03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اغواء اورزناکے دعوی کے کیس میں تحکیم /صلح کاحکم
84521اقرار اور صلح کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

"ع" کےوالد فوت ہوگئے ہیں اور"ع" دادا کے پاس رہائش پذیرتھی "ن" نے رات کے وقت دادا کے گھر میں داخل ہوکر"ع" کو اغواء کرلیا اورزناکرتارہا"ع" کے نانانے دو دن بعد"ع" کو برآمد کرکےواپس لایا اورکہا کہ میں تو کاروائی نہیں کروں گا۔

"ع"کے دادا نے "ن" کےخلاف  اغوا اورزنا کا پرچہ درج کرایا تو "ن"نےعدالت سے عبوری ضمانت کرائی اوراپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کےلیے پولیس کے سامنے پیش ہوا اورلاہور سے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا، پولیس نے ان کواغواء کامجرم قراردیا اورٹیسٹ میں زنا کا مجرم بنا،اس پر "ن" عدالت سے مفرورہوا اورعدالتی مفرورقرارپایا ،اب ثالثوں کے ذریعے "ن" فیصلے کےلئے کوشاں ہے اورمدعی کو کیس واپس لینے پر مجبورکررہا ہے ۔مجھے پوچھنایہ ہے کہ

١۔ کیا شریعت کی روسے فیصلہ کرلینا چاہیے ؟

۲۔ کیس کرنے اورواپس لینے کا خرچہ مدعی "ن"سے لے سکتاہے یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔مسئولہ صورت میں نہ زناء پرچارگواہ ہیں اورنہ ہی ملزم کی طرف سے اقرار،صرف ڈین –این- اے ٹیسٹ ہے (جوکہ فقط ایک قرینہ ہے) جس کی بنیاد پر مدعی نے دعوی کیا ہے اورمدعی علیہ عدالت سے فرار ہےجوکہ بناء ہے فریقین میں باہم نزاع کا اورکسی بھی نزاع میں صلح کرنا شرعاً بہترچیز ہے(لقولہ تعالی: والصلح خیر) لہذا مسئولہ ٍصورت میں "ع" کے دادا  اور"ع" کوثالث سے فیصلہ/صلح کرانے پر مجبورتو نہیں کیاجاسکتا،البتہ اگروہ دونوں اپنی خوشی  سےمقدمہ واپس لیکرثالث سے فیصلہ کراناچاہیں توشرعاً  ایساکرنا بہترہے،تاکہ نزاع ختم ہوجائے،بشرطیکہ ثالث شریعت کے مطابق فیصلہ/صلح کرے، ثالثوں کےلیےحدودوقصاص کے فیصلے کرناتوصحیح نہیں، اس کے علاوہ دوسرےتمام معاملات میں نجی سطح پروہ موافقِ شرع فیصلے کرسکتے ہیں۔

ثالث کے ذریعے معاملہ ختم کرنا عدالتی کاروائی سے زیادہ بہترمعلوم ہوتا ہے ،کیونکہ صلح اورثالثی کی ترغیب شریعت میں آئی ہے ،نیزاس سے دشمنی بالکل ختم ہوجاتی  ہے، جبکہ عدالتی کاروائی  سے مشاہدہ یہ ہے کہ دشمنی ختم نہیں ہوتی اورمجرم کو سفارشوں اوررشوتوں وغیرہ کی وجہ سےبہت ساری سہولتیں مل جاتی ہیں جس سے انصاف متاثرہوتاہے ،نیزاس میں طرفین کابہت سارا پیسہ برباد ہوجاتاہےاورنتیجہ کچھ نہیں نکلتا،لہذامقدمہ بازی کے مقابلے  میں صلح زیادہ بہترہے۔

۲۔ جتنا حقیقی خرچہ ہوا ہے وہ بعض علماء کےنزدیک لے سکتاہے۔ (کذا فی امداد الفتاوی 6/537)

حوالہ جات

وفی الھندیة:

"أما أقسام الشهادة فمنها الشهادة على الزنا وتعتبر فيها أربعة من الرجال، ومنها الشهادة ببقية الحدود والقصاص تقبل فيها شهادة رجلين، ولا تقبل في هذين القسمين شهادة النساء هكذا في الهداية....الخ"

 (كتاب الشهادات ،الباب الثاني في بيان تحمل الشهادة وحد أدائها والامتناع عن ذلك،3/ 451،ط:رشيدية)

وفیة ایضاً:

"ويثبت الزنا عند الحاكم ظاهرا بشهادة أربعة يشهدون عليه بلفظ الزنا لا بلفظ الوطء والجماع كذا في التبيين.....الخ(كتاب الحدود ،الباب الثاني في الزنا،2/ 143،ط:رشيدية)

سنن الترمذي ت بشار (3/ 85)

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم، فإن كان له مخرج فخلوا سبيله، فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة.

وفی فتاوی جامعة الرشید علی الشبکة

ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں تفصیل یہ ہے، کہ یہ تحقیق و تفتیش کا ایک وسیلہ ہے۔ شریعت میں کسی معاملے کے فیصلے کا ذریعہ شہادت ہے۔ پھر بعض امور میں دو آدمیوں کی شہادت پر اکتفا کیا گیا ہے ، جبکہ بعض میں چار آدمیوں کی شہادت کو لازم قرار دیا ہے، جیساکہ زنا ہے، لہذا بعض احکام کا ثبوت چار آدمیوں کی شہادت سے ہوگا، بعض کا دو سے بعض کا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے، لیکن بعض احکام ایسے بھی ہیں کہ ان کا ثبوت قرائن و شواہد سے بھی ہوسکتا ہے، جیساکہ ثبوت نسب کا معاملہ ہے کہ اس کا ثبوت کسی قرینے سے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قیافہ، لہذا ثبوت نسب میں اس ٹسٹ کا اعتبار کیا جائے گا، جبکہ زنا کے ثبوت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں، چونکہ اس میں شبہ ہوسکتا ہے اور شبہے کی وجہ سے حدود ساقط ہوجاتے ہیں۔ نیز حدود کے حوالے سے شریعت ایسی تدقیقات کا حکم نہیں دیتی، البتہ اس کی بناپر تعزیر دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر ڈی این اے ٹیسٹ کو ناقابل شناخت لاشوں کی معرفت یا حادثات و آفات کی وجہ سے خلط ملط بچوں کی پہچان یا ایسے جرائم کی ثبوت کے لیے استعمال کیا جائے جن سے حدود و قصاص لازم نہ ہوتے ہوں تو ان احکام میں ڈی این اے ٹیسٹ کا اعتبار ہوگا۔مذکورہ تفصیل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ زنا کے معاملے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی ثبوت کی حیثیت حاصل نہیں، بلکہ اس کو ایک تائیدی ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، لہذا اسلامی نظریاتی کونسل کا فیصلہ شریعت کے اصولوں کے موفق ہے۔﴿فتوی نمبر :56892،تاریخ اجراء :2017-01-28﴾

وفی المبسوط للسرخسي (21/ 62):

الأصل في جواز التحكيم قوله تعالى: {فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله

بينهما} [النساء: 35] والصحابة - رضي الله عنهم - كانوا مجمعين على جواز التحكيم ولهذا بدأ الباب بحديث الشعبي - رحمه الله - قال: كان بين عمر وأبي بن كعب - رضي الله عنهما - مدارأة بينهما في شيء فحكما بينهما زيد بن ثابت - رحمه الله -: فأتياه فخرج زيد بن ثابت إليهما وقال لعمر - رحمه الله -: ألا تبعث إلي فآتيك يا أمير المؤمنين فقال عمر - رحمه الله -: " في بيته يؤتى الحكم " فأذن لهما فدخلا وألقى لعمر وسادة فقال: عمر - رحمه الله -: هذا أول جورك. وكانت اليمين على عمر - رحمه الله - فقال زيد لأبي - رحمه الله -: لو أعفيت أمير المؤمنين من اليمين فقال عمر يمين لزمتني، فلأحلف فقال: أبي - رحمه الله -: بل يعفى أمير المؤمنين ويصدقه.

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (7/ 27):

لا يجوز التحكيم في الحدود والقصاص والدية على العاقلة بخلاف القضاء كما قدمناه.

وفی البناية شرح الهداية (9/ 60):

قالوا: وتخصيص الحدود والقصاص يدل على جواز التحكيم في سائر المجتهدات.

قااللہ تعالی :

{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} [الحجرات: 10]

وفی نيل الأوطار (5/ 304):

 (وعن عمرو بن عوف أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما» رواه أبو داود وابن ماجه والترمذي، وزاد: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما» قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح)

وفی سبل السلام (2/ 84):

حديث أبي هريرة فيه مسألتان الأولى في أحكام الصلح وهو أن وضعه مشروط فيه المراضاة لقوله جائز أي أنه ليس بحكم لازم يقضي به وإن لم يرض به الخصم.

وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 405):

قال: (الصلح على ثلاثة أضرب: صلح مع إقرار، وصلح مع سكوت، وهو أن لا يقر المدعى عليه ولا ينكر، وصلح مع إنكار، وكل ذلك جائز) ؛ لإطلاق قوله تعالى: {والصلح خير} [النساء: 128] ، ولقوله - عليه الصلاة والسلام -: «كل صلح جائز فيما بين المسلمين إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا» وقال الشافعي: لا يجوز مع إنكار أو سكوت لما روينا، وهذا بهذه الصفة لأن البدل كان حلالا على الدافع حراما على الآخذ، فينقلب الأمر، ولأن المدعى عليه يدفع المال لقطع الخصومة وهذا رشوة. ولنا ما تلونا، وأول ما روينا وتأويل آخره أحل حراما لعينه كالخمر، أو حرم حلالا لعينه كالصلح على أن لا يطأ الضرة ولأن هذا صلح بعد دعوى صحيحة فيقضى بجوازه؛ لأن المدعي يأخذه عوضا عن حقه في زعمه وهذا مشروع، والمدعى عليه يدفعه لدفع الخصومة عن نفسه وهذا مشروع أيضا؛ إذ المال وقاية الأنفس ودفع الرشوة لدفع الظلم أمر جائز.

وفی امداد الفتاوی :

 جب کسی کو اپنے حق کی حفاظت کے لئے بمجبوری نالش کرنا پڑے اور فریق مخالف کی طرف سے بالکل مخاصمانہ کارروائیوں کی وجہ سے بہت سے مصارف برداشت کرنا پڑیں تو اس صورت میں خرچہ کا روپیہ بہت سے علماء کے نزدیک (ومنہم مولانارشیداحمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ) جائز ہے ۔  (امداد الفتاوی جدید ۔ جدید مطول حاشیہ شبیر احمد القاسمی جلد 6 صفحہ نمبر: 537)

وفیہ أیضا:

الجواب: نالش وغیرہ میں اگر کچھ صرفہ ہوا ہو حسب فتویٰ بعض علماء اس کو تو آپ رکھ سکتے ہیں اور اس سے جو زائد ہو اصل مالکِ رقم کو واپس کردینا ضروری ہے( امداد الفتاوی جدید ۔ جدید مطول حاشیہ شبیر احمد القاسمی جلد 9صفحہ نمبر: 162)

وفی الدرالمختارمع الرد:

وکذا یضمن لو سعی بغیر حق عند محمدؒ زجرا لہ أي للساعي وبہ یفتی۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الغصب، مطلب في ضمان الساعي، مکتبہ زکریا دیوبند ۹/ ۳۰۹، کراچی ۶/ ۲۱۳)

  سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  4/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب