| 84525 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والدہ صاحبہ فوت ہو گئیں، میرے نانا اور نانی حیات تھے، ابھی نانا اور نانی بھی فوت ہو گئے، میرے ماموں آپس میں زمین تقسیم کرنے لگے ہیں، کیا نانی اور نانا کے ترکہ میں سے مجھے میری والدہ کا حصہ مل سکتا ہے؟ تفصیل سے جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے وراثت کا قانون آدمی کے فوت ہونے کے بعد جاری ہوتا ہے، اسی لیے آدمی کی زندگی میں اس کے مال کے ساتھ کسی بھی رشتہ دار کا کوئی حق متعلق نہیں ہوتا، لہذا اگر کوئی رشتہ دار آدمی کی زندگی میں فوت ہو جائے تو وہ شرعاوراثت کا حق دار نہیں ہوتا، اسی طرح وفات پانے والے کی اولاد بھی اس کے ترکہ میں سے کسی قسم کے حصہٴ میراث کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ زندگی میں اپنے والدین کے مال میں سے شرعاً کسی حصہ کی حقدار نہیں تھی، اس لیے اب ان کی وفات کے بعد آپ ان کے حصے کا مطالبہ نہیں کر سکتے، البتہ دیگر ورثاء کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر آپ ضرورت مند ہیں تو وہ اپنے حصہٴ میراث میں سے کچھ مال آپ کو دے دیں، قرآن کریم نے بھی اس کی ترغیب دی ہے، چنانچہ سورہٴ نساء میں ارشاد باری تعالی ہے:
القرآن الكريم[النساء: 8]:
{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا }
ترجمہ: اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔
(آسان ترجمہ قرآن: النساء: 8)
لہذا شرعی ورثاء کے آپ اور اس طرح کےدیگرغیر وارث رشتہ داروں کو دینے سے آپس میں تعلقات بھی اچھے رہیں گےاور دینے والے ورثاء اس کے عوض آخرت میں اجرِعظیم کے مستحق ہوں گے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 758) دار الفكر-بيروت:
وموضوعه: التركات، وغايته: إيصال الحقوق لأربابها، وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
یکم صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


