03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائداد کی تقسیم
84581تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک آدمی کا انتقال ہوگیا، اس نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے دو بیٹوں کے درمیان تقسیم کی اور ہر بیٹے سے کہاکہ تم میں سےہر ایک  اپنی سگی بہنوں کو حصہ دےگا، کچھ عرصہ بعد اس آدمی کی زندگی میں ہی اس کے دونوں بیٹوں نےاپنے اپنے حصے پر قبضہ کرکےاس میں مختلف تصرفات کیے، لیکن کسی نے بھی  نہ والد کی زندگی میں اپنی بہنوں کوکوئی حصہ دیا اور نہ ہی ان کی وفات کے بعد۔ اب دریافت طلب امر یہ ہےکہ اس آدمی کا اس طرح اپنے بیٹوں کو ہبہ کرنا درست ہوا یا فاسد؟  اگر فاسد ہواہے تو کیا اب اس  کی وفات کے بعد بیٹوں نے اس جائیداد میں جو تصرفات کیے ہیں، مثلًا: ایک بیٹے نے ٹیوب ویل لگایاہے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ بھی جائداد میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا یا جس بیٹے نے لگایاہے اسی کو ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

            شرعی اعتبار سےوالد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد یا کوئی دوسری مملوک چیز اولاد کو دینا ہبہ (گفٹ) ہےاور ہبہ کے بارے میں والد کو شریعت کی طرف سے یہ حکم ہےکہ تمام  اولادکو برابر حصہ(یعنی جتنا حصہ بیٹوں کا  ہوگا اتنا ہی بیٹیوں کو بھی) دے، مذکورہ صورت میں والدکےصرف یہ کہنےسے اس کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی کہ ہر ایک بیٹااپنی سگی بہنوں کو حصہ دےگا، لہذا بیٹیوں کو حصہ نہ دینے پر والد گناہگار ہے، البتہ سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق والد نے زندگی میں ہی مذکورہ جائیدادپر دونوں بیٹوں کوقبضہ دیا، اس لیےشرعًا یہ ہبہ درست ہوگیا، باقی اس کا یہ کہناکہ ہر ایک بیٹااپنی سگی بہنوں کو حصہ دےگا شرط فاسد (ناقابل قبول شرط)ہے اور ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتاہے، لہذا مذکورہ جائیداد دونوں بیٹوں کا حق ہے، اس میں نہ ان کی بہنوں کا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی دیگر ورثاء میں بطورِ میراث تقسیم ہوگی،  البتہ  مذکورہ صورت میں والد کا چونکہ منشا تھا کہ بیٹیوں کوبھی حصہ ملے،  لہذا بیٹوں کا اخلاقی ذمہ داری ہے کہ بیٹیوں کو بھی مناسب حصہ دیں تاکہ والد صاحب اپنی غلطی کی سنگینی کےشکار نہ ہوں۔ جس بیٹے نے اس جائیداد میں جو تصرف اورخرچہ کیا ہےمثلًا: ٹیوب ویل لگایاہے (جیسا کہ سوال میں ذکر ہے) اگر انہوں نے اپنی ذاتی رقم سےاس میں خرچ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے،  اسی کو دیا جائے گااور اگر گھر کی مشترکہ آمدنی سے اس میں خرچ کیا ہے،       تو اس صورت میں چونکہ ابھی تک والد صاحب کا ترکہ تقسیم نہیں کیا گیا، اس لیے باقی اموالِ میراث  کی طرح یہ بھی تمام ورثاء کا مشترکہ میراث شمار ہوکر شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

أخرج مسلم في "صحيحه"عن النعمان بن بشير؛  أنه قال: إن أباه أتى به سول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي،  فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أكل ولدك نحلته مثل هذا؟» فقال: لا،  فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فارجعه». (صحيح مسلم: 3/ 1241:   1623)

وقال العلامة السرخسي رحمه الله تعالى: فالمذهب أنه ينبغي للوالد أن يسوي بين ‌الأولاد في العطية عند محمد رحمه الله على سبيل الإرث للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف رحمه الله يسوى بين الذكور والإناث قال: عليه الصلاة والسلام «ساووا بين أولادكم حتى في القبل، ولو كنت مفضلا أحدا لفضلت الإناث». (المبسوط : 12/ 56)

وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:   وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا ‌إن ‌لم ‌يقصد ‌به ‌الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى. ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. (الدر المختار: 5/ 696)

وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (و) حكمها (أنها لا تبطل بالشروط الفاسدة). (الدر المختار : 5/ 688)

وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:  (سئل) ‌في ‌إخوة ‌خمسة تلقوا تركة عن أبيهم، فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة، كل على قدر استطاعته في مدة معلومة، وحصل ربح في المدة،  وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال، فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟

(الجواب) : نعم! إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة، وأجاب الخير الرملي بقوله:  هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا، ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر؛  إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر،  فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد،  والبينة بينة الخارج. اهـ.  وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا. وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر: ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل؛ لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة.

ولذا قال في البزازية: اشتركا وعمل أحدهما في غيبة الآخر،  فلما حضر أعطاه حصته ثم غاب العامل وعمل الآخر، فلما حضر الغائب أبى أن يعطيه حصة من الربح أن الشرط أن يعملا جميعا وشتى فما كان من تجارتهما من الربح فبينهما على الشرط عملا أو عمل أحدهما فإن مرض أحدهما ولم يعمل وعمل الآخر فهو بينهما. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: 1/ 92)

              راز محمد

دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

    11 صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رازمحمدولداخترمحمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب