03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجرت دیکرزناپرحدنہ ہونے کی روایت کامفہوم،استدلالی پس منظراورفقہی مقام
84239حدود و تعزیرات کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

غیر مقلد کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ(رحمہ اللہ تعالی) کے نزدیک جو عورت پیشہ ور بدکارہو تو اس کے ساتھ زنا کرنے سے حد جاری نہیں ہوتی، کیا ایسی صورت میں گناہ بھی نہیں ہوتا ؟ وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انسان اپنی فطرت میں نسب اور رشتوں کےنظام کے ساتھ جینے والا جاندار ہے،اور یہی خصوصیت اس کودوسرے جانداروں سے ایک معاشرتی امتیازعطاء کرتی ہے،لہذاانسانوں میں توالد وتناسل کےلیےنکاح کوضروری قرار دیا گیاہے،اور اس کو ایک انسانی ضرورت کے طور پر لیا گیا ہے،جبکہ دیگر جانداروں میں رشتوں کاایسا کوئی نظام نہیں اور نہ ہی ان میں نکاح کا نظام ہے،لہذا معلوم ہوا کہ نکاح کا مقصدصرف شہوت رانی نہیں،بلکہ محفوظ النسب نسل کی افزائش ہے،جبکہ زنا اس کی نفی کرتا ہے،لہذا زنامعاشرتی واخلاقی لحاظ سےچونکہ ایک ایسا جرم ہےجو انسانی فطرت واقدارکے یکسر منافی ہے اور دین اسلام (دین فطرت )سمیت تمام  مذاہب وادیان سماویہ میں اس کوحرام قرار دیا گیا اوردین اسلام میں زنا کی حرمت قرآن وحدیث کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے،جس میں تاویل کی گنجائش نہیں، لہذازنا کی حرمت کامنکر(اگرچہ تاویل کےساتھ انکار کرے) بالاجماع کافر ہوگا۔

زنا کامفہوم اجماع  سے مسلمہ طور پریہ ثابت ہےکہ  کسی آدمی کا ملک اور شبہ ملک کے بغیر کسی عورت کی آگے کی راہ میں وطی کرنا۔

 اس تعریف میں شبہ ملک کی تشریح، تقسیم اورتطبیق میں شروع  سےصحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین وائمہ دین رحمہم اللہ تعالی کا اختلاف چلا آرہا ہے کہ کونسا شبہ معتبر(مسقط حد )ہےاورکونسا معتبر نہیں؟ شبہ کی بعض صورتیں بالاتفاق معتبر اور مسقط حد ہیں، جبکہ بعض دیگر شبہوں کے معتبر ہونے میں اختلاف رہا ہے۔(جن کی تفصیل مذاہب اربعہ کی کتب  مثلا ہدایہ اوربدایۃ المجتہد میں دیکھی جاسکتی ہے۔)منجملہ ان شبہوں کے شبہ عقد ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی متعدد دلائل کی روشنی میں عقداجارہ کی صورت میں شبہ عقد معتبر مانتے ہیں، جبکہ دیگر ائمہ اس کےقائل نہیں۔(مزید تفصیل دلائل کےضمن میں آگے آرہی ہے،انشاءاللہ تعالی)

فتح القدير - (ج 11 / ص 414):

( قوله ثم الشبهة عند أبي حنيفة تثبت بالعقد ، وإن كان العقد متفقا على تحريمه وهو عالم به ، وعند الباقين لا تثبت هذه الشبهة إذا علم بتحريمه ، ويظهر ذلك في نكاح المحارم ) فصارت الشبهة على قول أبي حنيفة ثلاثة : شبهة الفعل ، وشبهة المحل ، وشبهة العقد ، وكذا قسمها في المحيط .

 امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی مرجوح روایت کی توضیح:

      امام صاحب  رحمہ اللہ تعالی کی مرجوح روایت کےتفصیلی دلائل اورفقہی حیثیت اورمقام کی تفصیل میں جانےسے پہلے امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کے اس موقف کوسمجھنا ضروری ہے، جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ابن حزم جیسےلوگوں نے بھی امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی روایت پراعتراض کیاہے،جس کےعلمی محاسبہ اورتفصیلی ردکےلیےاعلاء السنن(ج۱۱،ص۵۸۵ تا۵۸۹) کامطالعہ کافی ہے۔

پہلی بات یہ ذہن میں رہے کہ اس مقام پر عدم وجوب حد امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے مرجوح روایت ہے، ورنہ اس بارے میں صاحبین رحمہماللہ تعالی  کا مذہب بھی امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے منقول راجح روایت کے طور پر  ہے، جیساکہ در مختار کی  عبارت اس پر دلال ہے،حیث قال: قوله والحق وجوب الحد  أي كما هو قولهما ، نیزاصول افتاء میں یہ مصرح ہے کہ صاحبین رحمہماللہ تعالی نے بھی قسمیں اٹھاکر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی بیان فرمایا ہے وہ ان کی امام صاحب  رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے۔( شرح عقود رسم المفتی)

دوسری بات یہ کہ امام صاحب کی مرجوح روایت بھی فی الجملہ معقول اورمضبوط دلائل پر مبنی تھی،یہاں تک کہ اسکی وجہ سے اس مسئلہ میں ترجیح میں اختلاف بھی واقع ہوا،لیکن محققین نے بعض اصولی اور مضبوط وجوہ کی بنیاد پروجوب حد کی روایت کو ہی ترجیح دی۔(جیسا کہ آگےآتا ہے،انشاءاللہ تعالی۔)

 واضح رہے کہ مرجوح روایت کے مطابق امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کےموقف  کےبارے میں یہاں دو باتیں الگ الگ ہیں:(۱) کسی بد کاری کاباعث حدزناہونا (۲)اوراس بدکاری کاحرام زنا  ، گناہ کبیرہ  اورقابل تعزیرہونا۔

لہذاپیشہ ور عورت  کے ساتھ اجرت دےکر بدکاری کے زنا ، حرام  اور گناہ کبیرہ ہونے میں فقہ حنفی سمیت کسی بھی فقہی مذہب میں کوئی اختلاف اور کلام نہیں، البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اس قسم کی بدکاری زنا کے مخصوص شرعی وقانونی  مفہوم میں داخل ہوکر باعث حد ہےیا نہیں؟ تواس بارے میں امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی ایک مرجوح روایت میں اس کو شبہ عقد(نکاح) کی بنیادپر(بشرطیکہ خودفعل زنا کومعقود علیہ نہ بنایا گیاہو،بلکہ محض غرض وغایت اجارہ قرار دیا گیا ہو)باعث حدنہیں قراردیا گیاہے اوربس،باقی  امام صاحب رحمہ اللہ تعالی نے اس روایت کے مطابق اس عمل کے فی الجملہ زنا اور حرام وگناہ کبیرہ اورقابل تعزیرجرم ہونے کی نفی نہیں فرمائی اورنہ ہی پہلی بات کی نفی دوسری کی نفی کو مستلزم ہے،چنانچہ کتب فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ زنا کا مفہوم لغت اور شرع میں ایک ہی ہے کہ کسی آدمی کا ملک اور شبہ ملک کے بغیر کسی عورت کی آگے کی راہ میں وطی کرنا،البتہ شریعت نے زنا کی خاص نوع پر حد کا حکم جاری فرمایا ہے،لہذا خاص مفہوم کی نفی عام کی نفی کو مستلزم نہیں۔(شامیہ)اور حقیقت یہ ہے کہ یہ  تفصیل صرف اس زنا کے مسئلہ کے ساتھ خاص  نہیں ،بلکہ دیگر حدود میں بھی ایسا ہی ہے،چنانچہ جس طرح  چوری کرنے  یا شراب پینےکی حدجاری ہونے کےلیےچوری یاشراب کا شرعی مفہوم پایا جانا ضروری ہے،مثلا اگر چوری کا مال دس درہم مالیت سے کم کاہویا زبردستی چھینا گیا ہو تواس پر چوری کی حد کے نہ ہونے سےاس کاجائزیا چوری نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اور یہی حال  شراب کے علاوہ  اورکسی نشہ آور مشروب پینے کا ہے،با لکل اسی طرح زنا کے باعث حد ہونے کے لیے زنا کا شرعی مفہوم( جیساکہ سلسلہ سؤالات میں سے ایک سؤال کے جواب میں لکھا جاچکا ہے۔)پایا جانا ضروری ہے،ورنہ (زناکےقانونی شرعی  مفہوم نہ پائے جانے کی صورت میں)اس عمل کو زنا اور گناہ کبیرہ تو  کہیں گے اور اس پرتعزیر(صوابدیدی سزا) بھی جاری ہوگی،لیکن حدشرعی(مخصوص ومتعین شرعی سزا) جاری نہ ہوگی۔

حاصل یہ کہ اجرت دیکرزنا کرنےکےفعل میں شبہ عقدکی وجہ سےحدکی نفی کرنےسے امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی طرف زنا کےجواز واباحت یا اس پر کسی قسم کے سزا نہ ہونے کی نسبت روایۃ ودرایۃ کسی بھی طرح ہر گز درست نہیں۔اسی طرح امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی اس روایت کواستدلالی وفقہی لحاظ سے بالکل بے بنیادقرار دینابھی  علم وانصاف کا خون کرنےکے مترادف ہے۔

 قول امام  رحمہ اللہ تعالی کےفقہی نظائر( نفی حدجواز کومستلزم نہیں۔):

لہذا پہلی بات تو یہ ہوئی کہ حد کی نفی جواز کو مستلزم نہیں،چنانچہ ذخیرہ احادیث  وآثارمیں بھی اس قسم کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ،مثلا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےسنن ترمذی میں مروی ہےکہ جانور کے ساتھ بد فعلی کرنے والے پر حد نہیں، ،اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ(کتاب الآثار امام محمد) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (مبسوط)کے پاس اپنے اپنے دور میں دوایسے آدمی لائےگئے،جنہوں نےکسی جانور سے بد فعلی کی تھی ،لیکن آپ دونوں حضرات صحابہ کرام نے حد جاری نہیں فرمائی ،لیکن اس کے باوجود کوئی بھی مسلمان اس عمل کو جائز نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی کسی محدث یا فقیہ نے ان کے اس ارشاد  یا عملی فیصلےکا یہ مطلب بیان فرمایا ہے،لہذا کسی کام پر حد  ہونے کی نفی  اس کا م کے جائز اور مباح ہونے کی دلیل ہرگز نہیں، ورنہ تو بہت سارے کام ایسے ہیں کہ ان پر حد نہیں،لیکن کوئی مسلمان تو کیا ایک سلیم الفطرت انسان بھی اس کوجائزنہیں سمجھتا،مثلا:پیشاب، گندی وغیرہ  کےپینےیاکھانےپرحدنہیں،لیکن اس سےاس کےجوازپراستدلال درست نہیں۔لہذا امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کا پیشہ ور عورت سے اجرت دیکر زنا پر حد نہ ہونے کی روایت سے زنا کے جواز پر استدلال روایت ودرایت کسی بھی لحاظ سے قطعا درست نہیں۔

الجامع الصحيح سنن الترمذي - (ج 4 / ص 28):

عن بن عباس أنه قال من أتى بهيمة فلا حد عليه

المبسوط لشمس الدين السرسخي - (ج 30 / ص 199):

(قال) في الاصل بلغنا عن على بن أبى طالب رضى الله تعالى عنه أنه أتى برجل أتى بهيمة فلم يحده وأمر بالبهيمة فذبحت وأحرقت بالنار وهذا ليس بواجب عندنا وتأويله أنه فعل ذلك كيلا يعير الرجل به إذا كانت البهيمة باقية۔

نفی حدنفی تعزیرکوبھی مستلزم نہیں:

دوسری بات یہ ہے کہ  حد کی نفی مطلق سزا یا تعزیر کی نفی کو بھی مستلزم نہیں،چنانچہ فقہ حنفی میں  یہ بات نہایت تصریح سے لکھی ہے کہ جس گناہ کے کام پر کسی عارض کی وجہ سے حد جاری نہ ہوسکے تو اس میں تعزیر(یعنی صوابدیدی سزا) ضرور ہے۔لہذا کسی گناہ کے کام پرحد نہ ہونےسے مطلقا شرعی سزا کی نفی پر استدلال بھی باطل ہے۔

رد المحتار - (ج 27 / ص 109):

وأن الضابط أن كل معصية لا حد فيها فللزوج والمولى التعزير

 شبہ کی وجہ سےحد اگرچہ نہیں ،لیکن تعزیر ضرور ہے:

تیسری بات یہ ہے کہ فقہ حنفی میں جہاں جہاں کسی شبہ کی وجہ سے حد زنا ساقط کی گئی ہےتو اس کے ساتھ ساتھ اس پر تعزیر کی تصریح بھی ضرور ہے اور خاص اس جزئی مسئلہ میں بھی تصریح منقول ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک اگرچہ شبہ عقد  کی وجہ سے حد نہیں، لیکن تعزیر اور توبہ کرنے تک قید میں رکھا جائے گا۔

الفتاوى الهندية - (ج 15 / ص 141):

استأجر امرأة ليزني بها أو ليطأها أو قال : خذي هذه الدراهم لأطأك .أو قال : مكنيني بكذا .ففعلت لم يحد وزاد في النظم ولها مهر مثلها ويوجعان عقوبة ويحبسان حتى يتوبا وقال : لا يحدان .كما لو أعطاها مالا بغير شرط بخلاف ما إذا قال : خذي هذه الدراهم لأتمتع بك ؛ لأن المتعة كانت سبب الإباحة في الابتداء فبقيت شبهة كذا في التمرتاشي .

فتح القدير - (ج 11 / ص 441):

ومن شبهة العقد ما إذا استأجرها ليزني بها ففعل لا حد عليه ويعزر ،

امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کےدلائل:

 ایک مسلمہ  اجماعی ضابطہ شرعیہ:

   امام صاحب  رحمہ اللہ تعالی نے اس مقام پر اپنی مرجوح روایت کے مطابق  حد نہ ہونے کی بات ایک مسلمہ ضابطہ شرعیہ کی بنیاد پر فرمائی تھی جواحادیث  اور اجماع امت سے ثابت ہےجس کی بنیاد پرحدزنا کےباب میں تمام فقہاء امت نے متعددمواقع اور صورتوں میں حد زنا کو ساقط فرمایا ہے،چنانچہ  مختلف کتب احادیث کی متعدد احادیث وآثارسے ثابت ہے کہ شبہات سےحدودساقط ہوجاتے ہیں۔

اللباب في الجمع بين السنة والكتاب - (ج 2 / ص 741):

باب إذا استأجر امرأة ليطأها لا تحل له وهو زاني يلقى الله تعالى بكبيرة الزنا إن لم يتب ولكن يسقط الحد عنه للشبهة لأن الأجرة والمهر عبارتان عن معنى واحد قال الله تعالى وآتوهن أجورهن  أي مهورهن فوجدت شبهة النكاح وامتنع الحد لأجلها وقد روى الترمذي عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن كان له مخرج فخلوا سبيله فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة فإن قيل قال الترمذي لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة ويزيد بن زياد ضعيف قيل له مفهوم هذا الكلام أن هذا الحديث مرسل أو موقوف من جميع طرقه إلا ما كان من هذا الطريق فإن كان مرسله صحيحا فالعمل به على أصلنا جائز وإن كان مرسله ضعيفا ومسنده ضعيفا فالإجماع منعقد على العمل بموجبه فإن كل أحد أسقط الحد لشبهة اعتبرها مستدل بهذا الحديث وقد روى ابن ماجه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ادفعوا الحدود ما وجدتم له مدفعا

فإن قيل هذا فيه فتح باب الزنا قيل له لو كان هذا فتح لباب الزنا لوجب أن لا يسقط حد ما لشبهة بل فيه الستر على المسلم وقد ندب الله تعالى إلى الستر حتى شرط في وجوب الحد أن يثبت بأربعة من الشهود ولو نقص عددهم عن أربعة حدوا ومع هذا الشرط قل أن يقام حد ولم يكن في اعتبار هذا الشرط فتح باب الزنا فكيف يكون في اعتبار شبهة من الشبه

نیزدوسری طرف اس کے علاوہ متعدد نصوص  قرآن وسنت وآثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وفقہی آراء سے اس طرح کے اجرت اور معاملہ میں مہر اور نکاح کے شبہ کی تایید ہوتی ہے،لہذا ضابطہ شرعیہ درء الحدود بالشبہات کے مطابق امام صاحب رحمہ اللہ تعالی نے  عقد شبہ کو معتبر مان کر حد زنا کو ساقط قرار دے دیا۔

 قر آن مجید اورموقف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی:

چنانچہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کاارشادہے:فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآَتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً  [النساء/24] کہ ان عورتوں سے جتنا نفع تم نے اٹھایا ہے ان کو اس کی اجرت دو۔

راجح  بلکہ صحیح تفسیر(روح المعانی)کے مطابق اس آیت کا تعلق عقد نکاح شرعی سے ہے،لہذایہاں قرآن مجید نے مہر کو اجرت کے نام سے ذکر فرمایا ہے اور مہر اور اجرت میں مشابہت ہے، اس لیے اس مقام پر مہر کے لیے اجرت کا لفظ بولنے سے اجرت میں مہر کا شبہ پیدا ہو گیا اور مسلمہ ضابطہ شرعی ہے کہ شبہ سے حد ساقط ہوجاتی ہے۔(مبسوط للسرخسی وغیرہ)

المبسوط للسرخسي - (ج 9 / ص 98):

ومعنى هذا أن المهر والأجر يتقاربان قال تعالى {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [النساء: 24] سمى المهر أجراولو قال أمهرتك كذا لأزني بك لم يجب الحد فكذلك إذا قال استأجرتك۔

جبکہ مرجوح تفسیرکےمطابق اس آیت کا تعلق نکاح متعہ کےجواز سےہے،جو بعد میں منسوخ ہوچکا ہےاوراب اس کےبطلان اورحرمت پر اجماع ہے،لہذا اس رائے کے مطابق ابتداء اسلام میں چونکہ نکاح متعہ جائز تھااوربعدمیں منسوخ ہوگیا،لیکن ابتداءاس کے نسخ میں فی الجملہ اختلاف ہونے کے باعث اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ مختلف فیہ نکاحوں کی وجہ سے حد نہیں جاری ہوگی، چنانچہ نکاح متعہ کےساتھ وطی کرنے پر بھی بالاتفاق حد نہیں، البتہ اجرت دیکر وطی کرنے کے بارے میں اختلاف ہے،امام صاحب رحمہ اللہ تعالی نےاسے بھی نکاح متعہ کے ساتھ ملحق قرار دیکر مسقط حد قرار دیدیا، جبکہ دیگر اہل علم  اس کو نکاح متعہ کے ساتھ ملحق نہیں مانتے۔(اعلاء السنن:ج۱۱،ص۵۸۸)

تفسير مدارك الترتيل وحقائق التأويل - (ج 1 / ص 221):

وقيل : إن قوله «فما استمتعتم» نزلت في المتعة التي كانت ثلاثة أيام حين فتح الله مكة على رسوله ثم نسخت .

الفتاوى الهندية - (ج 15 / ص 141):

بخلاف ما إذا قال : خذي هذه الدراهم لأتمتع بك ؛ لأن المتعة كانت سبب الإباحة في الابتداء فبقيت شبهة كذا في التمرتاشي .

اعلاء السنن-(ج11،ص588):

 وقد اتفقوا علی درء الحد عمن تمتع بامراۃ وانما اختلفوا فی من استاجرھا للوطئ لکونھم لم یعدوا ذالک من المتعۃ وعدہ ابوحنیفۃ منھا ورآہ شبیھا بھا۔

حدیث  نبوی اورموقف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی:

ترمذی شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہےکہ:

الجامع الصحيح سنن الترمذي - (ج 3 / ص 166)

عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها۔

"یعنی جو عورت اپنا نکاح اپنی ولی کی اجازت کے بغیر خود کرے اس کا نکاح باطل ہے،باطل ہے،باطل ہے، سو اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کرلے تو اس عورت کےشرمگاہ کو استعمال کرنے کی وجہ سے اس مرد پراس کا مہرلازم ہوگا۔"

ترمذی کی اس روایت میں بطلان عقدنکاح کی تصریح کے باوجود وطی کرنے پر مہر کو واجب قرار دینا شبہ عقد نکاح کےمعتبر ہونے کی واضح دلیل ہے۔(ماخوذ ازامدادالفتاوی:ج۳،ص۳۳۹)

 آثار صحابہ  رضی اللہ تعالی عنہم اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی:

 حدیث مرفوع کے علاوہ آثار صحابہ  رضی اللہ عنہم سے بھی اس کی توثیق ہوتی ہے، چنانچہ ابن حزم نے محلی میں اور امام سرخسی رحمہ اللہ تعالی نے مبسوط میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی دو واقعات سے امام صاحب  رحمہ اللہ تعالی نے اپنے موقف پر استدلال فرمایا ہے،جن میں ہر واقعہ میں مرد نے عورت سے اجرت کے عوض جنسی استفادہ کیا ،لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےتعیین اجرت کی وجہ سے حد ساقط فرمادی۔

یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں،ایک تو امام سرخسی رحمہ اللہ تعالی نےانہیں حدیث کے عنوان سے ذکر فرماکر اشارہ فرمادیا کہ حد کے بارے میں قیاس کو چونکہ دخل نہیں ،لہذا عمر رضی اللہ عنہ کے یہ دو فیصلے مرفوع روایت کے حکم میں ہیں،دوسری بات یہ کہ اعلاء السنن میں ان دونوں روایات کی سند کو والسندان رجالھما رجال الثقات  کہا ہے کہ ان کے راوی ثقہ ہیں ،لہذادونوں روایات واحادیث سندا بھی صحیح  اورقابل استدلال ہیں۔

المبسوط للسرخسي - (ج 9 / ص 97):

ولكن أبو حنيفة رحمه الله احتج بحديثين ذكرهما عن عمر رضي الله عنه أحدهما ما روى أن امرأة استسقت راعيا فأبى أن يسقيها حتى تمكنه من نفسها فدرأ عمر رضي الله عنه الحد عنهما والثاني أن امرأة سألت رجلا مالا فأبى أن يعطيها حتى تمكنه من نفسها فدرأ الحد وقال هذا مهر ولا يجوز أن يقال إنما درأ الحد عنها لأنها كانت مضطرة تخاف الهلاك من العطش لأن هذا المعنى لا يوجب سقوط الحد عنه وهو غير موجود فيما إذا كانت سائلة مالا كما ذكرنا في الحديث الثاني مع أنه علل فقال إن هذا مهر۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی فقہی بصیرت:

    واضح رہے کہ حضرت امام صاحب رحمہ اللہ تعالی نےصراحۃ نفس زنا پراجارہ کوجائز نہیں قراردیا،اس لیے کہ زنا کےمعصیت ہونے کے باعث ایسا اجارہ باطل ہے،لہذا صریح عقد زنا پر اجارہ کی صورت میں امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کےنزدیک  زنا کرنےکی صورت میں حد جاری ہوگی،بلکہ مقصود یہ ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کےنزدیک جہاں اجارہ تسلیم نفس پرہو اورلفظ زنایااس کےمعنی پردال الفاظ سے،مثلا وطی،تمکین علی النفس وغیرہ سے اس کی غرض وغایت نیت میں ہو یا نیت کے مطابق  ذکربھی کردےجیساکہ اس مسئلہ سے متعلق فقہی عبارات سے واضح ہوتا ہے تو ایسی صورت  میں یہ اجارہ فاسدہ ہے جو کہ مشروع باصلہ اور غیر مشروع بوصفہ ہے،لہذااس میں شبہ عقد نکاح معتبر مان کو اس کو مسقط حدماناہے،لہذا جہاں اجارہ میں نہ تو زنا یا مفہوم زنا معقود علیہ ہواورنہ ہی غرض وغایت کے طور پر ذکرہوجیساکہ استیجار للطبخ وغیرہ  تو ایسی صورت میں زنا بالاتفاق موجب حدہے،اس لیےکہ اس میں شبہ عقد نہیں۔(ماخوذاز امداد الفتاوی:ج۳،ص۳۳۶ واعلاء السنن:ج۱۱،ص۵۸۷)

الفتاوى الهندية - (ج 15 / ص 141):

استأجر امرأة ليزني بها أو ليطأها أو قال : خذي هذه الدراهم لأطأك أو قال : مكنيني بكذا .ففعلت لم يحد وزاد في النظم ولها مهر مثلها ويوجعان عقوبة ويحبسان حتى يتوبا وقال : لا يحدان .كما لو أعطاها مالا بغير شرط بخلاف ما إذا قال : خذي هذه الدراهم لأتمتع بك ؛ لأن المتعة كانت سبب الإباحة في الابتداء فبقيت شبهة كذا في التمرتاشي .ولو قال : أمهرتك كذا لأزني بك لم يجب الحد كذا في الكافي ۔

فتح القدير - (ج 11 / ص 441):

ومن شبهة العقد ما إذا استأجرها ليزني بها ففعل لا حد عليه ويعزر ، وقال : هما والشافعي ومالك وأحمد : يحد لأن عقد الإجارة لا يستباح به البضع فصار كما لو استأجرها للطبخ ونحوه من الأعمال ثم زنى بها فإنه يحد اتفاقا .

وله أن المستوفى بالزنا المنفعة وهي المعقود عليه في الإجارة لكنه في حكم العين ، فبالنظر إلى الحقيقة تكون محلا لعقد الإجارة فأورث شبهة ، بخلاف الاستئجار للطبخ ونحوه لأن العقد لم يضف إلى المستوفى بالوطء والعقد المضاف إلى محل يورث الشبهة فيه لا في محل آخر .

وفي الكافي : لو قال أمهرتك كذا لأزني بك لم يجب الحد ، وهكذا لو قال : استأجرتك أو خذي هذه الدراهم لأطأك .

 راجح روایت:

   اس مسئلہ میں  چونکہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی مرجوح روایت بھی مضبوط ومعقول دلائل پر مبنی تھی، اس لیے  ترجیح میں مشایخ احناف رحمہم اللہ تعالی  کا اختلاف ہوا ہے،بعض (مثلا صاحب نہر وغیرہ)نے امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی اس روایت کو ترجیح دی ہے ،لیکن محقق اعظم علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی نےوجوب حد کی روایت کو ترجیح دی ہے، جوصاحبین رحمہماللہ تعالی سے منقول ہے۔

 مرجوح کی وجہ مرجوحیت:

     علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی نے عدم وجوب حد کی روایت کوباوجود یکہ معقول(عقلی ونقلی) دلائل پر مبنی تھی، محض اس لیے مرجوح قرار دیا کہ لفظ استئجاریامہر کی وجہ سےفعل زنامیں شبہ عقد کومعتبر ماننےسے  کتاب اللہ کے نص قطعی(سےثابت فعل زنا پروجوب حد)سے قیاس کامعارضہ لازم آرہا تھا۔(اورقیاس کی تایید میں صرف اخبار آحاد ہیں جو ظنی ہونے کے باعث  کتاب اللہ کی تقیید کے لائق بھی نہیں۔)

فتح القدير - (ج 11 / ص 441):

والحق في هذا كله وجوب الحد إذ المذكور معنى يعارضه كتاب الله ، قال الله تعالى { الزانية والزاني فاجلدوا } فالمعنى الذي يفيد أن فعل الزنا مع قوله : أزني بك لا يجلد معه للفظة المهر معارض له  ۔

اعلاء السنن-(ج11/587):

فان لفظۃ المھروالاستئجارونحوھمالاتعمل مع قولہ ازنی بک شیئا،لکونہ معارضالقولہ تعالی { الزانية والزاني} صریحا نبہ علیہ ابن الھمام۔

خلاصہ کلام:

حاصل یہ کہ صاحبین اور جمہور ائمہ رحمہم اللہ تعالی کےنزدیک شبہ کی صرف دوقسمیں(شبہ فعل اورشبہ محل) معتبر ہیں،جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی نےمرجوح روایت کے تحت شبہ عقد کابھی اعتبارفرمایاہے،چنانچہ اجرت دیکرزنا کرنے میں عقد نکاح کےساتھ مشابہت ہے کہ اس میں بھی مردعورت کی رضامندی اورآپس کے ایجاب وقبول  سے کسی مہر کے عوض میں عورت سے جنسی استفادہ کرتا ہے،لہذا اجرت دیکر زنا کرنے میں عقد نکاح کے ساتھ ایک قسم کی مشابہت تھی اورشبہ حد کے ساقط کرنے کا باعث تھا،لہذا امام صاحب رحمہ اللہ تعالی نے شبہ عقد کو اس حدیث کی روشنی میں معتبر مان کر اس کو مسقط حد قرار دیا۔

 نیزپیشہ ور عورت  کے ساتھ بدکاری کے زنا اورحرام  اور گناہ کبیرہ ہونے میں کوئی اختلاف اور کلام نہیں، اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ ایسا زنا حدشرعی جاری کرنے کا باعث ہے یا نہیں؟ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی  کی مرجوح روایت کے مطابق موجب حد تو نہیں،(لیکن موجب تعزیر ضرور ہے،)اس لیے کہ اس میں عقدنکاح کے ساتھ ایک گونہ مشابہت ہےاورشبہ عقدبھی ان کےنزدیک مسقط حدہے،جبکہ صاحبین رحمہماللہ تعالی شبہ عقد کےمسقط حدہونے کے قائل نہیں،نیزاگرچہ اس مسئلہ میں ترجیح میں اختلاف واقع ہوا چنانچہ کئی اہل علم نے امام صاحب رحمہ اللہ تعالی کی روایت عدم وجوب حد کو مضبوط دلائل پر مبنی ہونے کی وجہ سے ترجیح دی تھی، لیکن متاخرین محققین کےنزدیک راجح روایت وجوب حد ہی کی ہے ۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 15 / ص 82):

( ولا ) حد ( بالزنا بالمستأجرة له ) أي للزنا .

والحق وجوب الحد كالمستأجرة للخدمة فتح ( ولا بالزنا بإكراه )

 ( قوله والحق وجوب الحد ) أي كما هو قولهما ، وهذا بحث لصاحب الفتح ، وسكت عليه في النهر والمتون والشروح على قول الإمام۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳محرم۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب