03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پاس آؤٹ ہونے والے طلباء سے جون اور جولائی کی فیس لینے کا حکم
84668اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میرا نام عبد اللہ ہے، میرے بیٹے نے اسی سال البیرونی ایجوکیشن سسٹم جامعة الرشید سے میٹرک کا امتحان دیا ہے، اسکول والوں نے میرے بیٹے کو مارچ سے پاس آؤٹ کر دیا تھا، اس کے بعد وہ گھر پر سالانہ امتحان کی تیاری میں مصروف رہا، جب مئی میں اس کی ڈیٹ شیٹ آئی اور وہ اپنا ایڈمٹ کارڈ لینے گیا تو اس کو بتایا گیا کہ آپ کو جون کی فیس بھی ادا کرنا ہو گی، حالانکہ وہ جون میں اسکول کے ریکارڈ میں پاس آؤٹ شو ہو رہا ہے، اس کے باوجود انہوں نے مئی اور جون دونوں ماہ کی فیس وصول کی ہے، سوال یہ ہے کہ جو طلباء اسکول سے اس سال پاس آؤٹ ہو چکے ہیں کیا ادارے کا ان سے جون جولائی کی فیس لینا شرعا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

البیرونی ایجوکیشن سسٹم کے دفتر سے معلومات لی گئیں تو انہوں نے بتایا کہ جو طالبِ علم سالانہ امتحان کے وقت ہمیں اطلاع کر دے کہ میں آئندہ سال اس ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کروں گا تو اس سے  مارچ یا اپریل میں سالانہ امتحان مکمل ہونے کے بعدمئی، جون اور جولائی وغیرہ کی فیس نہیں لی جاتی، جون اور جولائی کی فیس صرف انہی طلباءسے لی جاتی ہے جنہوں نے آئندہ مکمل سال تعلیم حاصل کرنی ہو۔ جہاں تک میٹرک کے طلباء کا تعلق ہے تو ان کے چونکہ جون کے آخر تک پریکٹیکلز ہوتے ہیں، جن کے لیے طلباء کو اسکول میں بلا کرمشق(Practice) کروائی جاتی ہے، اس لیے ان سے جون کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ 

نیزشرعی اعتبار سے اسکول انتظامیہ کا طلباء کے ساتھ معاملہ  سالانہ اجارہ کا ہے اور سال مکمل  ہونے کے ساتھ ہی فریقین کے درمیان اجارہ کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور اوپر دی گئی معلومات کے مطابق میٹرک کے طلباء کی  کچھ  تعلیمی سرگرمیاں(پریکٹیکلز)مئی اور جون  کے مہینے میں بھی جاری ہوتی ہیں اور ان کا تعلق بھی حقیقت میں گزشتہ تعلیمی سال سے ہی ہوتا ہے،  اس لیے صورتِ مسئولہ میں البیرونی اسکول کے لیے میٹرک کے طلباء سے  مئی اور جون کی فیس لینا جائز ہے، کیونکہ جب تک تعلیمی سال کا دورانیہ مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک شرعی اعتبار سے اجارہ کا معاملہ جاری سمجھا جائے گا اور اجارہ کا معاملہ ختم ہونے تک ادارے کے لیے فیس لینا بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 409) دار الفكر،بيروت:

(أما تفسيرها شرعا) فهي عقد على المنافع بعوض، كذا في الهداية. (وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة.

الفتاوى الهندية (4/ 500) دار الفكر،بيروت:

والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر وبعضهم قالوا الأجير المشترك من يتقبل العمل من غير واحد والأجير الخاص من يتقبل العمل من واحد.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

8 صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب