| 84708 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
فون پر نکاح جائز ہے؟جس کی صورت یہ ہوکہ لڑکی نکاح پڑھانے والے کو فون پر وکیل بنادےاور پھر وہ اس مرد اور دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھادے تو نکاح منعقد ہوجائے گا؟ یا ایسا طریقہ کار بتادیاجائے جس سے لڑکی براہ راست اس تقریب میں شامل نہ ہو،اور نکاح ہوجائے جس سے وہ دونوں زنا سے بچ جائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کا اصل طریقہ یہ ہے کہ نکاح کرنے والا مرد اور عورت مجلسِ نکاح میں موجود ہوں اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کریں، بلاوجہ اس طریقے کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تاہم ہمارے معاشرے میں عموماً لڑکی کی طرف سے وکیل ہی مجلسِ نکاح میں آتا ہے، لڑکی خود نہیں آتی تو اس طرح بھی نکاح درست ہوجاتا ہے۔ لڑکی یا لڑکا کسی کو اپنا وکیل بنا کر مجلسِ نکاح میں بھیج دیں تو اس میں بھی حرج نہیں، لہٰذا جس مجلس میں گواہ موجود ہیں، اسی میں اگر لڑکا یا لڑکی یا دونوں کسی کو اپنا وکیل بنا دیں تو نکاح درست ہوجائے گا۔ لیکن فون پر اس طرح نکاح کرنا کہ لڑکا کہیں اور، اور لڑکی کہیں اور ہو اور دونوں آپس میں ایجاب و قبول کریں تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتاہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی (3/ 13):
ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.قوله: (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد.
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی(3/ 10):
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)؛ لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر: (تزوجت).
قوله: (كزوجت نفسي ) أشار إلى عدم الفرق بين أن يكون الموجب أصيلا أو وليا أو وكيلا….. قوله: (ويقول الآخر تزوجت) أي أو قبلت لنفسي أو لموكلي أو ابني.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


