| 84798 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ترکہ کے مکان کی تعمیرات کے نام پر دونوں بھائیوں نے پچیس لاکھ 2500000روپے کی کمیٹی ڈالی تھی اور دونوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے ڈالی ہے، اب ایک بھائی کا کہنا ہے کہ کل رقم مکان کی تعمیرات کے لیے ہے ، کسی اور مقصد کے لیے اس کا مطالبہ نہیں کر سکتے کیایہ جائز ہے ؟ نیزترکہ کے مکان میں تعمیرات کے لیے دوسرے بھائی کی زوجہ اور بھائی سے برابر رقم کا مطالبہ کرنا کہ اگر آپ پیسے دیں گے تو آپ کو کمرہ بنا کر دیں گے، ورنہ نہیں، کیا یہ عمل درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دونوں بھائیوں نے مکان کی تعمیر کے لیے اپنے ذاتی پیسوں سے جو کمیٹی ڈالی ہے وہ رقم ان کی ملکیت ہے اور ہر بھائی اس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے میں شرعا بااختیار ہے، کیونکہ فقہی اعتبار سے یہ شرکتِ ملک ہے اور شرکتِ ملک میں ہر آدمی اپنی ملکیتی چیز کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، لہذا ان میں سے ایک بھائی کا یہ کہنا درست نہیں کہ یہ رقم صرف تعمیر کے لیے استعمال ہو گی،کسی اور مقصد کے لیے اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ مکان اور دونوں کو تقسیم کر لیا جائے اور پھر ہر بھائی مرضی سے اپنے مکان پر جتنی تعمیر کرنا چاہے کر لے، دوسرے شخص کو برابر کی تعمیر کرنے پر مجبور کرنا درست نہیں، کیونکہ ممکن ہے اس میں اتنی رقم خرچ کرنے کی ہمت نہ ہو یا دیگر ضروریات کے پیشِ نظر وہ اتنی رقم مکان کی تعمیر پر نہ لگانا چاہتا ہو۔
البتہ مشترکہ مکان کی تعمیر کے لیے اس کے رقم نہ دینے کی صورت میں تعمیرکروانے والے بھائی پر لازم نہیں کہ وہ دوسرے بھائی کو بھی کمرہ تعمیر کر کے دے، کیونکہ دوسرا بھائی اپنے بیوی بچوں کی رہائش اور نان ونفقہ کا خود ذمہ دار ہے، البتہ اگر صاحبِ استطاعت بھائی اپنے دوسرے بھائی کی تنگ دستی کو دیکھتے ہوئے اس کے مکان کی تعمیر پر کچھ رقم لگا دے گا تو قیامت کے دن اس کو بہت بڑا اجر وثواب ملے گا، نیز اتنی رقم خرچ کرنے پر صدقہ کے اجر کے علاوہ اس کو اپنے بھائی کے ساتھ صلہ رحمی کا اجر بھی ملے گا، جس کی قرآن وسنت میں بہت ترغیب دی گئی ہے۔
حوالہ جات
القرآن الكريم :الرعد: 20-24{:
وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ (21) وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ (22) جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (24 [
مجلة الأحكام العدلية (ص: 204) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 1060) شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك كالاشتراء والاتهاب وقبول الوصية والتوارث أو بخلط, واختلاط الأموال يعني بخلط الأموال بعضها ببعض بصورة لا تكون قابلة للتمييز
والتفريق أو باختلاط الأموال بتلك الصورة بعضها ببعض. مثلا: لو اشترى اثنان مالا أو وهبه أحد لهما أو أوصى به وقبلا أو ورث اثنان مالا فيكون ذلك المال مشتركا بينهما ويكونان ذوي نصيب في ذلك المال ومتشاركين فيه ويكون كل منهما شريك الآخر فيه. كذلك إذا خلط اثنان ذخيرتهما بعضها ببعض أو اختلطت ذخيرتهما ببعضها بانخراق عدولهما فتصير هذه الذخيرة المخلوطة أو المختلطة مالا مشتركا بين الاثنين.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 206) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


