03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں الیکٹرک سگریٹ استعمال کرنے کا حکم
85059جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

           السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !

کیا فرماتے ہیں  ؟علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک الیکٹرک ڈیوائس(Pod)اور(Vape)کے نام سے نوجوان سگریٹ کے متبادل  کےطورپراستعمال کرتے ہیں،جس کے استعمال کے وقت منہ سے دھواں بھی نکلتا ہے ،اس کا مسجد میں استعمال کرنا کیسا ہے؟کس حکم میں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہےاور  اللہ تعالیٰ کے نزدیک  روئے زمین پر سب سے پسندیدہ جگہ مسجد ہے۔مسجد  عبادت کے لیے مختص ہے،اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔مسجد میں غیرمعتکف اور غیرمسافرکےلیے  شدید مجبوری کےعلاوہ  کھانا،پینا اورسونا فقہاء نے مکروہ قراردیاہے،یہاں تک کہ   مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے  سے  حدیث شریف میں  صریح ممانعت آئی ہے،حالانکہ یہ  چیزیں عام حالات اور مقامات میں بالکل جائز ہیں ۔الیکٹرک سگریٹ اگر مضر صحت اور بدبودار نہ ہوتو اس کا استعمال فی نفسہ مباح ہے،لیکن  پھر بھی  بہت ساری چیزوں میں  یہ اصلی سگریٹ کی طرح ہے اور  اس کا استعمال کرنا اکثر لوگوں کے  ہاں معیوب اور غیر صلحا ءکی عادت سمجھی جاتی ہے،نیز یہ عمل مسجد کی شان کے خلاف ہے،لہذامسجد میں سگریٹ کے متبادل الیکٹرک  ڈیوائس استعمال کرنا مکروہ ہے ۔

حوالہ جات

أخرج الإمام مسلم  رحمہ اللہ في "صحیحہ"((283/1(الحدیث رقم:(1528من حدیث أبي ھریرۃ  رضي اللہ عنہ،أن رسول اللہ قال:"أحب البلاد إلى اللّہ مساجدها وأبغض البلاد إلى اللّہ أسواقہ".

أخرج الإمام البیھقي رحمہ اللہ  في "شعب الإیمان"((87/3(الحدیث رقم(2962: من حدیث حسن رضي اللہ عنہ أنہ قال:قال رسول   اللہ z  :  یأتي علی الناس زمان یکون حديثهم في مساجدهم في أمر دنیاهم فلا تجالسوهم فلیس للّہ  فیهم حاجة.

      قال العلامۃ  الشیخ نظام و جماعۃ من علماء الھندرحمھم اللہ تعالیٰ:  ويكره النوم والأكل فيه لغير المعتكف.)الفتاوی العالمگریۃ:(321/5  

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ:وبالجملة ،إن ثبت في هذا الدخان إضرارٌ صرفٌ خال عن المنافع ،فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه، فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين ؛فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه ،وما خير رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما.(العقودالدریۃفي تنقیح الفتاوی الحامدیۃ(332/2:

       قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ:قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها"الصلح بين الإخوان في إباحةشرب ‌الدخان"وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ،ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره.(ردالمختارعلی الدرالمختار:(459/6

  جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم          

  دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

  16ربیع الثانی1446ھ         

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب