03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قاری صاحب کو طالب علم رقم کے عوض دینا اور پھر اس کو روک لینے کا حکم
84794غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

جب ایک قاری صاحب دوسرے شخص کو کمیشن کے عوض بچہ دے دیتا ہے تو اس کے بعد کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب بچہ  لاعلمی میں بیچنے والے قاری صاحب کے پاس فیس لے کر آتا ہے تو یہ بائع بچے کو اپنے پاس روک لیتا ہے، کیا اس کا یہ عمل درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب پہلے قاری صاحب نے کمیشن لے کر بچہ دوسرے شخص کے حوالے کر دیا تو اب اس کا اس بچے کو پڑھانے اور اس سے فیس وصول کرنے کا حق ختم ہو گیا، لہذا اس کے بعد اس قاری صاحب کا بچے کو اپنے پاس روک لینا کسی طرح جائز نہیں، اس میں دوسرے شخص کی حق تلفی ہے، لہذااس پر لازم ہے کہ وہ اس بچے کو دوسرے شخص کے حوالہ کرے، ورنہ یہ قاری صاحب مسلمان کی حق تلفی کرنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو ں گے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (4/ 1997) دار إحياء التراث العربي - بيروت:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»."

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب