| 84628 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
سوال: السلام علیکم مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک آدمی فوت ہوگیاہے،اسکی حقیقی اولاد نہیں، ایک لےپالک بیٹاہے اور ایک
لےپالک بیٹی ہے بس، اس نےاپنی پوری ملکیت انکو اپنی زندگی میں دیدی ہےتوکیاحکم ہے؟
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ مذکورہ شخص نےلےپالک بیٹے کواپنی جائیداددینےکاکہاتھا،اسی طرح مذکورہ شخص کی بیوی نےبھی ایک الگ سےلڑکی کو لےپالک بنایاہواتھا،اس نےبھی اسی طرح کہاکہ میری جائیدادمیری لےپالک بیٹی کی ہے،لیکن میاں بیوی دونوں نےاپنی زندگی میں جائیدادتقسیم کرکےمکمل قبضہ میں نہیں دی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صوت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص نےاپنی زندگی میں اپنی ملکیتی جائیدادوغیرہ لےپالک بیٹےکوقبضےمیں نہیں دی ،اسی طرح مذکورہ شخص کی بیوی نےاپنی جائیدادلےپالک بیٹی کوقبضہ میں نہیں دی ،اس لیےدونوں کی طرف سےہبہ مکمل نہیں ہوا۔
لہذامذکورہ شخص کی وفات کےبعداس کی جائیدادلےپالک بیٹےکی نہیں ہوگی،بلکہ اس کی اپنی ملکیت شمارہوگی اوراس کی وفات کےوقت موجود ورثہ (علاتی بھائی بہن )میں تقسیم ہوگی ۔
جہاں تک مذکورہ شخص کی بیوی کاتعلق ہےتوچونکہ شرعااس کی طرف سےبھی اپنی لےپالک بیٹی کوہبہ مکمل نہیں ہوا،لہذااس کی جائیدادبھی وفات کےوقت موجودورثہ میں تقسیم ہوگی ۔
بیوی کی وفات کےوقت موجود ورثہ کی تفصیل لکھ کرکسی معتبردارالافتاء سےمیراث کےحصوں کی تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
"شرح المجلۃ" 1 / 473 :
ویملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض فالقبض شرط لثبوت الملک ۔
"شرح المجلۃ" 1 /462 :
وتتم بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
15/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


