03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسرے شخص کے چینل سے مواد اٹھا کر اپنے اکاؤنٹ پر ڈالنا اور کمائی کرنا
84725جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

پاکستان میں اب ٹک ٹاک (Tik Tok) کی مونیٹائزیشن ہوجاتی ہے، جس سے لوگ کمائی کرتے ہیں۔ ایک شخص کا یوٹیوب چینل ہے، وہ اس سے کمائی کرتا ہے، لیکن ٹک ٹاک پر اس کا اکاؤنٹ نہیں ہے تو کیا کسی اور کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس کے یوٹیوب چینل سے مواد (Contents) اٹھا کر اس میں ایڈیٹنگ کرے، پھر اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر لگائے، اس سے اپنا اکاؤنٹ مونیٹائز کرائے اور اس سے کمائی کرے؟ یہ کمائی حلال ہوگی یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی دوسرے شخص کے مواد (Contents) کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے اکاؤنٹ یا چینل پر ڈالنا اور اس سے رقم کمانا جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اپنا مواد یا دوسرے شخص کا مواد اس کی اجازت سے اپنے اکاؤنٹس اور چینلز پر اپلوڈ کر کے (ان پر چلنے والے اشتہارات) کے ذریعے کمائی بھی مطلقا جائز نہیں، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے، جن کی تفصیل بوقتِ ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       23/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب