03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خود رو گھاس کاٹنے اورباندھنےوالے کو آدھی گھاس اجرت میں دینا
84664اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

ہمارے علاقے میں جو ملکیتی زمین ہوتی ہے اس میں خود رو گھاس ہوتی ہے جو کہ سورج کے مہینے میں کاٹ کر خشک کر لی جاتی ہے اور سردیوں میں مویشیوں کو کھلائی جاتی ہے ۔کیونکہ بعض لوگوں کے پاس زمین زیادہ ہوتی ہےا ور گھاس ان کی ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے ،تو وہ اس شرط پر دوسرے کسی شخص کو دے دیتا ہیں ،کہ گھاس کاٹ کر اس کو باندھنا آپ کے ذمہ ہے۔اور بعد میں دونوں فریق اس کو نصف نصف تقسیم کر لیں گے۔یعنی نصف مالک زمین کی اور نصف کاٹنے والے کی،ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مملوکہ زمین میں خودرو گھاس جو کہ مباح الاصل ہوتی ہے یعنی کسی کی شخصی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ  سب لوگوں کے لیے حلال اور مباح ہو تی ہے اور سب   لوگوں کو اس گھاس سے ایسے طریقے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے جس سے دوسرے عام لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے،البتہ اگر کوئی شخص  مباح گھاس کو کاٹ کر  محفوظ کر لے تو اس صور ت میں یہ اس کی شخصی ملکیت بن جائیگی۔

نیز یہ بھی یاد رہے کہ مملوکہ زمین کی خودرو گھاس کاٹ کر محفوظ کرنے کے لیے کرایہ داری کا معاملہ عمل کی بجائے معلوم وقت (ایک دن یا ایک ہفتہ وغیرہ) کی بنیاد پر ہو تو کرایہ داری کا یہ معاملہ جائز ہو گا ۔

جبکہ صورت مسئولہ میں خودرو گھاس کاٹنے اور باندھنے کے لیے کرایہ داری کا عقد معلوم وقت کی بجائے،عمل( کاٹنا ، باندھنا )کی بنیاد پر ہے، لہذا کرایہ داری کی یہ صورت ناجائز ہے ،مزید براں پوچھی گئی صورت میں  اجارہ کا عقد اس شرط پر کیا جارہا کہ گھاس کاٹنے والے کو اس کی محنت کی اجرت اسی گھاس میں سے ادا کی جائے گی، جسے وہ اپنے عمل سے کاٹے اور باندھے گا ۔ عقد اجارہ کایہ معاملہ بھی شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ قفیز الطحان کے زمرے میں آتا ہے ،جس سے احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے ۔

تاہم اس کا صحیح جائز طریقہ یہ ہے کہ خودرو گھاس کو محفوظ کرنے کے لیے کرایہ داری کا معاملہ معلوم وقت جیسے  متعین گھنٹوں یا دنوں کے عوض پرکیا جائے اور گھاس کی  کوئی متعینہ مقدار اجرت کے طور پر طے کرلی جائے اس میں یہ شرط نہ لگائی جائے کہ یہی گھاس لی جائے گی جو مزدور کے عمل کے نتیجے میں نکل رہی ہے پھر چاہے اسی گھاس میں سے اجرت دے دے یاکسی اورسے ۔ تو یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔

حوالہ جات

(الفتاوی الھندیۃ، كتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان، ج:4،  ص:444):

صورة ‌قفيز ‌الطحان ‌أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك ...

الدر المختار مع رد المحتار: (باب الاجارۃ الفاسدۃ، 58/6، ط: دار الفکر):

’’(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفزا منه فيجوز.

(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:57):

(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شك في جوازه اه. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة....

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 254)

(كما أن الكلأ النابت في الأراضي التي لا صاحب لها مباح كذلك الكلأ النابت في ملك شخص بدون تسببه مباح أيضا. أما إذا تسبب ذلك الشخص في هذا الخصوص بأن أعد أرضه وهيأها بوجه ما لأجل الإنبات كسقيه أرضه أو إحاطتها بخندق من أطرافها فالنباتات الحاصلة في تلك الأرض تكون ماله فلا يسوغ لآخر أن يأخذ منها شيئا فإذا أخذ شيئا واستهلكه يكون ضامنا) . .......

(الْمَادَّةُ 422) :الْأَجِيرُ عَلَى قِسْمَيْنِ:

الْقِسْمُ الْأَوَّلُ هُوَ الْأَجِيرُ الْخَاصُّ الَّذِي اُسْتُؤْجِرَ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ لِلْمُسْتَأْجِرِ فَقَطْ كَالْخَادِمِ الْمُوَظَّفِ.

الْقِسْمُ الثَّانِي هُوَ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ الَّذِي لَيْسَ بِمُقَيَّدٍ بِشَرْطِ أَلَّا يَعْمَلَ لِغَيْرِ الْمُسْتَأْجِرِ كَالْحَمَّالِ وَالدَّلَّالِ وَالْخَيَّاطِ والسَّاعَاتِيِّ وَالصَّائِغِ وَأَصْحَابِ كَرْوَسَاتِ الْكِرَاءِ وَأَصْحَابِ الزَّوَارِقِ الَّذِينَ هُمْ يُكَارُونَ فِي الشَّوَارِعِ وَالْجُوَّالُ

  عبدالرحمٰن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

16/صفر المعظم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب