| 84749 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
آئی پی او (Initial Public Offering)شیئرز کی زکوة کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کی زکوة واجب ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کوئی بھی کمپنی جب پہلی بار اپنے شیئرزاسٹاک مارکیٹ میں پبلک (Public) کرتی ہے تو اس کو آئی پی او (Initial Public Offering) کہتے ہیں، اس کے بعد جب خریدار سیکنڈری مارکیٹ میں بیچنے کے لیے آتا ہے تو ان کی حیثیت دیگر شیئرز کی طرح ہی ہوتی ہے، اس لیے ان شیئرز کی مالیت پر بھی زکوة واجب ہو گی، پھر اگر یہ شیئرز كيپيٹل گين (Capital gain) یعنی آگے بیچنےکے لیے خریدے گئے ہوں تو ان شیئرز کی بازاری قیمت (Market Velue)کے حساب سے زکوة ادا کرنا لازم ہو گا اور اگر ان شیئرز کی بنیاد پر کمپنی سے نفع حاصل کرنا مقصد ہو (جس کو اصطلاح میں Dividend کہا جاتا ہے) تو اس صورت ميں اصولی اعتبار سے کمپنی کے صرف قابل زکوة اثاثوں کی زکوة ادا کرنا واجب ہے، جیسے نقدی، خام مال اور تیار شدہ مال وغیرہ، ان کے علاوہ غیرقابل زکوة اثاثوں جیسے مشینری،عمارت، گاڑیاں اور فرنیچر وغیرہ کی زکوة دینا واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو متعلقہ کمپنی کے قابل زکوة اور غیر قابل زکوة اثاثوں کی تفصیل کا علم نہ ہو اور اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو تو اس صورت میں بھی احتیاطا شیئرزکی مکمل مالیت (Market Velue) کی زکوة کر دینا چاہیے، کیونکہ عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا واجب ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 103) دار احياء التراث العربي، بيروت:
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب " لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 268) دار الكتب العلمية، بيروت:
وإن لم يكن لها رأي في ذلك احتاطت، فصلت صلاة الأربعين كلها لجواز أن نفاسها كان ساعة، وإن كان دمها مستمرا للحال انتظرت هي عشرة أيام قضت صلاة هذه الأربعين ثانبا، لاحتمال حصول القضاء في أول مرة في حالة الحيض، والاحتياط في العبادات واجب.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
26/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


