03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائداد کی تقسیم
84567تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

سوال نمبر 1: ہم تین بہنیں اورتین بھائی ہیں،  سارے شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھر آباد کیے ہوئےہیں،  ہمارےوالدین کی اپنی زندگی میں رہائش کے لیے کوئی جگہ اپنی ملکیت میں نہیں تھی، البتہ شاملات دیہہ چراگاہ میں 35 مرلےپرمشتمل ایک پلاٹ ہے، جس پر والد صاحب کا ناجائز قبضہ تھا ، محکمہ مال پٹوار کے ریکارڈ کا غذات میں مذکورہ 35 مرلے پر والد صاحب کا نام بطور ناجائز قابض اندراج ہے۔  والد صاحب کی وفات کے بعدسےاس پلاٹ پر ہم میں سے ایک بھائی قابض اور رہائش پذیر ہواہے ، لہذا آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ورثاء  کے درمیان اس پلاٹ کی تقسیم بطور قبضہ و رہائش کس نسبت سے ہوگی ؟

سوال نمبر 2: ہم اپنے والدین کے گھر میں مذکورہ چھ بہن بھائی ہیں، والد صاحب  کی ملکیت میں 7 ایکڑ (56کنال) رقبہ پر مشتمل جائیدادتھی، جو انہوں نے 1971ء میں تمام اولاد کے باہمی مشورہ (خصوصًا بیوی اور بہنوں کی رضا مندی سے) برابرتین حصے کرکےاپنے تینوں بیٹوں کے نام پرمنتقل کروا دیا اور انہیں باقاعدہ قبضہ بھی دےدیااور خود کسی چیز کےبھی مالک نہ رہے،  اُس وقت سے اب تک ہم اپنے اپنے حصےکے مالک اور قابض ہیں، اس کے علاوہ والد صاحب کی ملکیت میں رہائش یا زراعت وغیرہ کی کوئی  جائیدادنہیں جس میں وراثت جاری ہوسکتی ہو۔ 1977ء میں چھوٹا بھائی میٹرک پاس کر کے نیوی فوج میں بھرتی ہوکر کراچی چلا گیا۔ ہم دونوں بھائی اپنی اپنی جائیدادکے علاوہ اکٹھے رہتے ہوئے لوگوں سےزمینیں ٹھیکہ پرلیتےاوردہائی (2/1) حصے کی بنیاد پر کاشتکاری کا کام کرتے رہے، 20 سال تک چھوٹا بھائی ملازمت کرتا رہا اور ہم دونوں بھائی کا شتکاری کا کام کرتے رہے اوردونوں کی پونجی سے گھریلو اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں زرعی، رہائشی اوردیگرسرکاری زمینیں خرید کر ان کی الاٹمنٹ کے بعد حقوق ملکیت حاصل کیے ۔ 20 سال کی محنت سے خریدی ہوئی جائیداد، مکان وغیرہ اور زمین کاٹھیکہ پر لینااوردہائی (2/1) حصے کی بنیاد پرکا شتکاری کرنا ان سب کی فہرست لف ہے، اس 20 سال کی مدت میں خرید خرچ میں ملازم بھائی نے اپنے تہائی (3/1) حصے کا خرچ نہیں دیا اور جب 20 سال بعد 1997ء میں ملازمت سے ریٹائر ہو کرپینشن وصول کرکے گھر آیا تو والد اور ہم دونوں بھائیوں سے کہنے لگےکہ میں 20 سال کی تنخواہ اور ملنے والی پیشن میں سے آپ کو کچھ نہیں دوں گا اور نہ آپ سے کچھ لوں گا، ہم تو 20 سال پہلے ہی اپنی محنت سے خریدی جائیداد سے ایک تہائی (3/1)حصہ کے انتقالات تیسرے بھائی کے ناطے دے چکے تھے،  لیکن پھر بھی ہم نے بھائی کوبولاکہ آپ  کچھ نہ دو لیکن  ہم دونوں سے جو آپ کاحصہ بنتا ہے وہ ہم سے لے لو،  لیکن وہ چھ ماہ تک یہی کہتارہا کہ نہ لوں گا نہ دوں گا، چنانچہ پھر وہ ہم دونوں بھائیوں سے علیحدہ ہو گیا اور ہم دونوں بھائی اکٹھے رہے اور 1998 ء میں والد صاحب بھی فوت ہوگئے ۔ لہذا اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ تینوں بھائیوں کا سانجھ میں سے ایک دوسرے سے لینا دینا بنتا ہے یا 20 سال میں جس نے جو کمایا بنایا وہ اسی کا ہے، ملازم نے  20  سال کی ملازمت سے دوسرے دونوں کو کچھ نہیں دیا ۔ کیا اب دوسرے بھائی بھی اپنی 20  سال کی بنائی جائیداد سے تیسرے کو کچھ دیں یا نہ دیں، قرآن وسنت کی روشنی میں بھائیوں کی اس تقسیم کی تحریری  وضاحت فرمادیں۔

وضاحت: سائل نے بتایاکہ تیسرا بھائی جب کراچی گیا تو انہوں نےوہاں شادی کی اور اسی زمانے سے ہم سے الگ تھے، جب 1997ء میں ریٹائر ہو کرآیا تو یہی کہتے رہے کہ ہمارا کسی سےبھی  لینا دینا نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1) سوال میں مذکور35 مرلےپلاٹ چونکہ شاملات دیہہ میں ہےاورشاملات دیہہ زمینیں تمام گاؤں والوں کی مشترکہ ملکیت ہیں، اس لیےان پرکسی کوقبضہ کرنے کا حق نہیں، اس کے علاوہ مذکورہ پلاٹ پر محکمہ مال پٹوار کے ریکارڈمیں والد صاحب کا نام بطور ناجائز قابض بھی اندراج ہے،  لہذامذکورہ زمین تمام گاؤں والوں کا حق ہے، نہ تو وہ ورثاء کےدرمیان میراث کے طور پرتقسیم ہوگی اور نہ ہی اس پر کسی وارث کاقبضہ جمائے رکھنا شرعًا درست ہے۔

2)  شرعی اعتبار سےوالد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد یا کوئی دوسری مملوک چیز اولاد کو دینا ہبہ (گفٹ) ہےاور ہبہ کے بارے میں والد کو شریعت کی طرف سے یہ حکم ہےکہ تمام  اولادکو برابر حصے(یعنی جتنا حصہ بیٹوں کا  ہوگا اتنا ہی بیٹیوں کو بھی) دے، لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں بیٹیوں کی رضا مندی سےہی والد نے 7 ایکڑ (56کنال) زمین تین بیٹوں کو گفٹ کیااورباقاعدہ  طورپران  کےنام پرمنتقل کروادیا اورتینوں بیٹوں نے والد کی زندگی ہی میں اس پر قبضہ بھی کرلیا ، لہذا  یہ ہبہ درست ہوگیااور ہربیٹااپنے حصے کی جائیداد  کاشرعا مالک بنا، لہذا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، اس کےعلاوہ دوبھائیوں نےجو کچھ کمایاہے اورجتنی زمینیں اور جائیداد یں خریدی ہیں (اگر وہ علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہوں) تو وہ ان کےدرمیان برابرتقسیم ہوں گی، اس میں نہ والد کا کوئی حصہ بنتاہے جو میراث میں تقسیم ہوسکے اور نہ ہی تیسرے ملازم بھائی کا شرعًااس میں کوئی حق ہے،  ہاں اگر وہ اپنی مرضی سےاپنی محنت سے خریدی جائیداد میں سے مذکورہ ایک تہائی (3/1)حصہ یا اس سے کم یا زیادہ دیناچاہتے ہوں تو یہ بھی جائز ہے۔  اسی طرح ملازم بھائی  نےملازمت اور پینشن کی صورت میں جوکمایا وہ اسی کا حق ہے، اس میں باقی دو بھائیوں کاکوئی حصہ نہیں۔

حوالہ جات

أخرج  الإمام البخاري رحمه الله تعالى:  عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌أخذ ‌شبرا ‌من ‌الأرض ‌ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين». (صحيح البخاري:  4/ 107: 3198)

وأخرج  الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله تعالى:   عن أبي حميد الساعدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغير حقه وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم». (مسند أحمد : 39/ 19: 23605)

وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:   قال القدوري فما كان عاديا أي قدم خرابه لا مالك له أو كان مملوكا في الإسلام لا يعرف له مالك بعينه،  وهو بعيد عن القرية بحيث إذا وقف إنسان من أقصى العامر فصاح لم يسمع الصوت فيه فهو موات. (الفتاوى الهندية: 5/ 386)

وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:   وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا ‌إن ‌لم ‌يقصد ‌به ‌الإضرار. (الدر المختار: 5/ 696)

وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:  (سئل) في ‌إخوة ‌خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟

(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :1/ 94)

وقال العلامة عابدين رحمه الله تعالى: يقع كثيرا ذكره في التتارخانية وغيرها: مات رجل وترك أولادا صغارا وكبارا وامرأة والكبار منها أو من امرأة غيرها فحرث الكبار وزرعوا في أرض الغير كما هو المعتاد والأولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة صارت هذه واقعة الفتوى: واتفقت الأجوبة أنهم إن زرعوا من بذر مشترك بينهم بإذن الباقين لو كبارا أو إذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة، وإن من بذر أنفسهم أو بذر مشترك بلا إذن فالغلة للزارعين اهـ. والله سبحانه وتعالى أعلم. (رد المحتار: 6/ 285)

وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:  (سئل) ‌في ‌إخوة ‌خمسة تلقوا تركة عن أبيهم، فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة، كل على قدر استطاعته في مدة معلومة، وحصل ربح في المدة،  وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال، فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟

(الجواب) : نعم! إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة، وأجاب الخير الرملي بقوله:  هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا، ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر؛  إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا، وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر،  فلو كان أحدهما صاحب يد،  والآخر خارجا، واختلفا فالقول لذي اليد،  والبينة بينة الخارج. اهـ.  وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا. وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر: ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل؛ لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة.

ولذا قال في البزازية: اشتركا وعمل أحدهما في غيبة الآخر،  فلما حضر أعطاه حصته ثم غاب العامل وعمل الآخر، فلما حضر الغائب أبى أن يعطيه حصة من الربح أن الشرط أن يعملا جميعا وشتى فما كان من تجارتهما من الربح فبينهما على الشرط عملا أو عمل أحدهما فإن مرض أحدهما ولم يعمل وعمل الآخر فهو بينهما. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: 1/ 92)

              راز محمد

دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

     7 صفر المظفر  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رازمحمدولداخترمحمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب