03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد کی موجودگی میں پوتے وارث نہیں ہوتے
84639میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے دادا ابو کی کل جائیداد 3 کروڑ 2 لاکھ ہے، کوئی قرض نہیں ہےاور کوئی وصیت نہیں کی گئی ہے، دادی اماں کا انتقال ہو چکا ہے، دادا ابو ابھی حیات ہیں، ایک تایا ابو کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے تین بیٹے ہیں، ایک پھوپھا کا انتقال ہو چکا ہے، ان کی صرف ایک بیٹی ہے اور ان کے آگے پیچھے کوئی نہیں رشتہ دار ہے۔تو کیا تایا ابو اور پھوپھا کے بچوں کو دادا کی وراثت ملے گی؟ اگر ملے گی تو کتنا حصہ؟دادی کےترکے کا کیا کریں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کے دادا حیات ہیں اس لیے زندگی میں ان کے مال میں کسی بھی شخص کا کوئی حق متعلق نہیں ہے، اس لیے زندگی میں وہ اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کر سکتے ہیں، البتہ اگر اولاد کو کوئی جائیداد دینا چاہیں تو اس میں عدل وانصاف کے تقاضے  پورے کرنا ضروری ہے(جس کی تفصیل سوال نمبر3 کے تحت آرہی ہے) باقی دادا کی وفات کے بعد  ان کی تمام متروکہ جائیداد ان کے ورثاء (جو ان کی وفات کے وقت حیات ہوں، لہذا دادا کی وفات کے وقت ان کی تفصیل ذکر کرکے ہر وارث کا شرعی حصہ معلوم کر سکتے ہیں) میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی اور وراثت کی تقسیم سے متعلق اصول  یہ ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار آدمی کی زندگی میں فوت ہو جائے تو وہ شرعاوراثت کا حق دار نہیں ہوتا، اسی طرح  فوت ہونے والے کی اولاد بھی اس کے ترکہ میں سے کسی قسم کے حصہٴ میراث کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔

لہذا مذکورہ صورت میں آپ  کے تایا کی اولاد آپ کے داداکے مال میں سے ان کی وفات کے بعدشرعاً کسی حصہ کی حقدار نہیں، نیز وراثت کے قانون کے مطابق بھی اولاد کی موجودگی میں پوتے اور نواسے وارث نہیں ہوتے، کیونکہ شریعت کی رُو سے وراثت میں قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دُور کا رشتہ دار وارث نہیں بنتا۔البتہ دیگر ورثاء کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر اس طرح کے غیر وارث رشتہ دار ضرورت مند ہوں تو وہ اپنے حصہٴ میراث میں سے کچھ مال آپ کو دے دیں، قرآن کریم نے بھی اس کی ترغیب دی ہے:

   القرآن الكريم[النساء: 8]:                                                                

{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا }

ترجمہ: اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔    

جہاں تک پھوپھا کا تعلق ہے تو ان کی وفات سے تقسیمِ وراثت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ پھوپھا یعنی آپ کے دادا کا داماد شرعاً وارث نہیں، باقی پھوپھا کی بیٹی یعنی دادا کی نواسی  بھی بہر صورت وارث نہیں،  کیونکہ اولاد کی موجودگی میں نواسی اور نواسے وغیرہ شرعاً وارث نہیں ہیں، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، باقی دادی کا ترکہ اس کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، جن کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

صحيح الإمام البخاري (4/ 196) مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع، الرياض

عن ابن عباس رضي الله عنها عن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال: "ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل  ذكر".

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

14/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب