| 84651 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے پاکستان کی ایک ویب سائٹ میں 150روپےInvestment کیے ہیں، کمپنی کی طرف سے بغیر کسی کام کے تقریبا105ًدن تک روزانہ مجھے 100روپےملتے ہیں،کمپنی مالکان کا ہے کہ ہم آپ کے پیسوں سے Online Trading کرتے ہیں، جس کا 50 فیصدآپ لوگوں کو دیتے ہیں اور 20 فیصد ہمارا ہوتا ہے کیا یہ کمائی جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کمپنی کون سی تجارت کرتی ہے اور اس کا طریقہ ٴ کار کیا ہے؟ جب تک وہ تفصیل کے ساتھ ذکر نہ کیا جائے اس وقت تک اس نفع کے جواز کا فتوی نہیں دیا جا سکتا۔ نیز اگر بالفرض کاروبار جائز بھی ہو تو بھی فکس نفع (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے) طے کرنے کی صورت میں شرعاً شرکت فاسد اور ناجائز ہو جاتی ہے، فریقین کے لیے جس کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذاسوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق مذکورہ ویب سائٹ پر رقم انویسٹمنٹ کر کے اس کے عوض روزانہ سو روپے فکس نفع لینا شرعاً ناجائز نہیں، اس سے بچنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (6/ 59)کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ط: ايچ، ايم ،سعید:
(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/ صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


