| 84716 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں امریکہ میں رہائشی ایک خاتون ہوں، میرے شوہر کے علاوہ میرے قریبی رشتہ دار میرے دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، میری موت کی صورت میں چونکہ حکومتی قانون کے مطابق میرا مال تقسیم ہو گا، اس لیے میں وصیت نامہ بنانا چاہتی ہوں، تاکہ تقسیم شریعت کے مطابق ہو، اس سلسلے میں میرے سوالات درج ذیل ہیں:
- میری دو بہنوں نے لکھ کر میرے وراثت سے دستبرداری کی ہے، باقی ایک بہن اور دو بھائی ہیں، کیا میں ان دو بہنوں کا حصہ صدقہ کر سکتی ہوں یا باقی بہن بھائیوں میں تقسیم کرنا فرض ہے؟
- ایک بہن سے میں نے کافی عرصہ سے بات چیت نہیں کی، کیونکہ ہرمرتبہ لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، ایک اس کو میراث میں سے حصہ دینا ضروری ہے؟
- مذکورہ بالا رشتہ داروں میں سے اگر کوئی حرام کام میں مبتلا ہو اور اس کی آمدن کا یک بڑا حصہ شرعی مصارف میں لگتا ہو تو اس کو میراث دینے کی صورت میں میں گناہ گار ہوں گی یا نہیں؟ کیا میں اس کا حصہ صدقہ کر سکتی ہوں۔
- میں اپنے مال کا اکثر حصہ کسی ایسے ادارے کو دینا چاہتی ہوں، جو میرے لیے صدقہ جاریہ بنے، اس کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ یہ بھی ملحوظ رکھیں کہ میرے بہن بھائیوں میں کوئی بھی غریب نہیں، میری چونکہ اولاد نہیں ہے،اس لیے میں اپنی زندگی میں اپنا مال صدقہ کرنے سے ڈر رہی ہوں کہ اگر میں بیمار ہو گئی یا بڑھاپے کو پہنچ گئی تو میرے سہارے کی کوئی صورت نہیں آتی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں:
پہلی بات: وراثت ایک شرعی اور جبری حق ہے، انسان زندگی میں اس حق سے کسی کو محروم نہیں کرسکتا، لہذا زندگی میں آپ کا یہ وصیت کر کے جانا کہ میرا مال میرے فلاں وارث کو نہ دیا جائے اس کا شرعا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ اس شخص کی وفات کے بعد وہ وارث اپنے شرعی حصہ کے مطابق میراث کا حق دار ہو گا۔
دوسری بات: زندگی میں آدمی کے مال کے ساتھ کسی شخص کا حق متعلق نہیں ہوتا، اس لیے آدمی زندگی میں اپنے مال کو کسی بھی جائز مصرف میں خرچ کرنے میں با اختیار ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی رشتہ دار زبانی یا تحریری طورپر اپنے مورث (جس کی وفات کے بعد شرعاً اس کی میراث کا مالک ہو) کے مالِ وراثت سے دستبرداری کا اعلان کرے تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا، کیونکہ کسی حق کے ثابت ہونے سے پہلے اس سے دستبرداری کے اظہار کا اعتبار نہیں، اس لیے یہ رشتہ دار بھی اپنے مورث کی وفات کے بعد شرعی حصہ کے مطابق حق دار ہو گا۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
- تمہید میں ذکر کی گئی تفصیل کی روشنی میں چونکہ مورث کی زندگی میں دستبرداری کا اعتبار نہیں، اس لیے جن دو بہنوں نے آپ کے مال سے آپ کی وفات کے بعد حصہ لینے سے دستبرداری کا اظہار کیا ہے، ان کے اس فعل کا اعتبار نہیں، لہذا یہ دو بہنیں آپ کی وفات کے بعد متروکہ مال میں اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گی۔ البتہ زندگی میں چونکہ آپ اپنے مال میں کسی بھی قسم کا جائز تصرف کرنے میں با اختیار ہیں اس لیے آپ زندگی میں یہ مال کسی بھی جائز مصرف میں خرچ کر سکتی ہیں۔
- جی ہاں! اس کو بھی میراث دینا ضروری ہے،کیونکہ حق جبری ہے، جو آپ کی وفات کے بعد خودبخود وورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گا، لہذا آپ کی یہ بہن بھی اپنے شرعی حصے کے مطابق حق دار ہو گی، جیسا کہ تمہید میں گزر چکا ہے۔ اور اگر آپ زندگی میں اپنی بہن کو عاق یعنی محروم کرنے کی وصیت کر گئیں تو یہ وصیت شرعاً غيرمعتبر اور کالعدم شمار ہو گی اور اس پر عمل نہیں ہو گا۔
- میراث چونکہ شرعی حق ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارث کو دیا گیا ہے، اس میں انسان کے فعل کا کوئی دخل نہیں ہے، اس لیے آپ کی وفات کے بعد اگر آپ کا یہ رشتہ دارآپ کی وراثت میں سے مال لے کر اس کو حرام کام میں صرف کرتا ہے تو اس میں آپ کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ ایسی صورت میں آپ کو یہ وصیت کرجانا چاہے کہ میری طرف سے بطورِ میراث ملنے والا مال حرام کام میں خرچ نہ کیا جائے۔ باقی اگر آپ اس کو ملنے والا حصہ زندگی میں صدقہ کرکے اس کو وراثت سے محروم کرنا چاہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا شرعی حق آپ کی وفات کے بعد ثابت ہو گا، اس سے پہلے اس کا آپ کے مال میں کوئی حق نہیں، لہذا آپ کی طرف سے کیا گیا صدقہ اس کے حصے کا صدقہ شمار نہیں ہو گا۔
- مذکورہ صورت میں آپ کا اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کرنا صرف جائز ہے، باقی مذکورہ صورت میں چونکہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مال سے نفع اٹھانا چاہتی ہو اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ جو جائیداد اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا چاہیں اس کو کسی مستند دینی ادارے کے لیے وقف کرتے وقت یہ شرط لگا دیں کہ اپنی زندگی میں اس جائیداد سے میں نفع اٹھاؤں گی اور میری زندگی کے بعد یہ فلاں ادارے کے لیے وقف ہے، اس صورت میں زندگی میں آپ کو اس جائیداد سے نفع اٹھانے کا حق حاصل ہو گا، اور پھر آپ کی وفات کے بعد وہ جائیداد متعین اور نامزد ادارے کے قبضہ میں دے دی جائےگی، البتہ اس طرح وقف کرنے کی صورت میں آپ کو اس جائیداد کی آمدن وغیرہ سے نفع اٹھانے کا حق حاصل ہو گا، اس کو بیچنے یا کسی کو بطور ہدیہ دینے کا اختیار نہیں ہو گا اور نہ ہی اس جائیداد میں وراثت جاری ہو گی، کیونکہ مال اور جائیداد وقف ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 513) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار" لأن الامتناع لحقهم وهم أسقطوه"ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته" لأنها قبل ثبوت الحق إذ الحق يثبت عند الموت فكان لهم أن يردوه بعد وفاته، بخلاف ما بعد الموت لأنه بعد ثبوت الحق فليس لهم أن يرجعوا عنه، لأن الساقط متلاش. غاية الأمر أنه يستند عند الإجازة، لكن الاستناد يظهر في حق القائم وهذا قد مضى وتلاشى، ولأن الحقيقة تثبت عند الموت وقبله يثبت مجرد الحق.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 299) دار الكتب العلمية، بيروت:
الثانية: لا يدخل في ملك الإنسان شيء بغير اختياره إلا الإرث اتفاقا.
لسان الحكام (ص: 236) البابي الحلبي – القاهرة:
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 15) دار احياء التراث العربي – بيروت:
وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث. واللفظ ينتظمهما والترجيح بالدليل. لهما قول النبي صلى الله عليه وسلم لعمر رضي الله عنه حين أراد أن يتصدق بأرض له تدعى ثمغا: "تصدق بأصلها لا يباع ولا يورث ولا يوهب" ولأن الحاجة ماسة إلى أن يلزم الوقف منه ليصل ثوابه إليه على الدوام، وقد
أمكن دفع حاجته بإسقاط الملك وجعله لله تعالى. إذ له نظير في الشرع وهو المسجد فيجعل كذلك.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 238) دار الكتاب الإسلامي:
وفي فتح القدير فقد ترجح قول أبي يوسف قال الصدر الشهيد والفتوى على قول أبي يوسف ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيبا للناس في الوقف واختاره مشايخ بلخ وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه ومن صور الاشتراط لنفسه ما لو قال أن يقضي دينه من غلته...............وفي الحاوي القدسي المختار للفتوى قول أبي يوسف ترغيبا للناس في الوقف وتكثيرا للخير ويتفرع على هذا الاختلاف أيضا ما لو وقف على عبيده وإمائه فعند محمد لا يجوز وعند أبي يوسف يجوز كشرطه لنفسه وفرع بعضهم عليه أيضا اشتراط الغلة لمدبريه وأمهات أولاده وهو ضعيف والأصح أنه صحيح اتفاقا والفرق لمحمد أن حريتهم ثبتت بموته فيكون الوقف عليهم كالوقف على الأجانب ويكون ثبوته لهم حال حياته تبعا لما بعد موته فما في الهداية والمجتبى من تصحيح أنها على الخلاف ضعيف قيد بجعل الغلة لنفسه لأنه لو وقف على نفسه قال أبو بكر الإسكاف لا يجوز وعن أبي يوسف جوازه وإذا مات صار إلى المساكين ولو قال أرضي صدقة موقوفة على أن لي غلتها ما عشت قال هلال لا يجوز هذا الوقف وذكر الأنصاري جوازه وإذا مات يكون للفقراء كذا في الخانية وفيها لو وقف وقفا واستثنى لنفسه أن يأكل منه ما دام حيا ثم مات وعنده من هذا الوقف معاليق عنب أو زبيب فذلك كله مردود إلى الوقف ولو كان عنده خبز من بر ذلك الوقف يكون ميراثا لأن ذلك ليس من الوقف حقيقة. اهـ. وحاصله أن المعتمد صحة الوقف على النفس واشتراط أن تكون الغلة له.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 467) دار الفكر-بيروت:
فصل فيما يتعلق بوقف الأولاد من الدرر وغيرها وعبارة المواهب في الوقف على نفسه وولده ونسبه وعقبه جعل ريعه لنفسه أيام حياته ثم وثم جاز عند الثاني وبه يفتى، كجعله لولده، ولكن يختص بالصلبي ويعم الأنثى ما لم يقيد بالذكر.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
22/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


