تركتها بما أنفق وأنكر بقية الورثة إذنها أن القول قوله ووجهه شهادة العرف الظاهر له تأمل
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۷/صفر۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


