| 84686 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرے بچے کے دل کا مسئلہ ہے، پاکستان میں اس کا علاج موجود نہیں ۔اگر اللہ تعالی نے پیدائش پہ صورت حال نہ بدلی تو بچہ کچھ ہی دن زندہ رہ پائے گا ۔کچھ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اگر شریعت اجازت دےتو بچہ پیٹ میں ختم کر دیں ۔ بچہ چھ مہینے کا ہو چکا ہے ،اگر میں پیدائش کا انتظار کروں اور اس کا علاج نہ کرواؤں توکیا یہ بھی شریعہ کے اعتبار سے غلط ہوگا ؟اگر چہ اس کا علاج موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچہ دو تین دن تک ہی زندہ رہ پائے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں بچہ کو پیٹ میں ختم کرنا جائز نہیں ،اگر علاج ممکن ہو توعلاج کرتے ہوئے اللہ تعالی سے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر علاج ممکن نہیں یا آپ کی استطاعت میں نہیں توآپ پر اس حوالہ سے کوئی حرج نہیں ۔پیدائش کے بعد اس کو زندہ رکھنا آپ کی ذمہ داری نہیں،جتنے دن زندہ رہے اللہ کی مرضی۔لیکن اس خدشے سے ابھی اس کو ختم کردینا جائز نہیں۔ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق بچے میں زندہ رہنے کی صلاحیت نہ تھی لیکن بعد میں وہ بچہ پیدا ہوکر بڑا ہوگیا اور بھرپور زندگی گزاری۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 374):
وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث۔
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
20/ صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


