03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر تقسیم کے وراثتی مکان پر تعمیر کرنے کا حکم
84797میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا دوسرے وراثوں کی رضامندی کے بغیر مکان میں اپنے حصے کا تعین کرکے تعمیرات کرنا جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیا صورت بنے گی؟ اگر ایک وارث نے ترکہ کے مکان میں تعمیرات پر رقم لگا دی تو کیا یہ رقم تقسیم کے وقت واپس ملے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ وراثت کی تقسیم ہر وارث کا شرعی حق ہے، وراثت تقسیم کرنے سے پہلے وفات پانے والے کے ہرچھوٹے بڑے سازوسامان میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوتے ہیں اور شرعی اعتبار سے کسی بھی وارث کو دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر مشترکہ وراثت میں سے کسی بھی چیز کو استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال شرعا ناجائز اور گناہ ہے، اس لیے وراثت کی تقسیم جلد از جلد کرنا ضروری ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے دیور کا وراثت تقسیم کرنے سے پہلے خود ہی اپنے حصے کا تعین کر کے اس پر تعمیر کرنا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ دیگر ورثاء کی باہمی رضامندی سے وراثتی مکان کو تقسیم کرے اور اپنے حصے میں آنے والی جگہ پر تعمیر کروائے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور مشترکہ مکان کی تعمیر پر رقم خرچ کردیتا ہے تو یہ تعمیر اس کی ملکیت ہو گی،جس کو اکھاڑنے کا اس کو شرعاحق حاصل ہو گا اور اگر وراثت کی تقسیم کے وقت تمام ورثاء باہمی رضامندی سے اس کو تعمیر کی قیمت ادا کر دیں تو یہ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:

 ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له

أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.

وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.

الفتاوى الهندية (2/ 301) دار الفكر، بيروت:

وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 141) دار المعرفة، بيروت:

المستأجر إذا عمر في الدار المستأجرة عمارات بإذن الآجر يرجع بما أنفق وإن لم يشترط الرجوع صريحا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب