| 85453 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:تنقیح: فی الوقت مرحوم کی تین بہنیں اور مرحوم کےبھتیجےمیراث کےحصےکادعوی کررہےہیں تو کیاحکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ بیوہ کےقبضہ میں جائیدادکےعلاوہ مرحوم کی ملکیت میں اگردیگرجائیداد ہوتوموجود ورثہ میں تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کی بیوہ کو کل مال کا(ربع) چوتھائی حصہ ملےگا، تین بہنوں کو کل مال کادوتہائی (ثلثین) ملےگا(تینوں میں برابرتقسیم ہوگا)،اس کےبعدجومال بچےتو وہ مرحوم کےبھتیجوں میں برابرتقسیم ہوگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتو 25%فیصد بیوہ کا ہوگا،66.66%فیصدحصہ تین بہنوں میں برابرتقسیم ہوگا،اورباقی 8.333%فیصدحصہ بھتیجوں میں تقسیم ہوگا،جتنےبھتیجےزندہ ہیں ،تمام بھتیجوں میں برابرتقسیم ہوگا۔
حوالہ جات
"سورۃ النساء" آیت 12: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
"صحيح البخاري" 6 / 2476:عن ابن عباس رضي الله عنهما : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر )
[ ش أخرجه مسلم في الفرائض باب ألحقوا الفرائض بأهلها رقم 1615 :
( ألحقوا الفرائض بأهلها ) أعطوا الأنصباء المقدرة في كتاب الله تعالى لأصحابها المستحقين لها . ( فما بقي ) فما زاد من التركة عن أصحاب الفروض . ( فلأولى ) لأقرب وارث من العصبات ]
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
14/جمادی الاولی 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


