03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک طلاق رجعی کےبعد شوہرنے”قولا” رجوع کرلیاتوشرعارجوع شمارہوگا۔
84826طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

سوال: بھائی نے 23 جون 2024 کو اپنی بیوی کو ایک طلاق بھیجی تھی ۔11 جولائی 2024  کو بیوی کےگھر والوں نے دو لوگوں کو صلح کے لئے بھیجا ،ان  میں ایک امام مسجد اورایک  یونین کونسل کے انچارج تھے ،ان سےبات چیت کی گئی۔19 جولائی 2024 کو امام صاحب نے بھائی کو مسجد بلاکر بات کی کہ وہ اپنی بیوی کو لا نا چاہتے ہیں؟بھائی نے رضامندی کا اظہار کیاکہ وہ بیوی کو لانے  کے لیے رضا مند ہے،اگلے ہی دن امام صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی لڑکی کے گھر گئے،لڑکی کی والدہ نےبھی  رضا مندی کا اظہار کیا کہ وہ اپنی لڑکی کو بھیجنا چاہتے ہیں،لیکن دو دن کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے وعدہ خلافی کی اور کہا کہ وہ لڑکی کو نہیں بھیجیں گے ،امام صاحب نے کوشش کی، لیکن انہوں نے امام صاحب سے بھی غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا،لیکن بھائی نے تو رجوع کر لیا ،کیا اب رجوع کے لئے بیوی کا رضا مند ہونااور سامنے ہونا لازمی ہے؟یا صرف تحریری طور پر بذریعہ سٹامپ پیپر آگاہ کر دیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صوت مسئولہ میں اگربیوی کی عدت کےدوران شوہرکی طرف سےزبانی رجوع ہوچکاہے)مثلا شوہرنےکہہ دیاہوکہ میں اپنی بیوی سےرجوع کررہاہوں یا اس سےنکاح کررہاہوں ،یااسےبیوی بناکررکھ لیاہے)توشرعایہ رجوع معتبرہے،لہذا بیو ی پرلازم ہےکہ شوہرکےساتھ رہے،اس کےبعد جب تک دوبارہ طلاق نہ ہو،بیوی کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی ۔

حوالہ جات

"الهداية"1 /  254: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى : { فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : 231 ] من غير فصل ۔ والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة۔

"رد المحتار" 11 / 464:وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ۔ ۔۔۔۔۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

30/صفر  1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب