03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسری شادی کرنے پر دباؤ میں تین طلاق لکھ کر دینے کا حکم
84816طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میں نے دوسری شادی کی، جب میرے گھر والوں کو اطلاع ہوئی تو ماں نے کہا کہ اسے طلاق دینا ہو گی، ورنہ میں گھر چھوڑ کر کہیں چلی جاؤں گی، پہلے تمہارے والد فوت ہو چکے ہیں، اب تم نے اگر طلاق نہ دی تو مجھے بھی کھو دو گے، پھر اپنی چھوٹی بہن کی پرورش خود ہی کرو گے۔ اور پہلی بیوی نے کہا اگر طلاق نہ دی تو میں کورٹ سے خلع لے لوں گی، میں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی، مگر معاملہ حل نہ ہوا، بالآخر میں نے ذہنی دباؤ میں آکربغیر نیت کے تحریری طلاق لکھ دی اور دل میں نیت کی کہ میں اصل میں طلاق نہیں دے رہا، بلکہ صرف ان کو ڈرا رہا ہوں، طلاق دینے کے وقت"میں اور میری پہلی بیوی گھر میں اکیلے تھے تو پہلی بیوی کے اصرار پر میں نے دو طلاقیں لکھیں اور تیسری کے بارے میں کہا کہ جب میری ماں آجائے گی تو لکھ دوں گا، پھر والدہ کے آنے پر میں نے تیسری طلاق بھی لکھ دی"  میں مطمئن تھا کہ طلاق نہیں ہو گی، کیونکہ میں نے اسلامی اسکالر کا بیان سنا تھا کہ دباؤ میں آکر طلاق لکھ کر دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جبکہ اس واقع کے بعد جب ہم دارالعلوم کرونگی گئے تو انہوں نے رف یہ پوچھا کہ آپ کو قتل وغیرہ کی دھمکی دی گئی تھی یا نہیں؟ تو میں نے کہا نہیں۔ اس سے مجھے ڈر لگا کہ ہیں کہیں طلاق کا فتوی نہ آجائے۔ اس لیے آپ کے سامنے ساری صورتِ حال رکھی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اگرچہ اکراہ کی حالت میں لکھ کر دی جانے والی طلاق کے عدمِ وقوع کا حکم لگایا ہے، لیکن سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال اکراہ اور زبردستی کی نہیں ہے، کیونکہ احکام میں اکراہ کی وہ حالت معتبر ہے جس میں آدمی کو مارنے یا قید کی دھمکی دی جائے یا کم از کم اس فعل کے ارتکاب کی صورت میں آدمی کو شدید غم لاحق ہو، جیسےکسی باعزت شخص کو لوگوں کے سامنے گالم گلوچ کے ذریعہ ذلیل کرنا وغیرہ۔ جبکہ صورتِ مسئولہ  ایسی حالت نہیں تھی، بلکہ  والدہ اور پہلی بیوی کی طرف سے دوسری بیوی کو طلاق پر صرف دباؤ (جس کو آپ نے ذہنی دباؤ سے تعبیر کیا) تھا  اور طلاق دینے کے وقت کی صورتِ حال کے بارے میں آپ نے لکھا کہ "میں اور میری پہلی بیوی گھر میں اکیلے تھے تو پہلی بیوی کے اصرار پر میں نے دو طلاقیں لکھیں اور تیسری کے بارے میں کہا کہ جب میری ماں آجائے گی تو لکھ دوں گا، پھر والدہ کے آنے پر میں نے تیسری طلاق بھی لکھ دی" اس تمام صورتِ حال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ پر کوئی جبرواکراہ اور زور وزبردستی نہیں تھی، بلکہ سوال کے مطابق آپ  پرمحض ذہنی دباؤ تھا اور کسی کام پر دباؤ شرعا احکام میں معتبر اور مؤثر نہیں، اس لیے اس کو اکراہ شمار نہیں کیا جا سکتا، نیز ہمارے عرف اور معاشرے میں عورتیں عام طور پر معمولی ناچاکی اور اختلاف کی وجہ سے خلع یا طلاق لینے یا بچوں کو لے جانے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں، اس لیے اس طرح کے واقعات کو شرعا اکراہ شمار کرنا ممکن نہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ  کے منسلکہ کاغذ پر تین طلاقیں لکھنے اور اپنے ہوش وحواس میں اس کے نیچے دستخط کرنےسےدوسری بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان  رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص عورت  کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

            صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

             صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال

الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/ربیع الاول 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب