| 84399 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا،اس کے ورثہ میں ایک بیوہ،دوبیٹے اورتین بیٹیاں ہیں اوراس کا کل ترکہ 4ایکڑاور22 مرلہ زمین ہے، یہ ترکہ کس طرح مذکورہ بالا ورثہ میں تقسیم ہوگا؟رہنمائی کی درخواست ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض جس میں مرحوم کی بیوی کامہر بھی داخل ہے اگر زندگی میں اس کی ادائیگی نہ ہوئی ہواوروصیت(اگرکی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر مرحوم کےانتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جوسوال میں مذکورہیں تومذکورہ ترکہ درج بالا ورثہ میں ذیل طریقے سے تقسیم ہوگا۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
حصہ مرلوں میں |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
82.75 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
165.5 |
25% |
|
3 |
بیٹا |
165.5 |
25% |
|
4 |
بیٹی |
82.75 |
12.5% |
|
5 |
بیٹی |
82.75 |
12.5% |
|
6 |
بیٹی |
82.75 |
12.5% |
|
ٹوٹل |
مرلہ662 |
100% |
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ........ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }[النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


