| 84543 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں ایک نجی ا د ا ر ے میں ملا زمت کرتا ہوں۔ اگر کسی کو ٹھیکہ دلوانے میں منافع میں حصہ داری کر وں جس سے ادارے کوکو ئی نقصا ن نہ ہو تاہو، کہ میں صرف ا سکی تکنیکی معاملات میں مدد کروں ، نا صرف اس کام میں بلکہ ا ور کاموں میں بھی جس کا میرے ا دارے سے تعلق نا ہو۔ کیا یہ منافع رکھنااور کام کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سائل مذکورہ ادارے کا تنخواہ دار ملازم ہو اور لوگوں کو کام دلوانا یا ٹھیکہ دلوانا اس کے فرائض منصبی ہوں تو ایسے میں سائل اپنی محنت کے عوض محض ادارے سےتنخواہ کا حقدار ہے ، ٹھیکہ لینے والوں کے ساتھ منافع میں حصہ دار بننا یا الگ کمیشن لیناجائزنہیں ،یہ کمائی رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔کیونکہ مذکورہ صورت میں سائل کی حیثیت کمپنی یا ادارے کے وکیل کی ہے اور ضابطہ یہ ہے کہ وکیل اپنے کام کے حوالے سے جو بھی معاملات کرے تو اس کا فائدہ یا نقصان موکل یعنی ادارے کا ہوتا ہے اس لیے سائل کا اضافی منافع لینا جائز نہیں ،بلکہ ادارہ ان منافع کا حقدار ہو گا ۔
نیز اگر سائل ملازمِ وقت ہو تو ملازمت کے مقررہ دورانیے میں محض ادارے کے متعلقہ کام ہی کرسکتا ہے،اس دورانیے میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام کرنا بھی جائز نہیں ۔ البتہ اگرسائل اضافی وقت میں ادارے سےمتعلقہ کام کے علاوہ دوسرے امور میں اس کی طے شدہ اجرت عوض کے مدد یا رہنمائی کرے تو یہ صورت جائز ہوگی۔
حوالہ جات
(الدرالمختار علي صدر رد المحتار، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة،ج:6،ص:70):
والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره
(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب البيوع، :4،ص:560):
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية قوله (فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له
قال في الفتاوى الهندية: (ج:27,ص:116):
"وإن حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فإنه يحطه عن الموكل ولو حط البائع جميع الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل حتى كان للوكيل أن يرجع على الموكل بجميع الثمن ولو وهب البائع بعض الثمن عن الوكيل يظهر ذلك في حق الموكل حتى لم يكن للوكيل أن يرجع على الموكل بذلك القدر ولو وهب كل الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل ولو أبرأه البائع عن جميع الثمن فالجواب فيه كالجواب في هبة جميع الثمن كذا في المحيط."
وفي المبسوط للسرخسي: (ج:19,ص:60):
"ولو حط البائع شيئا من الثمن عن الوكيل ثبت ذلك للآمر لأن حط بعض الثمن يلتحق بأصل العقد ويخرج قدر المحطوط من أن يكون ثمنا بخلاف ما لو وهب البائع الثمن كله للوكيل كان له أن يرجع على الموكل بالثمن لأن حط ال لا يلتحق بأصل العقد إذ لو التحق بأصل العقد فسد البيع لأنه يبقى بيعا بغير ثمن وهو فاسد."
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
04/صفر المعظم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


