03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا یوٹیوب پر ولاگ چینل بنانا
84906جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

السلام علیکم!جناب میں نے ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ کیا ایک عورت یوٹیوب پر مکمل پردے کے ساتھ *Vlog* چینل بنا سکتی ہے؟اگر اس کی کچھ مجبوریاں ہوں ،جیسا کہ اس کے شوہر کی کمائی بہت کم ہو اور گھر کا گزر بسر مشکل ہو رہا ہواورآمدن کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ ہو تو؟جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں ۔شکریہ !جزاک اللہ!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرواقعتاًمجبوری ہے کہ شوہر کی کمائی کم ہونے کی وجہ سے گزربسر مشکل ہےاور کوئی اور ذریعہ آمدن بھی نہیں تو اس شرط کے ساتھ  چینل بنایا جا سکتا ہےکہ شرعی پردے کی مکمل پابندی کی جائے،اور  ضروری ہے کہ آواز کو ایڈٹ کر کے اس کی نرمی اور کشش کو ختم کیا جائے۔

چینل مونیٹائز ہونے کی صورت میں درج ذیل شرائط کے ساتھ آمدنی جائز ہو گی:

  1. ولاگز جائز امور سے متعلق ہوں جیسا کہ تعلیمی  غرض کے لیے بنائے گئے ولاگزیا کوکنگ ولاگز وغیرہ۔
  2. ولاگز موسیقی اور ناجائز مواد پر مشتمل نہ ہوں۔
  3. جن کمپنیوں کے اشتہارات آپ کی ویڈیوز پر چلائے جا رہے ہیں ان کا کاروبار جائز ہو، ناجائز کاروبار والی کمپنیوں کے اشتہارات فلٹر کر کے فہرست سے خارج کر دیے جائیں۔
  4. اشتہارات موسیقی، نامحرم کی تصویر اور فحش مواد پر مبنی نہ ہوں۔

اگر فہرست منتخب کرنے کے باوجودیوٹیوب ناجائز امور پر مبنی اشتہارات چلا دیتا ہےاور آپ کی اس پر رضامندی نہیں ہے تو آپ کو اس کا گناہ نہیں ہو گا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ایڈز ریویو سینٹر(Ads review center) میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔ ( ماخذہ التبویب فتویٰ نمبر:70815)

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا ﴾

[الأحزاب: 32] 

وقال الإمام النووی رحمہ اللہ: وقوله:(فقالت مرحبا وأهلا)........... وفيه جواز سماع كلام الأجنبية ومراجعتها الكلام للحاجة . (شرح النووي على مسلم:13/ 212)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: فإنا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم. ( رد المحتار:1/ 406)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

03/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب