03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث تقسیم کرنے کی اہمیت ،چھ بیٹوں اورآٹھ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
84761میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 والد صاحب کے انتقال کو تقریباً ساڑھے سات ماہ ہو گئے ہیں ،ورثہ میں 8 بیٹیاں اور 7 بیٹےہیں، جن میں ایک بیٹے کا تقریباً والد صاحب کے انتقال سے 6 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا والدہ محترمہ کا تقریباً والد صاحب سے10 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا ،والد صاحب کے ترکہ میں 3 مکان جو والد صاحب کے نام پر ہیں، بینک میں رقم اور دیگر اشیاء شامل ہیں، 3 مکانوں میں سے ایک مکان کو والد صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے کو دینے کی وصیت کی تھی ،لیکن شرعی مسئلہ معلوم کرنے پروہ مکان والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہے اس مسئلہ کو چھوٹے بیٹے نے خود مدرسہ بنوری ٹاؤن سے معلوم کیا اور فتویٰ لیا کہ یہ مکان وراثت میں شامل ہے اس کے باوجود چھوٹا بیٹا والد صاحب کے انتقال سے اب تک اس مکان کے تمام پورشنز اور دکانوں کا کرایہ خود وصول کر رہا ہے جو کہ تمام ورثہ کا حق ہے ،اسی طرح دو سرے مکان کے نچلے حصے اور فرسٹ فلور کے ایک حصہ کو تالا لگا کر اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وراثت کی تقسیم میں خلل اور رکاوٹ ہے اور تمام ورثہ مالی اور ذہنی طور پر بڑے پریشان ہیں، اسی طرح بڑے بیٹے اشتیاق احمد کا  سرٹیفیکیٹ  پر سائن نہ کرنے کی وجہ سے وراثت کی تقسیم میں شدید تاخیر ہورہی ہے ۔

چھوٹے بیٹے کا مکان کے تمام پورشنز اور دکانوں کا کرایہ خود رکھنا ورثہ میں تقسیم نہ کر نا اور دوسرے مکان کے نچلے حصے اور فرسٹ فلور کے ایک حصہ کو تالا لگا کر اپنے قبضے میں رکھنا ،ورثہ کو  کرایہ میں شریک نہ کرنا اوربڑے بیٹے اشتیاق احمد کا سکسیشن سرٹیفیکیٹ پر سائن نہ کرنا اور وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا  بہنوں اور بھائیوں کو مالی اور ذہنی طور پر پریشان کرنے کاشرعی حکم کیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مستحق ورثہ کے مطالبہ کے بعدمیراث کی تقسیم لازمی ہے،جووارث(چھوٹابھائی اوراشتیاق احمد) تقسیم میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں وہ دیگرورثہ کے حق کوغصب کررہے ہیں اوریہ بہت سخت گناہ ہے،اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء،آیت نمبر13،14 میں میراث کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ’’تلک حدود اﷲ ‘‘یعنی یہ میراث کے احکام اللہ تعالی کی بیان کردہ حدود ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کی اس(میراث ) کے حوالے سے اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے ایسی جنت میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اوروہ ہمیشہ  اس میں رہیں گے اوریہ بہت بڑی کامیابی ہے اورجو اس میراث کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے بیان کردہ حدود سے تجاوز کرتاہے، اللہ اس کو آگ میں داخل کردیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گااور اس کے لئے ذلت آمیز عذاب ہو گا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص اللہ تعالی  اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر کردہ  حصہ میراث سے کسی وارث کو محروم کر ے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت سے محروم کردیتے ہیں۔چھوٹے بھائی اوراشتیاق احمد اللہ کے عذاب کوسوچیں،اس حقیرسی دنیاکے لئے ورثہ  کے حق کوغصب کرکے ظالم نہ بنیں،جس کاجتناحصہ بنتاہے فوری طورپراس کووہ حصہ دیں،واضح رہے جومکان کرایہ پردیاگیاہے تواس سے حاصل ہونے والے کرایہ پربھی تمام ورثہ کامیراث کے شرعی حصوں کی بقدر حق ہے، جوان کودیناضروری ہے،دیگرورثہ کے حصہ میں آنے والی رقم وہ ان کے لئے حلال نہیں۔

مرحوم خلیل احمد کےترکہ کی  تقسیم درج ذیل ہے:

 مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ(مکان) سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اگروارث کے حق میں وصیت کی ہے تواس کادرست ہوناباقی تمام ورثہ کی رضامندی پرموقوف ہے،اگروہ اس پراضی ہیں تویہ وصیت معتبرہے،ورنہ نہیں،راضی نہ ہونے کی صورت میں یہ مکان بھی ترکہ میں شامل ہوگا،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں درج ذیل طریقہ کارکے مطابق تقسیم کردیں۔

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

فیصدی حصہ

مجموعہ

بیٹا

2/20

10 فیصد

10

بیٹا

2/20

10 فیصد

20

بیٹا

2/20

10 فیصد

30

بیٹا

2/20

10 فیصد

40

بیٹا

2/20

10 فیصد

50

بیٹا

2/20

10 فیصد

60

بیٹی

1/20

5فیصد

65

بیٹی

1/20

5فیصد

70

بیٹی

1/20

5فیصد

75

بیٹی

1/20

5فیصد

80

بیٹی

1/20

5فیصد

85

بیٹی

1/20

5فیصد

90

بیٹی

1/20

5فیصد

95

بیٹی

1/20

5فیصد

100

                        فی شعب الإيمان لأبو بكر البيهقي (ج 6 / ص 224):

حوالہ جات

قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :  من قطع ميراثا فرضه الله و رسوله قطع الله به ميراثا من الجنة۔

فی الفتاوى الهندية (ج 48 / ص 19):

ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة ، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك ، كذا في فتاوى قاضي خان .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۲۷/صفر۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب