| 84564 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
2019 میں میری شادی ہوئی، میرا رشتہ رشتے والی آنٹی نے کروایا تھا،نکاح میں میرا حق مہر پچھتر ہزار روپے رکھوایا گیا تھا، جس کی ادائیگی نہیں کی گئی، ولیمے کے اگلے دن سے ہی سابقہ شوہر نے اپنی نوکری چلے جانے کا بتایا تھا،پھر چار سال تک اس نے کوئی نوکری نہیں کی اور نہ ہی کرنا چاہتا تھا، بیوی کو نان ونفقہ نہیں دیتا تھا، اگر میں جاب کا کہتی تھی تو لڑتے جھگڑتے تھے، میری ہر بات کا غلط مطلب نکالتے تھے، بہت طنز سےکہتا تھا کہ مجھے سمجھا رہی ہو؟ ایک عقلمند انسان کو؟ مجھے مت بتاؤ !مجھے سب پتا ہے۔آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، نہ سسر نوکری کرتا تھا،نہ بیٹا نوکری کرتا تھا اور نہ ہی کرنا چاہتے تھے۔
مارنا پیٹنا اس کا روز کا معمول تھا ،ایک دن میں حسب معمول گھر کے کام میں مصروف تھی مجھے بلایا اور بلا وجہ مارنا شروع کر دیا اور کہا کہ جب جب تیرے گھر والوں کی کوئی بات مجھے بری لگے گی تو اسی طرح پٹے گی، خود کوئی نوکری نہیں کرتا تھا ،گھر میں کھانے پینے کی تنگی تھی، فاقوں تک کی نوبت آگئی تھی، صدقہ وخیرات سے گھر میں راشن ڈلتا تھا، اسی لیے میں نے اسکول میں جاب کر لی، میری سیلری سے گھر کا کرایہ جاتا تھا، پھر بھی پریشانی تھی، میں سلائی بھی کرتی تھی، اس کے جو بھی پیسے آتے تھے وہ میرا شوہر اور ساس لے لیا کرتے تھے، میرے پاس کوئی پیسہ نہیں چھوڑتے تھے، بیوی کو نان ونفقہ نہیں دیتا تھا، بلکہ الٹا بیوی کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑتا تھا، جو کہ میں خود کماتی تھی، اس کے باوجود بھی میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہوتا تھا، میں ایک کلو میٹر سے زائد کا راستہ روزانہ پیدل چل کے اسکول آنا جانا کرتی تھی، میرا شوہر مجھے اسکول چھوڑنے اور لینے تک نہیں جاتا تھا، نہ کرائے کے پیسے دیتا تھا اور جب میں اسکول سے واپس آتی تھی تو تیسری منزل پر میں کھڑی دروازہ بجاتی رہتی تھی کوئی دروازہ نہیں کھولتا تھا، بہت دیر بعد میرا شوہر دروازہ کھولتا تھا اور گالیاں دیتا تھا کہ میری نیند خراب کردی، یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ میری ساس کا رویہ بے حد خراب تھا ،ملازموں کی طرح سلوک کرتی تھی،کبھی بھی تمیز سے بات نہیں کی، کسی کے سامنے تو عزت سے بات کرلیتی تھی اور گھر میں میرے ساتھ ملازموں سے بد تر سلوک تھا، بات بات پہ کہتی تھی اپنا سامان اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ، زیور وغیرہ ہمارا واپس کرو اور خلع لے لو ۔میرا شوہر ،ساس سسر کبھی میرے ماں باپ کو برا بھلا کہتے تھےاور غلیظ گالیاں دیتے تھے اور کبھی بہن بھائیوں کو، میں اپنے سسرال میں بہت تنگ تھی۔ میرا شوہر اور سسر ساری ساری رات میرے کمرے میں بیٹھے فلمیں دیکھتے رہتے تھے، جب کہ صبح مجھے اسکول بھی جانا ہوتا تھا اور دن بھر گھر کے کام کاج ، سلائی کڑھائی ، صفائی ستھرائی ، کھانا پکانا اور یہ سب بھی کرنا ہوتا تھا اور میں آرام کرنے سے قاصر تھی، شدید ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کے باوجود بھی آرام کا موقع نہیں دیتے تھے، آدھی آدھی رات کو سسر مجھے اٹھا کےکپڑے استری کروایا کرتے تھے، میرا سسر میرے ساتھ نازیبا اور ذو معنی باتیں کرتا تھا ، اسی وجہ سے میں ہر وقت خوفزدہ رہتی تھی، میرا شوہر مجھے کہتا تھا کہ جب تک اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے میری لیے لڑو گی نہیں انہیں برا بھلا نہیں کہو گی، مجھے تمہاری محبت کا یقین نہیں آئے گا ،میرا شوہر مجھےجاہل عورت بے غیرت عورت اور گالم گلوچ اور ایسے ایسے نازیبا الفاظ سے نوازتا تھاجو کہ ایک شریف النفس عورت کے لیے بالکل بھی معتبر نہیں ہوتے ، میرے لیے زندگی تنگ کردی تھی، کھانا کھانے سے پہلے اجازت لینی پڑتی تھی۔
اس کے باوجود بھی مجھے پھر بھی کوستے جاتے تھے ، گالم گلوچ اور حقارت کی نگاہ سے طعنے دیتے تھے اور مارپیٹ سے نوازا جاتا تھا یہ سب خدمات انجام دینے کے باوجود بھی ایسا سلوک روا رکھا جاتا تھا،جو عذاب میں نے اس گھر میں بھگتا ہے یا تو میں جانتی ہوں یا میرا رب جانتا ہے۔ ساری باتوں کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے، ان چار سالوں کا حساب الفاظ میں دینا ناممکن ہے،مہینوں مجھے میرے ماں باپ سے ملوانے نہیں لے کے جاتا تھا اور جب اس کی اپنی کوئی ضرورت (پیسے وغیرہ) ہوتی تھی تو پھر مجھے میرے والدین سے ملوانے لے کے جاتا تھا،بات بات پہ سسر بھی یہ کہتا تھا کہ میں اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروا دوں گا اور میرا شوہر خود یہ بات کہتا تھا کہ میں دوسری شادی کر لوں گا ۔ دھمکیاں دیتے تھے، مجھے اور ٹارچر کرتے تھے اس بات سےاور ان سب باتوں کی وجہ سے میں ذہنی اذیت کا شکار رہتی تھی۔
اتنی سخت محنت اور خدمت کے باوجود بھی میں اپنا گھر بچانا چاہتی تھی اور میں صرف گزارا کر رہی تھی اور میں نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے بارے میں بھی نہیں بتایا تھا اس کے باوجود ٦۔٧۔٢٠٢٣ء کو گھر والوں نے مجھےبغیر سامان کے گھر سے نکال دیا اور کہا کہ اپنا سامان اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ۔ ان لوگوں کے اس رویے اور میرے ساتھ ہونے والے سلوک کو جاننے کے بعد میرے گھر والوں نے عدالت سے اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ لینے کا فیصلہ کیا اور جب عدالت نے ان کو سمن بھیجا اور اخبار میں بھی شائع کروایا ،مکمل عدالتی کاروائی کے دوران ان کے گھر سمن گیا، لیکن اس کے باوجود بھی یہ ظالم اور متکبر انسان کسی ایک بھی پیشی پر عدالت کے رو برو پیش نہیں ہوا اس لیے عدالت نے اپنی مکمل کاروائی کے بعد اسلامی اصولوں کے عین مطابق خلع کی ڈگری جاری کر دی۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدالت کی ڈگری معتبر ہے؟
وضاحت: سائلہ کے بھائی نے بتایا کہ میں اور میرا والد بطورِ گواہ پیش ہوئے تھے، عدالت نے ہم دونوں سے اور ہماری ہمشیرہ سے حلفیہ بیان لیا گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتا شوہر نان ونفقہ نہیں دیتا تھا اور مارنا پیٹنا اس کی عادت تھی تو اس صورت میں شوہر کے طلاق یا خلع نہ دینے پر آپ کے لیے عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لینا جائز تھا اور عدالت نےجب آپ کے حلفیہ بیان اور آپ کے بھائی کی گواہی کےذریعہ دعوی کو ثابت تسلیم کرتے ہوئے فسخِ نکاح کا فیصلہ کر دیا تو مالکیہ مسلک کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ درست اور نافذ ہے، اگرچہ اس فیصلہ میں خلع کے الفاظ لکھے گئے ہیں اور خلع کے لیے زوجین کی باہم رضماندی ضروری ہے، اس لیے ضرورت کے پیشِ نظر عدالت کے ان الفاظ کو فسخِ نکاح پر محمول کیا جائے گا، لہذا فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے اور وہ عدت مکمل ہونے پر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
جہاں تک حق مہر کا تعلق ہے تو وہ عورت کا شرعی حق ہے اور سابقہ شوہر پر اس کی ادائیگی فوراً واجب ہے اور اگربالفرض وہ حق مہر ادا نہیں کر رہا تو آپ عدالت سے رجوع کر کے حق مہر وصول کر سکتی ہیں۔
حوالہ جات
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:
وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


