03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھت کے بغیر ہبہ کی گئی دکانوں کا حکم
84764ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

بازار میں ہماری کمرشل بلڈنگ ہے، جس میں ہماری پانچ دوکانیں تھیں اور اوپر ہماری رہائش ہے۔ رہائش میں ہمارے والد صاحب ہمارے ساتھ رہتے تھے، والد صاحب نے اپنی زندگی میں ایک دوکان بغیر چھت کے فروخت کر دی تھی اور باقی چار دو کانوں میں سے ایک دوکان دو بیٹیوں اور باقی تین دوکانوں میں سے ایک ایک دوکان تین بیٹوں کو دے دی ہر بیٹے کو قبضہ بھی دے دیا۔ البتہ دوبیٹیوں کو والد صاحب کی وفات کے بعد دوکان کا قبضہ ملا۔

سوال یہ ہے کہ جو دوکانیں بیٹوں کو دی گئیں کیا یہ ہبہ ہوئیں ؟ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ دوکان  نمبر1 کارنز پر ہے، اس کی ویلیو اب وقت کے ساتھ بڑھ گئی ہے۔  نمبر 2اور  نمبر 3دوکان والے بیٹوں کا مطالبہ ہے کہ  نمبر 1دوکان کی ویلیو زیادہ ہے۔ تو اس کی ویلیو باقی تین فریقوں کو دی جائے،جبکہ والد صاحب کی وفات ہوئی کو سات سال ہو گئے۔کیا جو دوکانیں بیٹوں کو تقسیم کر کے والد صاحب نے دیں وہ وراثت ہے؟ یا اب وراثت کے حساب سے دوبارہ تقسیم کی جائے۔ یہ بھی واضح رہے کہ بیٹوں کو تین دکانیں بغیر چھت کے مالک بنا کر دی گئی تھیں۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ کوئی دکان بیٹے اور بیٹیوں میں سے کسی نام نہیں کروائی گئی تھی، البتہ بیٹیوں کو دی گئی دکان ان کے قبضہ میں بھی نہیں دی گئی تھیں، زندگی میں کرایہ بھی والد صاحب خود لیتے تھے، نیز والد صاحب نے کسی بیٹے کو یہ بھی نہیں کہا تھا کہ یہ دکان بیٹیوں کا دے دینا، البتہ یہ دکان ان کے نام مختص کر دی گئی تھی کہ یہ دکان بیٹیوں کی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد صاحب کا زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا ہبہ(ہدیہ) کہلاتا ہے اور ہبہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک ہبہ کی گئی چیز کا باقاعدہ قبضہ نہ دیا جائے شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا، نیز ہبہ میں بہتر یہ ہے کہ سب بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیا جائے، البتہ اگر کسی اولاد کو اس کی دینداری، خدمت یا غربت وغیرہ کی وجہ سے کچھ زیادہ حصہ سے دیا جائے تو اس کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد مرحوم کا زندگی میں تینوں بیٹوں کو بغیر چھت کے تین  دکانیں ہبہ کرنا شرعا درست ہے، کیونکہ آج کل کے عرف میں چھت کے بغیر دکانوں اور فلیٹس وغیرہ کی خریدوفروخت ہوتی ہے اور اس صورت میں چھت سے مراد صرف اوپر والی سطح ہوتی ہے، چھت کا نیچے والا حصہ معاملے میں داخل سمجھا جاتا ہے، لہذا ہبہ کی گئی دکانوں کو مشغول بملک الواہب(ہبہ کرنے والے کی ملکیت کے ساتھ مشغول ہونا یا اس کے زیرِاستعمال  ہونا، جو کہ قبضہ سے مانع ہے)  نہیں شمار کیا جائے گا، لہذا بیٹوں کو ملکیتا دی گئی  تینوں دکانوں میں ہبہ درست ہو ا۔ باقی کارنر والی دکان چونکہ والد صاحب نے زندگی میں ایک بیٹےکو ہبہ کرکے قبضہ دے دیا تھا اس لیے اب اس کی قیمت بڑھنے سے اس بھائی سے کسی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

 جہاں تک بیٹیوں کو دی جانے والی دکان کا تعلق ہے تو چونکہ ان کو دکان کا قبضہ والد صاحب کی وفات کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے اس دکان میں بغیر قبضہ کے شرعا  ہبہ معتبراور درست نہیں ہوا، لہذا یہ دکان والد صاحب کی زندگی میں بدستور ان کی ملکیت میں رہی اور اب ان کی وفات کے بعد ان کے دیگر ترکہ میں شامل ہو کر ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔البتہ بھائیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دکان اپنے والد صاحب کی منشاء کے مطابق دونوں بہنوں کو دے دیں، کیونکہ انہوں نے  تینوں بیٹوں کو زندگی میں ایک ایک دکان اسی لیے دی تھی کہ یہ چوتھی دکان دونوں بیٹیوں کو ملے، نیز بھائیوں کے یہ دکان  اپنی بہنوں کو دینے سے بہن بھائیوں کے آپس کے تعلقات بھی اچھے رہیں گے اور آخرت میں بھی بھائیوں کو اس پر بہت بڑا اجر وثواب ملے گا۔

حوالہ جات

لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي ،  البابي الحلبي – القاهرة:

نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى.

الفتاوى الهندية (4/ 374) دار الفكر، بيروت:

أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز. وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها فلو وهبه على أن للموهوب له الخيار ثلاثة أيام صحت الهبة إن اختارها قبل أن يتفرقا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا

جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب