03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کا بیان(بیوی کے خلع کے مطالبے پر خلع دینے کا حکم)
84215طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں ،میں نے طلاق یافتہ سے شادی کی ہے اور اب میری بیوی مجھ سے خلع لینا چاہ رہی ہے ، کیونکہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کرنا چاہ رہی ہے، تو کیا وہ خلع لے سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورت کے لیے بغیر کسی شدید مجبوری کے خلع کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے ،احادیث مبارکہ میں اس پر شدید وعید وارد ہوئی ہے ،البتہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ خلع نہ دیا تو خوشگوار تعلقات قائم نہیں رہ سکتے، تو  خلع دینے میں کوئی حرج نہیں۔ 

حوالہ جات

 سنن أبي داود للسجستاني (2/ 235):

حدثنا سليمان بن حرب حدثنا حماد عن أيوب عن أبى قلابة عن أبى أسماء عن ثوبان قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة ».

(البقرة: 229):

{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} 

الفتاوى الهندية (10/ 309):

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية .

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

06/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب