| 84784 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
حاجی صدین خان اور رسول خان کا آپس میں مشترکہ دو جگہوں گلشن اقبال میں لکڑی کا ٹال (قیمت 120000) اور دستگیر لکڑی کا ٹال (قیمت 120000) تھا، دونوں کے درمیان کاروبار کی تقسیم کے وقت رسول خان نے کاروبار کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا کہا اور وہ تیسرا حصہ اپنے بھائی سلیم خان کے لیے مانگ رہا تھا، حاجی صدین خان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ آپ کا باپ شریک بھائی ہے، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اگر آپ کے ساتھ اس کا حصہ بنتا ہے تو آپ اپنے حصہ میں سے اس کو دے دیں، چنانچہ اس بات پر جھگڑا ختم ہوا کہ کاروبار میں اصل شراکت حاجی صدین اور رسول خان کی ہے اور حاجی سلیم کو مشترکہ کاروبارسے حصہ نہیں دیا جائے گا، چنانچہ ایک ٹال گلشن اقبال والا حاجی صدین کو اور دوسرا ٹال دستگیر والا حاجی رسول کو ملا، اس تقسیم پر ایک گواہ بھی موجود ہے اور وہ حیات ہے، البتہ ان دونوں شراکت داروں کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہ تقسیم 1975ء میں فریقین کی رضامندی سے ہوئی۔
کچھ عرصہ قبل حاجی سلیم کے بیٹوں نے حاجی صدین کے گھر پر ملکیت کا دعوی کر دیا اور وجہ یہ بتائی کہ ہمارے والد نے مرنے سے پہلے وصیت کی تھی کہ میرا ایک حصہ حاجی رسول کے پاس تھا جو وصول کر لیا تھا اور ایک حصہ حاضی صدین کے پاس تھا جو ابھی تک وصول نہیں کیا، لہذا حاجی صدین کے کاروبار میں ہمارے والد کا حق تھا، وہ ہمیں دیا جائے۔ جبکہ حاجی صدین کے بیٹے یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں حاجی سلیم ہمارے والد کے ساتھ نہ وراثت میں شریک تھا اور نہ کاروبار میں۔ لہذا اس کا کوئی حصہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ حاجی سلیم کے بیٹوں کا یہ دعوی کرنا اور حاجی صدین کے گھریا اس کی کسی جائیداد کراچی والی ہو یا گاؤں والی پر قبضہ کرنا صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کےمطابق اگر واقعتاً شراکت داری صرف دو شرکاء یعنی حاجی صدین خان اور حاجی رسول خان کے درمیان تھی اور 1975ء میں تقسیم کے وقت بھی کاروبار صرف دو حصوں میں تقسیم کرنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ کاروبار دو آدمیوں کے درمیان ہی مشترک تھا، لہذا اس صورت میں حاجی سلیم کا یہ وصیت کرنا درست نہیں تھا کہ میرا حصہ حاجی صدین کے پاس موجود ہے۔ باقی کسی بھی دعوی کوثابت کرنے لیے گواہوں کا ہونا ضروری ہے، اس لیے اگر حاجی سلیم کے بیٹے اپنے اس دعوی کو شرعی گواہوں یعنی دو مرد یا یک مرد اور دو عورتوں کے ذریعہ ثابت کر دیں کہ ہمارے والد کا حصہ حاجی صدین خان کے پاس موجود ہے تو گواہوں کے بیان کے مطابق حکم لگے گا اور اگر وہ گواہوں کے ذریعہ اپنے اس دعوی کو ثابت نہ کرسکیں تو حاجی صدین کے بیٹوں سے قسم لی جائے گی اور یہ قسم عدمِ علم پر لی جائے گی، مطلب یہ کہ وہ یوں قسم اٹھائیں گے کہ اللہ کی قسم ہمارے علم میں نہیں کہ حاجی سلیم کا کوئی حصہ ہمارے والد کی جائیداد میں تھا۔ اس طرح قسم اٹھانے کے بعد وہ برئ الذمہ ہو جائیں گے اور پھر اس کے بعد حاجی سلیم کے بیٹوں کو حاجی صدین کی کسی جائیداد پر ملکیت یا کسی حق کا دعوی کرنا ہرجائز نہیں ہو گا اوران پر لازم ہوگا کہ اس سے پہلے انہوں نے جس مکان پر قبضہ کیا ہوا ہے جلد از جلد اس کا قبضہ چھوڑ دیں، ورنہ وہ عند اللہ سخت گناہگار ہوں گے اور اس کا وبال دنیا اور آخرت دونوں جگہ ان کو بھگتنا پڑھ سکتا ہے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 355) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1748) إذا حلف أحد على فعله يحلف على البتات يعني يحلف قطعيا بأن هذا الشيء هكذا أو ليس بكذا , وإذا حلف على فعل غيره يحلف على عدم العلم يعني يحلف على عدم علمه بذلك الشيء.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(503/4)دار الجيل،بيروت:
المسألة الثانية - إذا ادعى المدعي قائلا: إن فلانا في حال حياته في التاريخ الفلاني قد استقرض مني كذا درهما وصرفها على أموره وهي حق لي حالا فأطلب إعطاءها لي من تركته وعند الإنكار عجز عن إثبات الدعوى وطلب تحليف الوارث اليمين فإذا أنكر الوارث دين مورثه فيحلفه القاضي على البتات والحاصل معا (والله لا أعلم أن مورثي مدين لهذا الرجل بكذا مبلغا) وإذا أنكر الوارث الاستقراض فيحلفه القاضي على عدم العلم وعلى السبب معا بقوله (والله لا أعلم أن مورثي قد استقرض من هذا الرجل كذا درهما) .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


