| 84687 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
کسی سے چار یا پانچ کفریات صادر ہوگئے اور اس کو یاد بھی ہوں اور اس نے ان الفاظ سے توبہ کی یا اللہ آج تک جتنے بھی کفریات صادر ہوئے ہیں ،سب سے توبہ کرتی ہوں ،کلمہ طیبہ پڑھ لیا ارو اس کے بعد نکاح کرلیا اور حج بھی کیا،مفتی صاحب پوچھنا یہ تھاکہ جس طریقہ پر توبہ کی ہے وہ کافی ہے اور نکاح بھی کیا وہ درست ہے ؟یا ہر ہر جملہ سے توبہ کرے اور ہر بار کلمہ پڑھے؟اور نکاح حج کا کیا حکم ہوگا؟یا جن الفاظ سے توبہ کی ہے وہ کافی ہے؟ مفتی صاحب صحیح لفظ بتادیں یا جس طریقہ پر توبہ کی ہے کافی ہے؟ اگر کسی سے ایک کفریہ کلمہ نکال ہو اور یاد بھی ہوتو توبہ میں ان الفاظ کا دہرانا لازمی ہوتاہے ؟ورنہ تجدید ایمان نہیں ہوتا؟.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسی سے ایک دفعہ یا کئی دفعہ کفر کا کوئی ایک جملہ،یا زیادہ کلمات صادر ہوگئے ہوں ،تو ایک ہی مرتبہ اپنے ایمان کی تجدیدکرے، اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مجھ سے جتنے کلمات ِکفر صادر ہوئے ہیں، ان تمام کلمات سے توبہ کرتا ہوں، ان کفریہ کلمات کو زبان سے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور آئندہ کے لیے ایسے کلمات کہنے سے مکمل اجتناب کرے،اور جو کچھ ہوا ہے اس پر نادم بھی ہو۔
تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ کلمۂ شہادت زبان سے ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کتابوں، فرشتوں، رسولوں، آخرت کے دن، اچھی بری تقدیر اور روزِ قیامت جیسے بنیادی عقائد پر ایمان کا اعتراف کرلے۔البتہ اگر کسی چیز سے انکار کی بنا پر ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو اس کا اقرار کر لے ،مثلاً :توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو توحید کا اقرار کرے۔ لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ نے سوال میں مذکورجس طریقہ پرتوبہ کی ہے وہ کافی ہے اوراس توبہ کرنے سے سائلہ مسلمان ہوچکی ہے ،پھر سے تجدیدایمان کرنے کی ضرورت نہیں ،سائلہ کو چاہیے کہ آئندہ احتیاط کرے، اس کے بعد کیے گئے نکاح ،حج وغیرہ سب درست ہیں۔
حوالہ جات
وفی الھندیة"( 2 / 253):
"وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحي
نوید اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


