03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں تمام جائیداد کسی  کو ہبہ کرنے کا حکم
84703ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

امروز ولد دولت گل مرحوم کی نرینہ یا زنانہ اولاد نہیں تھی، لہذا اس نے زندگی میں اپنے بھتیجے جمروز خان ولد فرسادکو بچپن کی حالت میں بیٹا بنا یا، پرورش کی  ، اس کی شادی کروائی،یہاں تک کہ شناختی کارڈ بھی اپنے    نام کا بنوا کر اپنے حصے کی ساری جائیداد رضامندی کے ساتھ اسٹامپ لکھ کرگواہوں کی موجودگی میں قبضہ سمیت اس کے حوالے کر دی، نیز اسٹامپ پر لکھوایا کہ میں نے بخوشی اور رضامندی مذکورہ 23 مرلہ جائیداد مشتمل بر ایک عدد مکان ،تین عدد دکانیں اور ایک عدد کوارٹر اپنے سگے اور حقیقی بیٹے جمروز خان ولد امروز خان کو بطور حصہ خود حوالہ کر دیا اور آج کے بعد جمروز خان کی ملکیت تصور ہوگا اور جمروز خان میرے 23 مرلہ مذکورہ جائیداد کا واحد مالک و قابض ہوگا اور میرے جملہ ورثہ کا کسی قسم کا اعتراض وغیرہ نہ ہوگا اور نہ وہ کرنے کے مجاز ہوں گے ۔اب اسٹامپ کے جملہ گواہان زندہ ہیں اور اب بھی گواہی دینے کو تیار ہیں، نیز گواہی کے وقت کی تصویر بھی موجود ہے ۔اب چند مہینے پہلے امروز خان اچانک فوت ہو گیا ۔تو کیامرحوم کے دیگر ورثہ بھائی بہن وغیرہ میراث کے مستحق ہیں یا نہیں؟ یعنی دعوی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

یہ مرض الموت  کے وقت کا وصیت نامہ نہیں ہے، بلکہ موت سے پہلے بحالت صحت  و تندرستی تملیک و ہبہ کا اقرارنامہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی شخص کو  اپنی زندگی میں بحالت صحت  وبقاء   ہوش و حواس اپنی مملوکہ  جائیداد  میں  ہر قسم کے جائز تصرفات کا  حق حاصل ہے، چنانچہ اگر کوئی اپنی پوری جائیداد یا اس کا کچھ حصہ  کسی کو بطور ہبہ دینا چاہے تودے سکتا ہے اور ہبہ کرنے کے بعد قبضہ دے دینے سے وہ مال اس کی ملکیت سے بھی نکل جائے گا۔البتہ  اس طرح ہبہ کرنے کا مقصد اگر دیگر ورثہ کو محروم کرنا یا ضرر پہنچانا ہو تویہ نا جائز ہےاور ایسا کرنے والا گناہگار ہوگا اور اگر کسی اشد ضرورت یا مجبوری کی وجہ سے کیا ہو تو گناہگار نہ ہوگا۔

چنانچہ اگر  سائل کا بیان درست ہے کہ جائیداد  امروز خان نے اپنی زندگی میں  اپنے منہ بولے بیٹے جمروز خان کو ہبہ کرکے ملکیت میں دے دی تھی تو وہ اب جمروز خان کی ہی ہے ، امروز خان کی وفات کے بعد اس کے دیگر ورثہ کا اس میں حق نہیں ،البتہ مذکورہ جائیداد کے علاوہ کوئی اور جائیداد امروز خان نے چھوڑی ہو تو اس میں دیگر ورثہ کا حق ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار و   حاشية ابن عابدين :(5/ 688):

(و)شرائط صحتها(في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم).

الفتاوى الهندية:(4/ 377):

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة فالصريح أن يقول: اقبضه إذا كان الموهوب حاضرا في المجلس ويقول اذهب واقبضه إذا كان غائبا عن المجلس ثم إذا كان الموهوب حاضرا، وقال له الواهب: اقبضه فقبضه في المجلس أو بعد الافتراق عن المجلس صح قبضه وملكه قياسا واستحسانا، ولو نهاه عن القبض بعد الهبة لا يصح قبضه لا في المجلس ولا بعد الافتراق عن المجلس، وإن لم يأذن له بالقبض صريحا ولم ينهه عنه إن قبضه في المجلس صح قبضه استحسانا لا قياسا، وإن قبضه بعد الافتراق عن المجلس لا يصح قبضه قياسا واستحسانا، ولو كان الموهوب غائبا فذهب وقبض: إن كان القبض بإذن الواهب جاز استحسانا لا قياسا، وإن كان بغير إذنه لا يجوز قياسا واستحسانا، هكذا في الذخيرة.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

24/ صفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب