| 84697 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سرکاری ملازمت کے لیے ایک سیٹ خالی تھی، چار امیدواروں نے امتحان پاس کر کے انٹر ویو دیا، جن میں سے ایک کو تو مکمل ناکام یعنی فیل کر دیا گیا، جبکہ تین لوگ پاس ہوئے۔ ان میں سے پہلے نمبر پر میرا نام، دوسرے نمبر پر فرض کریں زید کا نام ہے اور تیسرے نمبر پر کسی اور مثلا کاشف کا نام ہے۔ اگر میں ملازمت کی پیشکش قبول نہیں کرتا تو میرٹ میں دوسرے نمبر والے یعنی زید کو وہی ملازمت دی جائے گی۔
(1)۔۔۔ اب اگر زید میری منتیں کرتا ہے کہ میں ملازمت کی پیشکش قبول نہ کروں؛ کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ مجبور ہے، اور اس ضمن میں وہ مجھے کچھ رقم، فرض کریں پچاس ہزار روپے، بھی دینے کو تیار ہے تو کیا میں اس صورت میں زید سے رقم لے کر سرکاری ملازمت کی پیشکش بہ خوشی رد کر کے زید کو وہ ملازمت حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہوں؟ میری لی گئی رقم کے بارے میں کیا حکم ہو گا ؟
(2)۔۔۔ کیا میں زید سے خود اپنی ملازمت رد کرنے پر کسی معاوضہ یا رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟ اس رقم کا کیا حکم ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(2-1)۔۔۔ اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے اور آپ واقعتًا ملازمت کے لیے منتخب ہوچکے ہیں، صرف ملازمت شروع کرنا (Joining) باقی ہے تو آپ اپنا یہ حق دوسرے نمبر پر آنے والے شخص کے لیے چھوڑ کر اس کے عوض اس سے رقم لے سکتے ہیں، چاہے وہ آپ کو پیش کش کرے یا آپ اس کو پیش کش کریں، دونوں صورتوں کا حکم ایک ہے۔ یہ معاملہ فقہی تکییف کے اعتبار سے "حق الأسبقیة" اور "حق إنشاء العقد" سے صلح اور تنازل کے زمرے میں آتا ہے۔
حوالہ جات
بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/101-94):
2- حق الأسبقیة:
والنوع الثاني من الحقوق العرفیة نستطیع أن نلقبه ب "حق الأسبقیة"، وهو عبارة عن حق التملك أو الاختصاص الذي یحصل للإنسان بسبب سبق یده إلی شیئ مباح، مثل حق التملك بإحیاء الأرض………. ولم أر في کتب الحنفیة والمالکیۃ من تعرض لمسألة بیع حق الأسبقیة، وقد ذکروا أن التحجیر تثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن لم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم، وقیاس قولهم أنه لایجوز عندهم أیضا، إلا أن یکون بطریق التنازل.
فخلاصة الحکم في بیع حق الأسبقیة: أنه وإن کان بعض الفقهاء یجوزون هذا البیع، ولکن معظمهم علی عدم جوازه، ولکن یجوز عندهم النزول عنه بمال علی وجه الصلح، والله سبحانه أعلم.
3- حق العقد:
والنوع الثالث من هذه الحقوق ما نستطیع أن نسمیه ب "حق العقد"، ونقصد بذلك إنشاء عقد مع آخر، أو إبقائه، مثل خلو الدور والحوانیت، فإنه حق لإنشاء عقد الإجارة مع صاحب الدار أو الحانوت أو إبقائه، ومثل حق الوظائف السلطانیة أو الوقفیة، فإنه حق لإبقاء عقد الإجارة مع الحکومة أو ناظر الوقف. …………… والذي یتلخص من کلام الفقهاء في هذا الباب أن بیع حق الوظیفة لایجوز عندهم، ولکنه یجوز عند جمهور الفقهاء المتأخرین أن یتنازل صاحب الوظیفة عن حقه ویأخذ علی ذلك مالا من الذي تنازل في حقه.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


