| 84725 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
پاکستان میں اب ٹک ٹاک (Tik Tok) کی مونیٹائزیشن ہوجاتی ہے، جس سے لوگ کمائی کرتے ہیں۔ ایک شخص کا یوٹیوب چینل ہے، وہ اس سے کمائی کرتا ہے، لیکن ٹک ٹاک پر اس کا اکاؤنٹ نہیں ہے تو کیا کسی اور کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس کے یوٹیوب چینل سے مواد (Contents) اٹھا کر اس میں ایڈیٹنگ کرے، پھر اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر لگائے، اس سے اپنا اکاؤنٹ مونیٹائز کرائے اور اس سے کمائی کرے؟ یہ کمائی حلال ہوگی یا حرام؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی دوسرے شخص کے مواد (Contents) کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے اکاؤنٹ یا چینل پر ڈالنا اور اس سے رقم کمانا جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اپنا مواد یا دوسرے شخص کا مواد اس کی اجازت سے اپنے اکاؤنٹس اور چینلز پر اپلوڈ کر کے (ان پر چلنے والے اشتہارات) کے ذریعے کمائی بھی مطلقا جائز نہیں، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے، جن کی تفصیل بوقتِ ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


