| 84694 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
سوال:السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان دین متین مسئلہ ذیل میں کہ:
ایک بھائی کی تین بہنیں ہیں، جس میں سے دو بہنوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا گیا ، ایک بہن نے بھائی سے لڑجھگڑ کر اپنے حصہ کا 7 مرلہ 3 کنال رقبہ لینا چاہا ،لیکن بھائی کا رقبہ مختلف جگہوں پر تھا۔
(1) پہلی جگہ پر 10 کنال رقبہ سڑک کے ساتھ تھا جو سڑک کے ساتھ ہونے کی وجہ سے قیمتی ہے۔
(2) دوسری جگہ پر 10 کنال رقبہ آباد تھا۔
(4،3) تیسری اور چوتھی جگہ پر 8 کنال رقبہ آباد تھا۔
(7،6،5) پانچویں ، چھٹی اور ساتویں جگہ پر 7 مرلہ 3 کنال کا رقبہ بنجر غیر آباد تھا ،اس میں صرف ایک کنال رقبہ آباد ہے۔ بھائی نے بہن کو آخری تین جگہوں کے رقبہ میں سے حصہ دیا ، ایک تو پورابھی نہیں دیا اور جو دیا وہ بھی غیر آباد سےدیا۔
اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں بھائی اپنی بہن کو شرعی طورپرہرجگہ سےکتناکتنارقبہ دےگا؟اس کی کیاصورت ہوگی ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا مدلل جواب دیگر ممنون فرمائیں:
۱۔ سڑک والی زمین میں سےکتنا رقبہ دے گا ؟
۲۔آباد زمین سے کتنا رقبہ دے گا ؟
۳۔غیر آباد بنجر زمین سے کتنا رقبہ دے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صوت مسئولہ میں بھائی پرلازم ہےکہ جائیدادکی تقسیم میں عدل وانصاف سےکام لے،تین بہنوں کاجتناحصہ شرعابنتاہےوہ ان کےحوالےکردے۔
میراث کےمطابق جتناحصہ بنتاہے،اس سےکم دینا،پوری غیر آبادجگہ بہنوں کودینا،یاکم قیمت والی جگہ بہنوں کےحوالہ کرنااورباقی آبادجگہ اور قیمتی جگہ خود رکھناشرعاجائزنہیں ،جائیدادکی اس غیرمنصفانہ تقسیم کی وجہ سےبھائی گناہگاربھی ہوگا، اوراس حوالہ سےقرآن وحدیث میں جوسخت قسم کی وعیدیں ہیں، ان سب کامستحق بھی ہوگا۔
اس تقسیم پرچونکہ بہنیں راضی نہیں تھیں،لہذاسابقہ تقسیم شرعامعتبرنہیں ہوئی ،دوبارہ زمینوں کی منصفانہ تقسیم شریعت کےمطابق کروانا ضروری ہوگی۔
جہاں تک بات ہےکہ بہنوں کو کس زمین سےحصہ دے؟توباہم مشاورت اوررضامندی سےآپس میں تقسیم کرنابہتر ہے۔تقسیم کرتےہوئےہرایک کی ملکیت میں آنےوالی زمین،اس کی قیمت اورآبادغیر آبادجگہ کاخیال کرناضروری ہوگاتاکہ ہراعتبارسےوراثت کےمطابق تقسیم ہوسکے۔
سوال میں ذکرکردہ ہرایک جگہ کودرج ذیل طریقےکےمطابق الگ الگ تقسیم کیاجائے:
پہلی جگہ: 10 کنال رقبہ جو سڑ ک کےکنارےہے،اس کو بہن بھائیوں میں تقسیم کیاجائےتوبھائی کےحصےمیں 4کنال زمین آئےگی اورہرایک بہن کےحصےمیں دو دوکنال ۔
دوسری جگہ: پربھی 10 کنال رقبہ آباد تھا،اس کو بھی اسی طرح تقسیم کیاجائے،بھائی کو4کنال ،بہنوں کودودوکنال ۔
تیسری اورچوتھی جگہ:پر 8 کنال رقبہ آباد تھااس کواس طرح تقسیم کیاجائےکہ بھائی کو 3.2کنال اور ہربہن کو 1.6کنال حصہ دیاجائےگا۔
پانچویں،چھٹی، اورساتویں جگہ:7 مرلہ 3 کنال رقبہ بنجر غیر آباد
اس کو مرلہ کےاعتبار سےدیکھاجائےتو یہ ٹوٹل 67 مرلہ زمین بنتی ہے،اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیاجائےگا،بھائی کو 26.8مرلہ زمین دی جائےگی اور تینوں بہنوں میں سےہرایک کو 13.4مرلہ زمین دی جائےگی۔
مذکورہ بالا طریقہ سےزمینیں تقسیم کی جائیں توہروارث کی ملکیت میں آنےوالاحصہ شریعت کےمطابق ہوجائےگا،زمین کی قیمت کےاعتبارسےبھی تقسیم منصفانہ ہوجائےگی،اورآبادغیرا ٓبادکےاعتبارسےبھی برابری (وراثت کےحصوں کےمطابق )ہوجائےگی۔
اہم وضاحت :واضح رہےکہ باہمی تقسیم میں تمام ورثہ کوچاہیےکہ ایک دوسرےکاخیال کریں،اورہرایک اپنےحق کی وصولی میں درگزرسےکام لےکیونکہ تقسیم میں جگہ ،قیمت اورآبادغیرآباد کےاعتبار سےتھوڑی بہت کمی بیشی ہوسکتی ہے،اس کو اللہ کی رضاء کےخاطرایک دوسرےکومعاف کردیاجائےتوتقسیم مکمل شریعت کےمطابق بھی ہوگی،اور ایک دوسرےسےناراضگی وغیرہ بھی نہیں رہےگی۔
حوالہ جات
" سورۃ النساء " الآية 29
:یاأیھاالذین آمنوالاتأکلواموالکم بینکم بالباطل الاأن تکون تجارۃ عن تراضی منکم ۔
"الجامع لأحكام القرآن للقرطبي "2 / 338:
الثانیۃ:الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى اللّه عليه وسلم ، والمعنى : لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا : القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ، وما لا تطيب به نفس مالكه۔۔۔
الثالثة : من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل۔
"صحيح مسلم "ج 5 / 58: عن سعيد بن زيد قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔
" البيهقي فی شعب الایمان " 4 / 387:عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل مال امرىء مسلم إلا بطيب نفس منه۔
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"14 / 495:
وأما صفات القسمة فأنواع : منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه ؛ لأن القسمة إفراز بعض الأنصباء ومبادلة البعض ومبنى المبادلات على المراضاة فإذا وقعت جائرة ؛ لم يوجد التراضي ولاافراز نصيبه بكماله ؛ لبقاء الشركة في البعض فلم تجز وتعاد۔۔۔وعلى هذا إذا ظهر الغلط في القسمة المبادلة بالبينة أو بالإقرار تستأنف ؛ لأنه ظهر أنه لم يستوف حقه ، فظهر أن معنى القسمة لم يتحقق بكماله۔۔
"الدر المختار للحصفكي" 6 / 574:
(ولو ظهر غبن فاحش) لا يدخل تحت التقويم (في القسمة) فإن كانت بقضاء (بطلت) اتفاقا لان تصرف القاضي مقيد بالعدل ولم يوجد (ولو وقعت بالتراضي) تبطل أيضا (في الاصح) لان شرط جوازها المعادلة ولم توجد فوجب نقضهاخلافا لتصحيح كالخلاصة۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
15/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


