| 84194 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک گرافک ڈیزائنر اور فوٹو شاپ آرٹسٹ ہوں۔ میرے ایک انگریز کلائنٹ نے مجھے ایک پراڈکٹ کی فوٹو پر اس کا لوگو لگانے اور رنگ تبدیل کرنے کا کام دیا۔ کام کرنے کے دوران مجھے پتا چلا کہ یہ پراڈکٹ ایک سیکس ٹول ہے، جو غالباً مردانہ خود لذتی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہم جس انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر کام کرتے ہیں وہاں ہم کلائنٹ کا آرڈر کینسل کریں تو پلیٹ فارم ہمیں بلاک کر دیتا ہے، لہذا مجبوراً یہ آرڈر مکمل کر کے اجرت وصول کر لی۔کیا یہ کام کرنے کی اجرت حلال ہے؟یاد رہے کہ میں نے صرف اس پراڈکٹ کی تصویر ایڈٹ کی یعنی تصویر کا رنگ تبدیل کیا اور لوگو چسپاں کیا ہے۔اگر یہ اجرت حلال نہیں تو پھر ان پیسوں کا کیا کروں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کا یہ عمل گناہ میں معاونت کے زمرے میں آتاہے ، جو جائز نہیں، لہذااس کام کی اجرت بھی حلال نہیں ہے۔حرام آمدنی کو بلا نیت ثواب غریبوں پر صدقہ کر دیں اور اس عمل پر استغفار کریں ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(المائدة:2):
وتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55):
(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)۔۔۔ وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة ۔
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
02/ محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


